Results 1 to 6 of 6

Thread: وہ حیرت انگیز جانور جو آج دنیا میں موجود نہ

  1. #1
    Join Date
    Aug 2015
    Location
    N/A
    Posts
    559
    Thanks
    1,372
    Thanked 1,010 Times in 386 Posts
    Time Online
    1 Week 5 Days 10 Hours 42 Minutes 55 Seconds
    Avg. Time Online
    34 Minutes 41 Seconds
    Rep Power
    103

    Default وہ حیرت انگیز جانور جو آج دنیا میں موجود نہ


    وہ حیرت انگیز جانور جو آج دنیا میں موجود نہیں

    ہمارے اس رنگا رنگ کرہ ارض کو عطا کردہ رنگینی میں ایک بڑا کردار جنگلی حیات کا بھی ہے اور دنیا میں جانوروں کی لاکھوں اقسام پائی جاتی ہیں- لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان جانوروں کی چند اقسام ایسی بھی ہیں جو اب دنیا میں موجود نہیں- ان جانوروں کے ناپید ہونے کی بنیادی وجوہات میں آبادی میں اضافہ٬ ماحولیاتی تبدیلی اور جنگلات کی بہت زیادہ کٹائی شامل ہے- ہمارے آج کے آرٹیکل میں چند ایسے ہی جانوروں کا ذکر موجود ہے جو آج دنیا میں موجود نہیں-


    Malagasy Hippopotamus
    یہ دریائی گھوڑا آج کے جدید دریائی گھوڑے کے مقابلے میں کچھ چھوٹا ہوتا تھا اور مڈغاسکر میں پایا جاتا تھا- ابتدا میں اندازہ لگایا گیا کہ یہ دریائی گھوڑے دنیا میں ایک ہزار سال قبل پائے جاتے تھے لیکن نئے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ دریائی گھوڑوں کی اس خاص قسم کا اختتام 1970 میں ہوا-

    [img]

    [/img] جاری ہے

  2. The Following 2 Users Say Thank You to imran3565378 For This Useful Post:

    Danish ch (13-12-2016), Khushi25 (14-12-2016)

  3. #2
    Join Date
    Aug 2015
    Location
    N/A
    Posts
    559
    Thanks
    1,372
    Thanked 1,010 Times in 386 Posts
    Time Online
    1 Week 5 Days 10 Hours 42 Minutes 55 Seconds
    Avg. Time Online
    34 Minutes 41 Seconds
    Rep Power
    103

    Default


    Baiji
    اس ڈولفن کو کئی ناموں سے جانا جاتا جاتا جس میں چینی دریائی ڈولفن اور Yangtze دریائی ڈولفن کے نام شامل ہیں- یہ میٹھے پانی کی ڈولفن تھی اور چین کے Yangtze نامی دریا میں پائی جاتی تھی- بہت زیادہ ماہی گیری کی وجہ سے 1970 کے بعد یہ ڈولفن ختم ہونا شروع ہوگئیں اور آخری ڈولفن 2002 میں ختم ہوئی-





    یہ ٹائیگر انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں عام پائے جاتے تھے اور یہ ٹائیگر کی ایک انتہائی چھوٹی قسم تھی- 20ویں صدی میں اس جزیرے کی آبادی میں بےپناہ اضافہ ہوا اور جنگلات کی کٹائی ہوئی تو ان ٹائیگر کی بقا کو خطرات لاحق ہوگئے اور 1993 سے یہ ناپید ہونا شروع ہوگئے-





    Steller's Sea Cow
    یہ سمندری جانور بحر اوقیانوس میں کثیر تعداد میں پایا جاتا تھا- لیکن کھال کے تاجروں نے اس جانور کے گوشت اور کھال کے حصول کے لیے اس کا بعد کثیر تعداد میں شکار کیا جس کی وجہ سے یہ سمندری جانور معدومی کے خطرے سے دوچار ہوگیا- یہ سمندری گائے اپنی دریافت کے صرف 27 سال بعد ہی ختم ہوگئی-




  4. The Following User Says Thank You to imran3565378 For This Useful Post:

    Khushi25 (14-12-2016)

  5. #3
    Join Date
    Aug 2015
    Location
    N/A
    Posts
    559
    Thanks
    1,372
    Thanked 1,010 Times in 386 Posts
    Time Online
    1 Week 5 Days 10 Hours 42 Minutes 55 Seconds
    Avg. Time Online
    34 Minutes 41 Seconds
    Rep Power
    103

    Default



    تیندوے کی یہ خاص قسم تائیوان سے تعلق رکھتی تھی اور یہ ایک انتہائی نایاب قسم بھی تھی-تاہم بہت زیادہ جنگلات کی کٹائی سے ان جانوروں کے قدرتی مسکن کو شدید نقصان پہنچا اور وہ تباہ و برباد ہوگئے- یہاں تک کہ سال 2004 میں تیندوے کی اس نایاب قسم کے ناپید ہونے کا اعلان کر دیا گیا- رات میں 13 ہزار کیمرے لگا کر اسے تلاش کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس کی موجودگی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی-




  6. The Following User Says Thank You to imran3565378 For This Useful Post:

    Khushi25 (14-12-2016)

  7. #4
    Join Date
    Aug 2015
    Location
    N/A
    Posts
    559
    Thanks
    1,372
    Thanked 1,010 Times in 386 Posts
    Time Online
    1 Week 5 Days 10 Hours 42 Minutes 55 Seconds
    Avg. Time Online
    34 Minutes 41 Seconds
    Rep Power
    103

    Default


    Chinese Paddlefish
    بعض اوقات اس مچھلی کو Elephant مچھلی کے حوالے سے بھی جانا جاتا تھا اور یہ میٹھے پانی کی ایک بہت بڑی مچھلی تھی- لیکن بہت زیادہ مچھلی کے شکار نے 1980 میں مچھلی کی اس خاص نسل کی بقا کو شدید خطرے سے دوچار کردیا- آخری مرتبہ یہ مچھلی چین کے Yangtze نامی دریا میں جنوری 2003 میں دیکھا گیا اور اب یہ مکمل طور پر ناپید ہوچکی ہے-






    Pyrenean Ibex
    پہاڑی بکرے کی اس خاص قسم کا تعلق جزیرہ نما Iberian سے تھا- لیکن 19ویں اور 20ویں صدی میں بہت زیادہ شکار کی وجہ سے پہاڑی بکروں کی یہ خاص نسل تیزی سے کم ہونے لگی- 20ویں صدی کے دوسرے حصے میں علاقے میں ان پہاڑی بکروں کی تعداد انتہائی کم رہ گئی یہاں تک کہ سال 2000 میں یہ بالکل ہی ناپید ہوگئے-






    Dodo
    یہ پرندہ موریشیس نامی جزیرے سے تعلق رکھتا تھا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پرندہ اڑنے کی صلاحیت سے محروم تھا- دریافت ہونے والی باقیات کے مطابق اس پرندے کا وزن تقریباً 21 کلوگرام تک ہوا کرتا تھا جبکہ اس کی لمبائی ایک میٹر تک ہوتی تھی- اب اس پرندے کی موجودگی ہمیں صرف ڈرائنگ اور پینٹنگز میں ہی دکھائی دیتی ہیں-




  8. The Following 3 Users Say Thank You to imran3565378 For This Useful Post:

    Danish ch (13-12-2016), Khushi25 (14-12-2016), saqi870 (13-12-2016)

  9. #5
    Join Date
    Apr 2015
    Location
    London
    Posts
    451
    Thanks
    2,112
    Thanked 1,095 Times in 394 Posts
    Time Online
    4 Days 6 Hours 29 Minutes 10 Seconds
    Avg. Time Online
    9 Minutes 23 Seconds
    Rep Power
    619

    Default

    Thanks for sharing dear

  10. The Following User Says Thank You to Khushi25 For This Useful Post:

    imran3565378 (14-12-2016)

  11. #6
    Join Date
    Aug 2015
    Location
    N/A
    Posts
    559
    Thanks
    1,372
    Thanked 1,010 Times in 386 Posts
    Time Online
    1 Week 5 Days 10 Hours 42 Minutes 55 Seconds
    Avg. Time Online
    34 Minutes 41 Seconds
    Rep Power
    103

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •