Page 10 of 18 FirstFirst ... 67891011121314 ... LastLast
Results 91 to 100 of 176

Thread: شعرلکھیں لفظ ہم بتاتے ھیں

  1. #91
    Join Date
    May 2009
    Location
    LAHORE
    Posts
    5,438
    Rep Power
    2651

    Default



    بہت ہی کمال کی لفظ دیا ہے جواں دل بھائی
    فوراً جو نظم دماغ میں آئی


    کبھی تو نے خود بھی سوچا، کہ یہ پیاس ہے تو کیوں ہے
    تجھے پا کے بھی مرا دل جو اداس ہے تو کیوں ہے
    مجھے کیوں عزیز تر ہے یہ دھواں دھواں سا موسم
    یہ ہوائے شام ہجراں، مجھے راس ہے تو کیوں ہے
    تجھے کھو کے سوچتا ہوں، مرے دامن طلب میں
    کوئی خواب ہے تو کیوں ہے کوئی آس ہے تو کیوں ہے
    میں اجڑ کے بھی ہوں تیرا، تو بچھڑ کے بھی ہے میرا
    یہ یقین ہے تو کیوں ہے، یہ قیاس ہے تو کیوں ہے
    مرے تن برہنہ دشمن، اسی غم میں گھل رہے ہیں
    کہ مرے بدن پہ سالم، یہ لباس ہے تو کیوں ہے
    کبھی پوچھ اس کے دل سے کہ یہ خوش مزاج شاعر
    بہت اپنی شاعری میں جو اداس ہے تو کیوں ہے
    ترا کس نے دل بجھایا، مرے اعتبار ساجد
    یہ چراغ ہجر اب تک، ترے پاس ہے تو کیوں ہے
    ـــــــــــــــــــــــــــــ
    ''غنچہ''
    ــــــــــــــــــــــــ

  2. #92
    Join Date
    May 2009
    Location
    LAHORE
    Posts
    5,438
    Rep Power
    2651

    Default

    حیران ہوں کہ آج 19 دن ہو چلے ہیں مگر لفظ غُنچہ سے کسی بھائی نے شعر نہیں دیا
    اور خاص کر جواں دل بھائی نے
    میرے خیال سے تو جواں دل بھائی کہ لیے یہ لفظ انتہائی آساں ہے

  3. #93
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,796
    Rep Power
    1445

    Default

    غنچہ لفظ کے ساتھ ایک تو ذوق کا مشہور زمانہ شعر ہے


    پھول تو دو دن بہار جاں فزا دکھلا گئے
    حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھاگئے

    -------------------------------

    مزید اشعار بھی ہیں

    میں اور اس غنچہ دہن کی آرزو
    آرزو کی سادگی تھی میں نہ تھا

    -----------------------

    غنچہ ، تری زندگی پہ دل ہلتا ہے
    بس اک تبسم کے لئے کھلتا ہے
    غنچہ نے کہا کہ اس چمن میں بابا
    یہ ایک تبسم بھی کسے ملتا ہے

    (جوش ملیح آبادی)

    ---------------------------

    جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہے
    وہ مری تنگئ داماں کا گلہ کرتا ہے
    دیر سے آج مرا سر ہے ترے زانو پر
    یہ وہ رتبہ ہے جو شاہوں کو ملا کرتا ہے
    میں تو بیٹھا ہوں دبائے ہوئے طوفانوں کو
    تو مرے دل کے دھڑکنے کا گلہ کرتا ہے
    رات یوں چاند کو دیکھا ہے ندی میں رقصاں
    جیسے جھومر ترے ماتھے پہ ہلا کرتا ہے
    جب مری سیج پہ ہوتا ہے بہاروں کا نزول
    صرف اک پھول کنواڑوں میں کھلا کرتا ہے
    کون کافر تجھے الزام تغافل دے گا
    جو بھی کرتا ہے محبت سے گلہ کرتا ہے
    لوگ کہتے ہیں جسے نیل کنول وہ تو قتیل
    شب کو ان جھیل سی آنکھوں میں کھلا کرتا ہے
    (قتیل شفائی)

    --------------------------------

    ہر غنچہ لب سے عشق کا اظہار ہے غَلَط
    اس مبحثِ صحيح کی تکرار ہے غَلَط
    کہنا پڑا درست کہ اتنا رہے لحاظ
    ہر چند وصلِ غير کا انکار ہے غلط
    کرتے ہيں مجھ سے دعویِ الفت، وہ کيا کريں
    کيونکر کہيں مقولہٴ اغيار ہے غلط
    يہ گرم جوشياں تری گو دل سے ہوں ولے
    تاثیرِ نالہ ہائے شرر بار ہے غلط
    کرتے ہو مجھ سے راز کی باتیں تم اس طرح
    گويا کہ قولِ محرمِ اسرار ہے غلط
    (مومن خان مومن)

  4. #94
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,796
    Rep Power
    1445

    Default

    کیا کریں عاصم بھائی
    یہ سلسلہ تو صرف میرے آپ کے درمیان ہی چل رہا ہے
    اور تو کہیں سے شرکت نہیں ہے
    تو کچھ بوریت سی ہوگئی ہے
    اب اس طرح کب تک سلسلہ چل سکتا ہے

  5. #95
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,796
    Rep Power
    1445

    Default

    اس لفظ سے پچھلا لفظ میں نے دیا تھا پیاس
    جس پر بہت خوبصورت شاعری موجود ہے

    سنا ہے ان کے اشکوں سے بجھی ہے پیاس صحرا کی
    جو کہتے تھے کہ پتھر ہیں ہمیں رونا نہیں آتا
    ---------------------------------
    بڑھا کے پیاس میری اس نے ہاتھ چھوڑ دیا
    وہ کر رہا تھا مروت بھی دل لگی کی طرح
    --------------------------------
    یہ دشتِ ترکِ محبت، یہ تیرے قرب کی پیاس
    جو اِذن ہو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیری یاد سے گُزر جاؤں
    -----------------------------------
    سب کو سیراب وفا کرکے بھی خود پیاسا رہنا
    ہم کو لے ڈوبا، اے دل تیرا دریا ہونا
    -------------------------------
    مر گئے پیاس کے مارے تو اُٹھا ابرِ کرم
    بُجھ گئی بزم تو اب شمع جلاتا کیا ہے
    -------------------
    وہ میرے اشک بُجھائے گا کِس طرح محسنؔ
    سمندروں کو وہ صحرا کی پیاس کیا دے گا؟
    ------------------------
    پیاس دریا کی نِگاہوں سے چُھپا رکھی ہے
    ایک بادل سے بڑی آس لگا رکھی ہے
    تیری آنکھوں کی کشش کیسے تُجھے سمجھاؤں
    اِن چراغوں نے میری نیند اُڑا رکھی ہے
    ---------------------------
    پِھر وہی مَیں ہُوں، وہی درد کا صحرا یارو
    تم سے بِچھڑا ہُوں تو دُکھ پائے ہیں کیا کیا یارو
    پیاس اتنی ہے کہ آنکھوں میں بیاباں چمکیں
    دُھوپ ایسی ہے کہ جیسے کوئی دریا یارو
    یاد کرتی ہیں تمہیں آبلہ پائی کی رُتیں
    کس بیاباں میں ہو بولو! مِرے تنہا یارو
    تم تو نزدیکِ رگِ جاں تھے تمہیں کیا کہتا
    میں نے دُشمن کو بھی دُشمن نہیں سمجھا یارو
    آسماں گَرد میں گم ہے کہ گَھٹا چھائی ہے
    کچھ بتاؤ! کہ میرا شہر ہے پیاسا یارو
    کیا کہوں گُل ہے کہ شبنم وہ غزل ہے کہ غزال
    تم نے دیکھا ہی نہیں اُس کا سراپا یارو
    اُس کے ہونٹوں کے تبسّم میں تھی خُوشبُو غم کی
    ہم نے محسنؔ کو بہت دیر میں سمجھا یارو
    -----------------------------
    یُوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے
    کہاں لے جاؤں تُجھے اے دلِ تنہا میرے
    وہی محدود سا حلقہ ہے شناسائی کا
    یہی احباب مرے ہیں، یہی اعداء میرے
    میں تہِ کاسہ و لب تشنہ رہوں گا کب تک
    تیرے ہوتے ہوئے، اے صاحبِ دریا میرے
    مُجھ کو اس ابرِ بہاری سے ہے کب کی نِسبت
    پر مقدّر میں وہی پیاس کے صحرا میرے
    دیدہ و دل تو ترے ساتھ ہیں اے جانِ فرازؔ
    اپنے ہمراہ مگر خواب نہ لے جا میرے
    -----------------------------
    اشک آنکھوں میں چھپاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
    بوجھ پانی کا اٹھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
    پاؤں رکھتے ہیں جو مجھ پر انہیں احساس نہیں
    میں نشانات مٹاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
    برف ایسی کہ پگھلتی نہیں پانی بن کر
    پیاس ایسی کہ بجھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
    غمگساری بھی عجب کار محبت ہے کہ میں
    رونےوالوں کو ہنساتے ہوئے تھک جاتا ہوں
    اتنی قبریں نہ بناؤ میرے اندر محسن
    میں چراغوں کو جلاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
    --------------------------------
    محبتوں کا حساب تھا نا عداوتوں کا شمار تھا
    کبھی اس کی ذات عذاب تھی ، کبھی روح کا وہ قرار تھا
    میری پیاس اتنی ہی بڑھ گئی کے سراب جتنے ملے مجھے
    ہوا دھوکہ جس پے گلاب کا وہ سلگتا ، جلتا شرار تھا
    -----------------------------------------
    تجھے کیا خبر میرے حال کی
    میرے درد میرے ملال کی
    یہ میرے خیال کا سلسلہ
    کسی کی یاد سے ہے ملا ہوا
    اسے دیکھنا اسے سوچنا
    میری زندگی کا ہے فیصلہ
    یہ اسی کی پلکوں کے سائے ہیں
    میری روح میں جو اتر گئے
    کہ قفس ہو جیسے کھلی قضا
    نہیں سکھ کا سانس میں لوں صدا
    جنھیں تیری دید کی پیاس تھی
    وہ کٹورے نینوں کے بھر گئے
    یہ جنون منزل عشق ہے
    جو چلے تو جان سے گزر گئے
    ---------------------
    سنو! جو مسکراتے ہیں، انہیں بھی روگ ہوتے ہیں
    بہت مجبور ہوتے ہیں
    راتیں جاگتی انکی، دعاؤں میں گزرتی ہیں
    نگاہیں بھیگتی ہیں اور پلکیں بھی لرزتی ہیں

    نہ ماضی بھولتا ان کو نہ کوئی آس ہوتی ہے
    فقط اک پیاس ہوتی ہے
    جو جینے بھی نہیں دیتی
    جو مرنے بھی نہیں دیتی

    اذیت آگ کی صورت دلوں میں ہی سلگتی ہے
    یہ شدت اور بڑھتی ہے یہ شدت اور بڑھتی ہے
    سنو!
    جو مسکراتے ہیں
    انہیں بھی روگ ہوتے ہیں۔
    ------------------------
    مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے
    میری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

  6. #96
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,796
    Rep Power
    1445

    Default


    اور اب اگلا لفظ میری طرف سے ہے

    ************************
    صحرا
    ************************
    [/quote]

  7. #97
    Join Date
    Oct 2016
    Location
    Lahore
    Age
    25
    Posts
    590
    Rep Power
    994

    Default

    Doston Mujhy kooi Shair O Shaairi sey khaas Shafug nahi hai lekin Young Heart bhaai koo company deny aaya hon key baat unki theek hai key members part nahi ley rahay so men aik apnay paas sey bnaie shair koo pesha ker raha hon

    سنو تم مان جاؤ نا
    کی اب تو جان جاؤ نا
    یہ عشق مانند صحرا ہے
    کی سب کو جان لیتا ہے سب کی جان لیتا ہے ! ! ! !


    Dosto dawaai samjh key bardasht kr loo is shair koo aur haan agla lafz btata hon wo hai

    باغی
    ,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,, ,,,,,,,,

  8. #98
    Join Date
    May 2009
    Location
    LAHORE
    Posts
    5,438
    Rep Power
    2651

    Default

    خوش آمدید سیکسیرا بھائی
    بہت خوشی ہوئی آپ کو یہاں دیکھ کر
    لفظ باغی پر شعر حاظرِ خذمت ہے

    پلکوں پہ تیرے خواب سجائے پھرتے ہیں

    لفظوں سے تیرا نام چھپائے پھرتے ہیں
    شاید تیری یاد کا
    باغی لمحہ بھی ہو
    کان پہ رکھی قلم اٹھائے پھرتے ہیں

    '' آشنا''

  9. #99
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,796
    Rep Power
    1445

    Default

    وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    وہی وعدہ، یعنی نباہ کا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    وہ جو لُطف مجھ پہ تھے پیشتر، وہ کرم کہ تھا مرے حال پر
    مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    وہ نئے گِلے، وہ شکایتیں، وہ مزے مزے کی حکایتیں
    وہ ہر ایک بات پہ رُوٹھنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    کبھی بیٹھے سب میں جو رُوبرُو، تو اشارتوں ہی سے گُفتگو
    وہ بیان شوق کا برملا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    ہوئے اتفاق سے گر بہم، تو وفا جتانے کو دم بہ دم
    گِلۂ ملامتِ اقربا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    کوئی ایسی بات اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بُری لگی
    تو بیاں سے پہلے ہی بُھولنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی، کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
    کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    سُنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اِک آپ نے وعدہ تھا
    سو نِباہنے کا تو ذکر کیا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    کہا میں نے بات وہ کوٹھے کی مِرے دل سے صاف اُتر گئی
    تَو کہا کہ جانے مِری بلا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    وہ بِگڑنا وصل کی رات کا، وہ نہ ماننا کسی بات کا
    وہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    جسے آپ گِنتے تھے آشنا، جسے آپ کہتے تھے باوفا
    میں وہی ہوں مومنِؔ مبتلا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

  10. #100
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,796
    Rep Power
    1445

    Default

    ہزار آئینہ خانوں میں بھی مَیں پا نہ سکا
    وہ آئینہ جو مُجھے خُود سے آشنا کرتا
    (محسن نقوی)
    --------------------------
    سوزش باطن کے ہیں احباب منکر ورنہ یاں
    دل محیطِ گریہ و لب آشنائے خندہ ہے
    (غالب)
    --------------------------
    انجان بستیوں سے تو شہرِ عدُو ہی ٹھیک
    یہ کیا کہ دُور تک نہ کوئی آشنا رہے
    ----------------------------
    وار اس قدر شدید کہ دشمن ہی کر سکے
    چہرہ مگر ضرور کسی آشنا کا تھا
    (فراز)
    ----------------------------
    تھے جو کل تلک مرے آشنا سبھی یار نکلے وہبے وفا
    سدا خوش رہیں مرے خوش نوا بھلے ہم زباں کو ترس گئے


    اگلا لفظ میری طرف سے ہے

    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
    الزام
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Page 10 of 18 FirstFirst ... 67891011121314 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •