Page 4 of 18 FirstFirst 1234567814 ... LastLast
Results 31 to 40 of 176

Thread: شعرلکھیں لفظ ہم بتاتے ھیں

  1. #31
    Join Date
    May 2009
    Location
    LAHORE
    Posts
    5,438
    Rep Power
    2651

    Default

    Quote Originally Posted by youngheart View Post
    جناب اس سوزگدا کو بھی کنفرم کر دیں
    کہیں یہ سوزوگداز تو نہیں ہے


    زنجیرِ عدل کی گونج سوزِ گدا میں ہوں
    رک جا تو سمے دردِ پکار کی صدا میں ہوں


    - * - * - * - * - * - * - * - * -

    '' محفل''
    - * - * - * - * - * - * - * - * -


  2. #32
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,796
    Rep Power
    1445

    Default

    محفل میں بار بار کسی پر نظر گئی
    ہم نے بچائی لاکھ مگر پھر اُدھر گئی

    -------------------------

    تیری محفل سے اٹھاتا غیر مجھ کو کیا مجال
    دیکھتا تھا میں کہ تو نے بھی اشارہ کردیا

    -------------------------

    کوئي دم کا مہماں ہوں اے اہل محفل
    چراغ سحر ہوں ، بجھا چاہتا ہوں

    ---------------------

    چھیڑ دی ہے محفل میں اُس کی بات پِھر میں نے
    شاید اِس طرح دُنیا میری رہ پہ چل نکلے

    ------------------------

    بات کرنی مجھے مُشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
    جیسی اب ہے تیری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی

    ----------------------------

    میرا جی گھبرا گیا ہے اس جہانِ تنگ سے
    محفلِ گُل میں، کوئی تارا ضیاء پھیلا گیا

    ------------------------

    سرِ محفل بہ اندازِ تغافُل دیکھنے والے
    تیری بے اِعتنائی کا بھی قائل ہو گیا ہوں میں

    ---------------------------

    وہ بزمِ دوست یاد تو ہو گی تمہیں فرازؔ
    وہ محفلِ طرب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے

    ----------------------------

    کَج ادائی سے سزا کَج کُلہی کی پائی
    میرِ محفل تھے سو محفل سے اُٹھائے بھی گئے

    ---------------------------

    اس شہر میں کِس سے مِلیں، ہم سے تو چُھوٹیں محفلیں
    ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص دیوانہ تیرا

    ---------------------------

    اِسے راکھ ہوتی ہوئی سحر کی ہَوا کے ہاتھ سے چِھین لے
    کہ متاعِ محفلِ شام تھا، تیرا نام بھی، میرا نام بھی

    ------------------------------

    بَن میں دانا، شہر کے اندر، دِیوانے کہلاتے ہو
    بے کَل بے کَل رہتے ہو، پر محفل کے آداب کے ساتھ

    -----------------------------

    دن رات ہوئے ہم وقفِ رفُو، اب کیا محفل، کیا فکرِ سخن
    یہ ہات رُکیں تو سوچیں بھی، یہ زخم سِلیں تو لِکھیں بھی

    -------------------------------

    محفلِ جاناں ہو، مقتل ہو کہ مے خانہ فرازؔ
    جس جگہ جائیں، بنا لیتے ہیں ہم اپنی جگہ

    -----------------------------

    یہی بہت ہے کہ محفل میں ہم نشِیں کوئی ہے
    کہ شب ڈھلے تو سحر تک کوئی نہیں کوئی ہے

    ------------------------------

    آخر کو تو دُنیا بھی مرے دام میں آئی
    کل شام کہ تھا شیخِ حرم، صاحبِ محفل

    ----------------------------

    ہاں اے دل دیوانہ۔۔

    وہ آج کی محفل میں
    ہم کو بھی نہ پہچانا
    کیا سوچ لیا دل میں
    کیوں ہو گیا بیگانہ
    ہاں اے دل دیوانہ

    وہ آپ بھی آتے تھے
    ہم کو بھی بُلاتے تھے
    کس چاہ سے مِلتے تھے
    کیا پیار جتاتے تھے
    کل تک جو حقیقت تھی
    کیوں آج ہے افسانہ
    ہاں اے دل دیوانہ

    بس ختم ہوا قِصّہ
    اب ذکر نہ ہو اُس کا
    وہ شخص وفا دُشمن
    اب اُس سے نہیں ملنا
    گھر اُس کے نہیں جانا
    ہاں اے دل دیوانہ

    ہاں کَل سے نہ جائیں گے
    پر آج تو ہو آئیں
    اُس کو نہیں پا سکتے
    اپنے ہی کو کھو آئیں
    تُو باز نہ آئے گا
    مُشکل تُجھے سمجھانا
    وہ بھی ترا کہنا تھا
    یہ بھی ترا فرمانا
    چل اے دل دیوانہ

  3. #33
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,796
    Rep Power
    1445

    Default

    اب کچھ گندی شاعری بھی جس میں محفل کا لفظ آتا ہے

    جھانٹ پھیلائے کیر بیٹھا ہے
    بوریے پر فقیر بیٹھا ہے
    پہلے سینے پہ شست باندھی ہے
    تب نشانے پہ تیر بیٹھا ہے
    لنڈ تنہا کھڑا ہے محفل میں
    ہر صغیر و کبیر بیٹھا ہے
    کیر زاہد ہے یا کوئی مردہ
    پیش منکر نکیر بیٹھا ہے
    حلقۂ پشم میں ہے خامۂ مست
    بیڑیوں میں اسیر بیٹھا ہے

    ------------------------

    نہیں محفل میں بھی اے شوخ تجھ کو گانڈ پر قابو
    نکل جاتی ہے رک سکتی نہیں اتنی ہوا تجھ سے

    ----------------------------

    نکالے جاتے ہیں محفل سے اس کی پاد کے ہاتھوں
    کسی کو دوش کیا دیں گانڈ ہی یاں اپنی دشمن ہے


    اگلا لفظ میری طرف سے ہے

    +++++++++++++++++++++++++++
    وصل
    +++++++++++++++++++++++++++

  4. #34
    Join Date
    May 2009
    Location
    LAHORE
    Posts
    5,438
    Rep Power
    2651

    Default


    وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا ، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    وہی یعنی وعدہ نباہ کا ، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    وہ جو لطف مجھ پہ تھے پیش تر، وہ کرم کہ تھا میرے حال پر
    مجھے سب یاد ہے ذرا ذرا ، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    کبھی بیٹھے جو سب میں روبرو ، تو اشاروں ہی میں گفتگو
    وہ بیان شوق کا برملا ، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    کوئی ایسی بات ہوئی اگر کہ تمہارے جی کو بری لگی
    تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا ،تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی ، کبھی ہم میں تم میں بھی راہ تھی
    کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا ، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    وہ بگڑنا
    وصل کی رات کا، وہ نہ ماننا کسی بات کا
    وہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    - * - * - * - * - * - * - * - * -
    ''شبِ دیجور''

    - * - * - * - * - * - * - * - * -

  5. #35
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,796
    Rep Power
    1445

    Default

    آہا
    شب دیجور
    مطلب - اندھیری سیاہ رات
    کیا بات ہے بھائی - آپ نے تو سکول کے دن یاد دلا دیے ۔۔۔ شاید آٹھویں یا نویں کی اردو کی کتاب میں یہ لفظ پڑھا تھا جو ادیبوں کے لطائف میں کچھ یوں درج تھا

    شیخ قلندر بخش جرات اپنے دور کے مشہور شاعر تھے۔ انشاء کے دوست تھے مگر آنکھوں کی نعمت سے محروم تھے۔ ایک دن سید انشاء "جرات" کو ملنے گئے۔ دیکھا سر جھکائے کچھ سوچ رہے ہیں۔
    پوچھا! کس فکر میں ہیں۔
    جواب ملا! ایک مصرعہ خیال میں ہے۔ چاہتا ہوں مطلع ہوجائے۔
    انشاء نے پوچھا! کون سا مصرعہ؟
    جرات نے کہا! خوب مصرعہ ہے مگر جب دوسرا مصرعہ نہ ہوجائے تب تک تمہیں نہیں سناؤں گا۔ کہیں تم مصرعہ لگا کر مجھ سے چھین نہ لو۔
    سید انشاء نے بہت اصرار کیا۔ بالاخر جرات نے یہ مصرعہ پڑھا۔

    اس زلف پہ پھبتی شب دیجور کی سوجھی ۔

    سید انشاء نے فوراً اس پر گرہ لگا کر شعر پورا کردیا

    اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی
    جرات ہنس پڑے اور عصا اٹھا کر مارنے کو دوڑے۔

    اس لفظ پر دوسرے اشعار بھی پیش خدمت ہیں

    جائے کافور سحر , چاہیے کافورِ حنوط
    یہ شبِ ہجر ہے یارو شبِ دیجور نہیں

    ------------------------

    طائرانِ سحر سے کہہ دو یہاں سے نہ گزریں
    میرے چمن میں ہے پھیلی شبِ دیجور کی سرخی

    ----------------------------

    شبِ دیجور اندھیرے میں ہے بادل کے نہاں
    لیلٰی محمل میں ہے ڈالے ہوئے منہ پر آنچل

    ------------------------------
    حقہ بازی ختم ہے میری شب دیجور پر
    کیا ہی گولی کی طرح ہر ایک اختر وڑ گیا

    ------------------------
    گلتا ہوں چاند نم نے اپس میں اپیچ میں
    تج دہن کے زلف کی شب دیجور کے بدل

    -------------------------

    ایک نظم ہے جس میں یہ لفظ ہے

    پھر شبِ دیجور دروازہ کھلا
    روشنی کا باب اک تازہ کھلا

    کون کافر ہے، مسلماں کون ہے
    ہو گیا خلقت کو اندازہ کھلا

    آگ اور پانی گلے ملنے لگے
    بیربل سے مُلّا دوپیازہ کھلا

    کھلتے کھلتے اس بتِ عیّار کا
    ہر قدم پر جھوٹ اک تازہ کھلا

    پارہ پارہ ہو گئی دل کی کتاب
    بیچ چوراہے کے شیرازہ کھلا

    بے خبر پہلے ہی شہرِ عشق کا
    رات دن رہتا ہے دروازہ کھلا

    مَیں شہیدِ عشق ہوں، رُخ پر مرے
    اشک اور الہام کا غازہ کھلا

    چھپ کے پیتا ہوں فقیہِ شہر سے
    کر رہا ہوں ذکرِ خمیازہ کھلا

    آسماں سے بات کرنے کے لیے
    کوئی تو رہنے دو دروازہ کھلا

    چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی

    ----------------------

    ایک اور نظم نظر سے گذری جو مصر میں اخوانوں کے خلاف فوجی جارحیت پر لکھی گئی

    اور پھر دیکھا زمانے نے شبِ دیجور میں
    جگنوؤں کے قتل کا اک سانحہ ہوتا ہوا
    کشتگانِ راہِ الفت کے لہو سے لالہ زار
    انقلابِ رابعہ بانگِ درا ہوتا ہوا
    سلسلہ ہوتا ہوا اس جبر کا جوں جوں دراز
    جذبۂ شوقِ شہادت اور سوا ہوتا ہوا
    لحظہ لحظہ ظلم کی آندھی یوںہی بڑھتی ہوئی
    جسدِ ملت احتجاجاً ہم نوا ہوتا ہوا
    ہے عزیمت کا نشاں یہ کاروانِ سختِ جاں
    ہر قدم لٹتا ہوا حق پر فدا ہوتا ہوا

    -------------------------

    مزید کچھ اشعار ہیں اس لفظ پر

    صاحبانِ شبِ دیجور سحر مانگتے ہیں
    پیٹ کے زمزمہ خواں دردِ جگر مانگتے ہیں

    ----------------------

    عارض گردوں پہ اک خال سیہ بن جائے ماہ
    دیکھ لے چہرہ اگر میری شب دیجور کا

    -----------------------
    کیا اثر میری سیہ بختی کے آگے نور کا
    ماہ ہے ایک خال رخسارہ شب دیجور کا

    --------------------

  6. #36
    Join Date
    May 2009
    Location
    LAHORE
    Posts
    5,438
    Rep Power
    2651

    Default

    واہ بھائی کمال کہ اشعار ہیں اور آخری والا تو لاجواب ہی ہو گیا


    کیا اثر میری سیہ بختی کے آگے نور کا
    ماہ ہے ایک خال رخسارہ شب دیجور کا


    جناب آپ نے اگلا لفظ نہیں دیا




  7. #37
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,796
    Rep Power
    1445

    Default

    اگلا لفظ میری طرف سے ہے

    ------------------------
    شوق
    ------------------------

  8. #38
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,796
    Rep Power
    1445

    Default

    اگرچہ میں نے اگلا لفظ شوق دے دیا ہے
    لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ میں کچھ مخمصے میں تھا
    میرے نزدیک کچھ ایسے الفاظ تجویز کیے گئے ہیں جن پر بہت ہی معیاری اشعار موجود ہیں ۔۔۔ صرف ایک شعر کہہ کر آگے بڑھ جانا ان خوبصورت الفاظ کے ساتھ ناانصافی ہے
    جیسے
    یہ سب الفاظ
    گویا
    فریب
    ظالم
    زندگی
    خوش
    نڈھال
    نہال
    سیلاب
    تسکین
    طلب

    کچھ تو مزید اشعار ہونے چاہئیں تھے ان الفاظ پر
    تو میں ایک ایک لفظ لے کر ان پر موجود اچھے اشعار اپنی اگلی پوسٹوں میں شئر کرنے کی کوشش کروں گا



  9. #39
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,796
    Rep Power
    1445

    Default

    سب سے پہلا لفظ ہے گویا

    گویا کے لفظ کے ساتھ ہی مومن خان مومن کا وہ شعر ذہن میں آتا ہے جس کے بارے میں غالب نے کہا تھا کہ اس شعر کے بدلے میں اپنا سارا دیوان دینے کو تیار ہوں
    اور وہ شعر تھا

    تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
    جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

    مزید اشعار لفظ گویا پر پیش خدمت ہیں

    واعظ کی زباں پر تو وہ کلمے ہیں کے گویا
    بخشے ہی نہ جائیں گے گنہگارِ محبت

    --------------------

    زخم تمنّا کا بھر جانا، گویا جان سے جانا ہے
    اس کا بُھلانا سہل نہیں ہے، خُود کو بھی یاد آؤ گے

    ---------------------------

    اے دوست تری یاد بھی کتنی عجیب ہے
    جب آگئی تو گویا زمانہ ٹھر گیا

    ---------------------------

    قاصد ترے بیاں سے دل ایسا ٹھہر گیا
    گویا کسی نے رکھ دیا سینے پہ آ کے ہاتھ

    ------------------------

    غم بھی کسی کا گویا خزانہ تھا علم کا
    جو بانٹنے سے بڑھ تو گیا کم نہیں ہوا

    -------------------------

    مجھ کو لکھنے والا جانے کن حرفوں کا پیاسا تھا
    میں اک لفظ ہوں گویا، وہ بھی معنی سے سیراب نہیں

    --------------------------

    ڈھونڈتا پھرتا ہوں اے اقبال اپنے آپ کو
    آپ ہی گویا مسافر! آپ ہی منزل ہوں میں

    ------------------------------


    مزید کچھ گندے اشعار بھی ہیں اس لفظ گویا کے

    صبح دم ان کو سر بام مسلتے دیکھا
    گویا کشتی میں سے دریا کو نکلتے دیکھا

    --------------------------

    دوستو! ہے چوت وہ زندہ شہید
    جس کے مرنے پر منا کرتی ہے عید
    چوت کو ہر چند کیجے مستفید
    گانڈ کو یکسر نہ رکھیے نا امید
    ہاتھ رکھتے ہی کیا چانٹا رسید
    کم نظر بے تابی جانم ندید
    کیا کہوں اس کی انانیت کا حال
    ہے یہ لوڑا دوسرا سرمد شہید
    نامرادی اس کس بے کس کی ہائے
    منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید
    چوت کو برسوں گل حکمت کیا
    تب ہوا ہے بادۂ عشرت کشید
    تھام کے رکھتی اگر لوڑے کو چوت
    یوں نہ ہوتی گانڈ کی مٹی پلید
    سخت گیری کون کافر کی نہ پوچھ
    لنڈ کیا لونڈا ہے گویا زر خرید
    ہجر میں صابن کا استعمال بھی
    نسخۂ ارزاں ہے اور خاصا مفید
    نام لیجے اور یہ استادہ ہوا
    بھوسڑی مرشد ہے اور لوڑا مرید




  10. #40
    Join Date
    May 2009
    Location
    LAHORE
    Posts
    5,438
    Rep Power
    2651

    Default



    واہ جواں دل بھائی بہت دن سے سوچ رہا تھا کہ کوئی شوق پر کیوں نہیں دے رہا لفظ میری سب سے فیورٹ غزل ہے یہ
    تو عرض کیا ہے
    نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں

    تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں


    آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
    آج کا دن گزر نہ جائے کہیں
    نہ ملا کر اداس لوگوں سے
    حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں
    آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
    اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں
    جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں
    رائیگاں یہ ہنر نہ جائے کہیں
    آؤ کچھ دیر رو ہی لیں ناصر
    پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں




    - * - * - * - * - * - * - * - * -
    ''ردِ بلا''

    - * - * - * - * - * - * - * - * -


Page 4 of 18 FirstFirst 1234567814 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •