Page 8 of 17 FirstFirst ... 456789101112 ... LastLast
Results 71 to 80 of 167

Thread: شعرلکھیں لفظ ہم بتاتے ھیں

  1. #71
    asiminf's Avatar
    asiminf is offline Ambarsariya
    Join Date
    May 2009
    Location
    LAHORE
    Posts
    5,440
    Thanks
    44,548
    Thanked 16,514 Times in 4,576 Posts
    Time Online
    3 Weeks 2 Days 9 Hours 21 Minutes 40 Seconds
    Avg. Time Online
    17 Minutes 59 Seconds
    Rep Power
    2651

    Default

    محسن نقوی کا بہت ہی خوب صورت شعر عرض ہے
    نظر میں زخمِ تبسّم چھپا چھپا کے مِلا

    خفا تو تھا وہ مگر مجھ سے مُسکرا کے مِلا
    ؔمیں زخم زخم بدن لے کے چل دیامحسن
    وہ جب بھی اپنی قبا پر کنول سجا کے مِلا




    - * - * - * - * - * - * - * - * -
    ''نقوش''

    - * - * - * - * - * - * - * - * -




  2. The Following 2 Users Say Thank You to asiminf For This Useful Post:

    Khushi25 (11-12-2016), youngheart (11-12-2016)

  3. #72
    youngheart's Avatar
    youngheart is offline Premium Member
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,739
    Thanks
    3,631
    Thanked 5,578 Times in 1,639 Posts
    Time Online
    1 Month 1 Week 1 Day 5 Hours 29 Minutes 10 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Hour 23 Minutes 42 Seconds
    Rep Power
    1438

    Default

    Quote Originally Posted by Khushi25 View Post
    ابھی جو گردش ایام سے ملا ہوں میں
    ابھی جو گردش ایام سے ملا ہوں میں
    سمجھ رہی تھی کسی کام سے ملا ہوں میں
    شکست شب تری تقریب سے ذرا پہلے
    دیے جلاتی ہوئی شام سے ملا ہوں میں
    اجل سے پہلے بھی ملتا رہا ہوں پر اب کے
    بڑے سکوں بڑے آرام سے ملا ہوں میں
    تری قبا کی مہک ہر طرف نمایاں تھی
    ہوائے وادئ گل فام سے ملا ہوں میں
    میں جانتا ہوں مکینوں کی خامشی کا سبب
    مکاں سے پہلے در و بام سے ملا ہوں میں
    سلیمؔ نام بتایا تھا غالباً اس نے
    کل ایک شاعر گمنام سے ملا ہوں میں

    پتہ نہیں یہ ٹھیک سے پوسٹ ہوتی ہے یا نہیں
    اور آپ لوگوں کو پسند آتی ہے یا نہیں

    بہت خوب - عمدہ نظم شئیر کی آپ نے

    گردش ایام پر کچھ شاعری میری طرف سے بھی

    یہ مری آشفتہ حالی یہ مری آوارگی
    جیسے ساری گردش ایام ہے میرے لیے

    ----------------------

    کہانیاں جو سناتے تھے عہد رفتہ کی
    نشاں وہ گردش ایام نے مٹا ڈالے

    ---------------------------

    مئے فروشی سے تری انکار کب ہے ساقیا
    میرے حصہ کی مگر کیوں جام تک پہنچی نہیں
    عقدہ ہائے زلف جاناں گو کہ سلجھاتے رہے
    بات لیکن گردش ایام تک پہنچی نہیں

    ---------------------------

    مےکشی گردش ایام سے آگے نہ بڑھی
    میری مدہوشی مرے جام سے آگے نہ بڑھی

    وہ گئے گھر کے چراغوں کو بجھا کر میرے
    پھر ملاقات مری شام سے آگے نہ بڑھی

    رہ گئی گھٹ کے تمنا یوں ہی دل میں اے دوست
    گفتگو اپنی ترے نام سے آگے نہ بڑھی

    وہ مجھے چھوڑ کے اک شام گئے تھے ناصرؔ
    زندگی اپنی اسی شام سے آگے نہ بڑھی

    (ناصر کاظمی)

    ------------------------
    گردش جام نہیں ، گردش ایام تو ھے
    سعی ناکام سہی ، پھر بھی کوئی کام تو ھے

    دل کی بے تابی کا آخر کہیں انجام تو ھے
    میری قسمت میں نہیں ، دہر میں آرام تو ھے

    مائل لطف و کرم حسن دلآرام تو ھے
    میری خاطر نہ سہی ، کوئی سر بام تو ھے

    تو نہیں میرا مسیحا ، میرا قاتل ھی سہی
    مجھ سے وابستہ کسی طور ترا نام تو ھے

    ----------------------------

    گرچہ گھیرے ہوئے ہے گردشِ ایام ابھی
    کامیاب ہو نہ سکا، پر نہیں ناکام ابھی

    دل کی جاگیر پہ قبضہ ہے تری یادوں کا
    عہدِ الفت پہ بھی باقی ہے ترا نام ابھی

    -------------------------

    اور پھر ایک گندی سی نظم بھی ہے جس میں گردش ایام کا لفظ آتا ہے

    ہم نے فن دشنام کی ماں چود کے رکھ دی
    اس کام کی اس کام کی ماں چود کے رکھ دی
    اس گردش ایام کی علت نے تمہاری
    اس گردش ایام کی ماں چود کے رکھ دی
    جس کام کو برسوں میں بنایا تھا بمشکل
    یاروں نے سب اس کام کی ماں چود کے رکھ دی
    جس قوم کو تھی چار نکاحوں کی اجازت
    اس قوم نے اغلام کی ماں چود کے رکھ دی
    مت پوچھیے اس فتنۂ یو این کی کرامات
    جمیعت اقوام کی ماں چود کے رکھ دی


  4. The Following 2 Users Say Thank You to youngheart For This Useful Post:

    asiminf (12-12-2016), Khushi25 (12-12-2016)

  5. #73
    youngheart's Avatar
    youngheart is offline Premium Member
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,739
    Thanks
    3,631
    Thanked 5,578 Times in 1,639 Posts
    Time Online
    1 Month 1 Week 1 Day 5 Hours 29 Minutes 10 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Hour 23 Minutes 42 Seconds
    Rep Power
    1438

    Default


    اب کچھ اشعار لفظ قبا پر

    صرف مانع تھی حیا بندِ قبا کھلنے تلک
    پھر تو وہ جانِ حیا ۔۔۔۔ ایسا کھلا ایسا کھلا

    ----------------------

    اب کے گر تو ملے تو ہم تجھ سے
    ایسے لپٹیں تری قبا ہو جائیں

    ------------------------------

    شام آتے ہی اُتر آئے مرے گاؤں میں رنگ
    جس کے یہ رنگ تھے، جانے وہ قبا کِس کی تھی

    ---------------------------

    مرے سوا سرِ مقتل، مقام کِس کا ہے
    کہو کہ اب لبِ قاتل پہ نام کِس کا ہے
    یہ تخت و تاج و قبا سب اُنہیں مبارک ہو
    مگر یہ نوکِ سِناں احترام کِس کا ہے
    ہماری لاش پہ ڈھونڈو نہ اُنگلیوں کے نِشاں
    ہمیں خبر ہے عزیزو! یہ کام کِس کا ہے
    وہ مُطمئن تھے بہت قتل کر کے محسنؔ کا
    مگر یہ ذکرِ وفا، صبح و شام کِس کا ہے
    (محسن نقوی)

    ---------------------------------

    کب ہم نے کہا تھا ہمیں دستار و قبا دو
    ہم لوگ نَوا گر ہیں، ہمیں اِذنِ نَوا دو
    ہم آئینے لائے ہیں سرِ کُوئے رقِیباں
    اے سنگ فروشو! یہی اِلزام لگا دو
    لگتا ہے کہ میلہ سا لگا ہے سرِ مقتل
    اے دل زدگاں! بازوئے قاتل کو دُعا دو
    ہے بادہ گساروں کو تو میخانے سے نِسبت
    تُم مسندِ ساقی پہ کسی کو بھی بٹھا دو
    میں شب کا بھی مُجرم تھا سحر کا بھی گُنہگار
    لوگو! مُجھے اِس شہر کے آداب سِکھا دو
    (احمد فرازؔ)
    ----------------------------

    آنکھیں کھلی رہیں گی تو منظر بھی آئیں گے
    زندہ ہے دل تو اور ستمگر بھی آئیں گے

    پہچان لو تمام فقیروں کے خدوخال
    کچھ لوگ شب کو بھیس بدل کر بھی آئیں گے

    گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
    چھینٹے اّڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے

    خود کو چھپا نہ شیشہ گروں کی دکان میں
    شیشے چمک رہے ہیں تو پتھر بھی آئیں گے

    اّس نے کہا گناہ کی بستی سے مت نکل
    اِک دن یہاں حسین پیمبر بھی آئیں گے

    اے شہریار دشت سے فرصت نہیں--مگر
    نکلے سفر پہ ہم تو تیرے گھر بھی آئیں گے

    محسن ابھی صبا کی سخاوت پہ خوش نہ ہو
    جھونکے یہی بصورتَ صرصر بھی آئیں گے

    (محسن نقوی)

    -----------------------------------

    اور اب قبا کے لفظ پر کچھ گندی شاعری بھی

    بھلا ہم غریبوں سے وہ کیوں چدائیں
    انہیں آکے دارا و جم چودتے ہیں
    نہیں نوکری ایسی ویسی ہماری
    وہ دیتے ہیں تنخواہ، ہم چودتے ہیں
    نہ جا طمطراق عبا و قبا پر
    ولی چودتے ہیں، برہم چودتے ہیں

    ----------------------------
    بیچ کی انگلی

    کیا چیز ہے اے نام خدا بیچ کی انگلی
    کرتی ہے ہر اک عقدے کو وا بیچ کی انگلی
    رکھتی ہے تماشوں کی ہوا بیچ کی انگلی
    پاتی ہے تلاشوں کا مزا بیچ کی انگلی
    کرتی ہے سر آغاز ہتھیلی کو دبا کر
    اور کھولتی ہے بند قبا بیچ کی انگلی
    ازبر ہیں اسے جملہ مقامات حریری
    چھو آئی ہے سب زیر قبا بیچ کی انگلی
    ہے بیچ کی انگلی بھی مرے لوڑے سے بڑھ کر
    اور غیر کا لوڑا بھی نرا بیچ کی انگلی
    بھرتی ہے کبھی جا کے غرارے میں غرارہ
    انگیا میں کبھی کرتی ہے تا بیچ کی انگلی
    سن سن کے میری بیچ کی انگلی کے کرشمے
    کیوں لیتے ہو ہونٹوں میں دبا بیچ کی انگلی


  6. The Following 2 Users Say Thank You to youngheart For This Useful Post:

    asiminf (12-12-2016), Khushi25 (12-12-2016)

  7. #74
    youngheart's Avatar
    youngheart is offline Premium Member
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,739
    Thanks
    3,631
    Thanked 5,578 Times in 1,639 Posts
    Time Online
    1 Month 1 Week 1 Day 5 Hours 29 Minutes 10 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Hour 23 Minutes 42 Seconds
    Rep Power
    1438

    Default

    اور اب کچھ عرض ہے لفظ نقوش پر

    چہرے کــے نقوش اتنــے صدموں نــے بدل ڈالــے
    کـہ یاروں نـــے مجھــــے میری آواز ســــے پہچـانا

    -----------------------------------

    ایسے سراب تھے وہ، ایسے تھے کچھ کہ اب بھی
    میں آنکھ بند کر لوں، تب بھی نظر میں ہوں گے
    اس کے نقوشِ پا کو، راہوں میں ڈھونڈنا کیا
    جو اس کے زیرِ پا تھے وہ میرے سر میں ہوں گے

    ----------------------------

    میں دوستی کے عجب موسموں میں رہتا ہوں
    کبھی دعاؤں، کبھی سازشوں میں رہتا ہوں
    جو تم ذرا سا بھی بدلے، تو جان لے لو گے
    میں کچھ دنوں سے عجب واہموں میں رہتا ہوں
    میں جس طرح سے کبھی دُشمنوں میں رہتا تھا
    اُسی طرح سے ابھی دوستوں میں رہتا ہوں
    قدم قدم پہ ہیں بکھرے ہوئے نقوش مرے
    میں تیرے شہر کے سب راستوں میں رہتا ہوں
    کیا ہے فیصلہ جب سے چراغ بننے کا
    میں اعتماد سے اب آندھیوں میں رہتا ہوں
    تمہارے بعد یہ دن تو گذر ہی جاتا ہے
    میں شب کو دیر تلک آنسوؤں میں رہتا ہوں

    -----------------------------

    وہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہے
    ہنس کے بولے بھی تو دنیا سے جدا لگتا ہے
    جس سے منہ پھیر کے رستے کی ہوا گزری ہے
    کسی اجڑے ہوئے آنگن کا دیا لگتا ہے
    اب کے ساون میں بھی زردی نہ گئی چہروں کی
    ایسے موسم میں تو جنگل بھی ہرا لگتا ہے
    شہر کی بھیڑ میں کھلتے ہیں کہاں اس کے نقوش
    آؤ تنہائی میں سوچیں کہ وہ کیا لگتا ہے ؟
    منہ چھپائے ہوئے گزرا ہے جو احباب سے آج
    اس کی آنکھوں میں کوئی زخم نیا لگتا ہے
    (محسن نقوی)

    -------------------------------

    مٹ چکے ذھن سے سب یاد گزشتہ کے نقوش
    پھر بھی ایک چیز ہے ایسی کہ فراموش نہیں

    کبھی ان مد بھری آنکھوں سے پیا تھا اک جام
    آج تک ہوش نہیں، ہوش نہیں، ہوش نہیں

    عشق اگر حسن کے جلوؤں کا ہے مرہون کرم
    حسن بھی عشق کے احساس سے سبکدوش نہیں



  8. The Following 2 Users Say Thank You to youngheart For This Useful Post:

    asiminf (12-12-2016), Khushi25 (12-12-2016)

  9. #75
    youngheart's Avatar
    youngheart is offline Premium Member
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,739
    Thanks
    3,631
    Thanked 5,578 Times in 1,639 Posts
    Time Online
    1 Month 1 Week 1 Day 5 Hours 29 Minutes 10 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Hour 23 Minutes 42 Seconds
    Rep Power
    1438

    Default

    تجھ کو معلوم نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم
    تیرے چہرے کے سادہ سے اچھوتے سے نقوش
    میرے تخیّل کو کیا رنگ عطا کرتے ہیں
    تیری زلفیں تیری آنکھیں تیرے عارض تیرے ہونٹ
    کیسی معصوم انجانی سی خطا کرتے ہیں
    تیرے قامت کا لچکتا ہوا مغرور تناؤ
    جیسے پھولوں سے لدی شاخ ہوا میں لہرائے
    وہ چھلکتے ہوئے ساغر سی جوانی وہ بدن
    جیسے شعلہ سا نگاہوں میں لپک کر رہ جائے
    خِلوت بزم ہو یا جلوت تنہائی
    تیرا پیکر میری نظروں میں اتر آتا ہے
    کوئی ساعت ہو کوئی فکر ہو کوئی ماحول
    مجھ کو ہر سمت تیرا حسن نظر آتا ہے
    چلتے چلتے جو آپ قدم ٹھٹھک جاتے ہیں
    سوچتا ہوں کہیں تو نے پکارا تو نہیں
    گم سی ہو جاتی ہیں نظریں تو خیال آتا ہے
    اس میں پنہاں تیری آنکھوں کا اشارہ تو نہیں
    دھوپ میں سایہ بھی ہوتا ہے گریزاں جس دم
    تیری زلفیں میرے شانوں پر بکھر جاتی ہیں
    تھک کے سر جب کسی پتھر پہ ٹِکا دیتا ہوں
    تیری بانہیں میری گردن میں اتر آتی ہیں
    آنکھ لگتی ہے تو دل کو یہ گماں ہوتا ہے
    سرِ بالیں کوئی بیٹھا ہے بڑے پیار کے ساتھ
    میرے بکھرے ہوئے الجھے ہوئے بالوں میں کوئی
    انگلیاں پھیرتا جاتا ہے بڑے پیار کے ساتھ
    جانے کیوں تجھ سے دلِ زار کو اتنی ہے لگن
    کیسی کیسی نا تمناؤں کی تمہید ہے تو
    دن میں تو اک شب ماہتاب ہے میری خاطر
    سرد راتوں میں میرے واسطے خورشید ہے تو
    اپنی دیوانگئی شوق پہ ہنستا بھی ہوں میں
    اور پھر اپنے خیالات میں کھو جاتا ہوں
    تجھ کو اپنانے کی ہمت ہے نہ کھو دینے کا ظرف
    کبھی ہنستے کبھی روتے ہوئے سو جاتا ہوں
    کس کو معلوم میرے خوابوں کی تعبیر ہے کیا
    کون جانے میرے غم کی حقیقت کیا ہے
    میں سمجھ بھی لوں اگر اس کو محبت کا جنوں
    تجھ کو اس عشق جنوں خیز سے نسبت کیا ہے
    تجھ کو معلوم نہیں تجھ کو نہ ہو گا معلوم
    تیرے چہرے کے سادہ سے اچھوتے سے نقوش
    میرے تخیّل کو کیا رنگ عطا کرتے ہیں
    تیری زلفیں تیری آنکھیں تیرے عارض تیرے ہونٹ
    کیسی معصوم انجانی سی خطا کرتے ہیں

  10. The Following 2 Users Say Thank You to youngheart For This Useful Post:

    asiminf (12-12-2016), Khushi25 (12-12-2016)

  11. #76
    youngheart's Avatar
    youngheart is offline Premium Member
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,739
    Thanks
    3,631
    Thanked 5,578 Times in 1,639 Posts
    Time Online
    1 Month 1 Week 1 Day 5 Hours 29 Minutes 10 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Hour 23 Minutes 42 Seconds
    Rep Power
    1438

    Default

    اگلا لفظ میری طرف سے ہے

    ******************
    نشاط
    ******************

  12. The Following 2 Users Say Thank You to youngheart For This Useful Post:

    asiminf (12-12-2016), Khushi25 (12-12-2016)

  13. #77
    Khushi25's Avatar
    Khushi25 is offline Governor
    Join Date
    Apr 2015
    Location
    London
    Posts
    752
    Thanks
    2,919
    Thanked 2,152 Times in 696 Posts
    Time Online
    6 Days 7 Hours 51 Minutes 16 Seconds
    Avg. Time Online
    13 Minutes 16 Seconds
    Rep Power
    650

    Default

    Young heart
    I must say you are amazing
    What a collection and what a choice
    Your sharing full of spices
    Good work dear
    Keep it ip

  14. The Following User Says Thank You to Khushi25 For This Useful Post:

    youngheart (12-12-2016)

  15. #78
    asiminf's Avatar
    asiminf is offline Ambarsariya
    Join Date
    May 2009
    Location
    LAHORE
    Posts
    5,440
    Thanks
    44,548
    Thanked 16,514 Times in 4,576 Posts
    Time Online
    3 Weeks 2 Days 9 Hours 21 Minutes 40 Seconds
    Avg. Time Online
    17 Minutes 59 Seconds
    Rep Power
    2651

    Default

    کیا غضب کا نشاط باقی ہے
    تیری آنکھوں کے جھٹپٹے میں آج
    جشن رندان کیوں نہ ہو برپا
    تیری نظروں کے مےکدے میں آج
    ہم نے ڈھونڈا تو مل نہیں پائے
    دست و پا اس سنم کدے میں آج


    عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے
    کہ اپنے سائے سے سر پاؤں سے ہے دو قدم آگے
    قضا نے تھا مجھے چاہا خرابِ بادۂ الفت
    فقط خراب لکھا، بس نہ چل سکا قلم آگے
    غمِ زمانہ نے جھاڑی نشاطِ عشق کی مستی
    وگرنہ ہم بھی اٹھاتے تھے لذتِ الم آگے
    خدا کے واسطے داد اس جنونِ شوق کی دینا
    کہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے
    یہ عمر بھر جو پریشانیاں اٹھائی ہیں ہم نے
    تمھارے آئیو اے طرہ‌ ہاۓ خم بہ خم آگے
    دل و جگر میں پر افشاں جو ایک موجۂ خوں ہے
    ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے
    قسم جنازے پہ آنے کی میرے کھاتے ہیں غالبؔ
    ہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم آگے

    ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
    نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
    تجاہل پیشگی سے مدعا کیا
    کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا؟
    نوازش ہائے بے جا دیکھتا ہوں
    شکایت ہائے رنگیں کا گلا کیا
    نگاہِ بے محابا چاہتا ہوں
    تغافل ہائے تمکیں آزما کیا
    فروغِ شعلۂ خس یک نفَس ہے
    ہوس کو پاسِ ناموسِ وفا کیا
    نفس موجِ محیطِ بیخودی ہے
    تغافل ہائے ساقی کا گلا کیا
    دماغِ عطر پیراہن نہیں ہے
    غمِ آوارگی ہائے صبا کیا
    دلِ ہر قطرہ ہے سازِ اناَ البحر
    ہم اس کے ہیں، ہمارا پوچھنا کیا
    محابا کیا ہے، مَیں ضامن، اِدھر دیکھ
    شہیدانِ نگہ کا خوں بہا کیا
    سن اے غارت گرِ جنسِ وفا، سن
    شکستِ قیمتِ دل کی صدا کیا
    کیا کس نے جگر داری کا دعویٰ؟
    شکیبِ خاطرِ عاشق بھلا کیا
    یہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوں؟
    یہ کافر فتنۂ طاقت ربا کیا؟
    بلائے جاں ہے غالبؔ اس کی ہر بات
    عبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا!



    چند کلیاں نشاط کی چن کر
    مدتوں محوِ یاس رہتا ہوں
    تیرا ملنا خوشی کی بات سہی
    تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں

    عشق میں تیرے کوئی غم سر پہ لیا جو ہو سو ہو
    عیش و نشاط زندگی چھوڑ دیا جو ہو سو ہو

    عقل کے مدرسے سے اٹھ ، عشق کے مے کدے میں آ
    جام ای فنا و بےخودی اب تو پیا جو ہو سو ہو

    حجر کی جو مصیبتیں عرض کیں اسکے روبرو
    نازو ادا سے مسکرا کہنے لگا جو ہو سو ہو

    ہستی کے اس سراب میں رات کی رات بس رہے
    سبھی آدَم ہوا نمو ، پاؤں اٹھا جو ہو سو ہو . . . !

    نہ ہوا نصیب قرار جاں ہوس قرار بھی اب نہیں

    ترا انتظار بہت کیا ترا انتظار بھی اب نہیں
    تجھے کیا خبر مہ و سال نے ہمیں کیسے غم دیئے یہاں
    تری یادگار تھی اک خلش تری یادگار بھی اب نہیں
    نہ گلے رہے نہ گماں ہے نہ گزارشیں ہیں نہ گفتگو
    وہ نشاط وعدہ ءِ وصل کیا ہمیں اعتبار بھی اب نہیں
    رہے نام رشتہ رفتگاں نہ شکایتیں ہیں نہ شوخیاں
    کوئی عذر خواہ تو اب کہاں کوئی عذردار بھی اب نہیں
    کسے نذر دیں دل و جاں بہم کہ نہیں وہ کاکل خم بہ خم
    کسے ہر نفس کا حساب دیں کہ شمیم یار بھی اب نہیں
    وہ ہجوم دل زدگاں کہ تھا تجھے مژدہ ہو کہ بکھر گیا
    ترے آستانے کی خیرہو، سر رہ غبار بھی اب نہیں
    وہ جو اپنی جاں سے گزر گئے انہیں کیا خبر ہے کہ شہر میں
    کسی جاں نثار کا ذکر کیا کوئی سوگوار بھی اب نہیں
    نہیں اب تو اہل جنوں میں بھی وہ جو شوق شہر میں عام تھا
    وہ جو رنگ تھا کبھی کو بہ کو سرکوئے یار بھی اب نہیں



    - * - * - * - * - * - * - * - * -
    '' چاشنی''
    - * - * - * - * - * - * - * - * -
    Last edited by asiminf; 12-12-2016 at 11:01 AM.

  16. The Following 2 Users Say Thank You to asiminf For This Useful Post:

    Khushi25 (14-12-2016), youngheart (12-12-2016)

  17. #79
    youngheart's Avatar
    youngheart is offline Premium Member
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,739
    Thanks
    3,631
    Thanked 5,578 Times in 1,639 Posts
    Time Online
    1 Month 1 Week 1 Day 5 Hours 29 Minutes 10 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Hour 23 Minutes 42 Seconds
    Rep Power
    1438

    Default

    آہا
    زبردست عاصم بھائی
    کچھ انصاف کیا اس لفظ کے ساتھ اور ایک سے زیادہ نظمیں/اشعار شئر کیے

    یہ لفظ تجویز کرتے ہوئے میرے ذہن میں ساحر لدھیانوی کا وہی قطعہ تھا جو آپ نے شئیر کیا کہ "چند کلیاں نشاط کی چن کر"۔

    اور نشاط کے معنی ہیں :- خوشی، خرمی، انسباط، شادمانی، فرحت، عیش، طرب، بشاشت یا پھر خوشی اور شادمانی بڑھانے والا، فرحت انگیز

    کسی وقت میں فیض کی ایک نہایت خوبصورت نظم بہت اچھی لگتی تھی جس میں نشاط کا لفظ تھا

    یہ داغ‌ داغ اجالا، یہ شب گریدہ سحر
    وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
    یہ وہ سحر تو نہیں، جس کہ آرزو لے کر
    چلے تھے کہ یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
    فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
    کہیں تو ہو گا شب ست موج کا ساحل
    کہیں تو جا رکے گا سفینہء غم کا دل
    جواں لہو کی پر اسرار شاہراہوں سے
    چلے یار تو دامن پر کتنے ہاتھ پڑے
    دیار حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے
    پکارتی رہیں بانہیں، دن لاتے رہے
    بہت عزیز تھی لیکن سحر کی لگن
    بہت قریں تھا لیکن حسینان نور کا دامن
    سبک سبک تھی تمنا، دبی دبی تھکن
    سنا ہو بھی چکا ہے فراق ظلمت و نور
    سنا ہے ہو بھی چکا ہے وصال منزل و گام
    دل چکا ہے بہت اہل درد کا سوتر
    نشاط وصل حلال و عذاب ہجر حرام
    جگر کہ آگ، نظر کی امنگ، دل کی جلن
    کسی پہ چارہ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں
    کہاں سے آئی نگار صبا، کدھر کو گئ

    ابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
    ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی
    نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
    چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں‌ آئی

    -----------------------

    مزید کچھ اشعار بھی پیشِ خدمت ہیں

    مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
    اک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے
    (غالب)

    ------------------------------

    تُو کہ شمعِ شامِ فراق ہے دلِ نامراد سنبھل کے رو
    یہ کسی کی بزمِ نشاط ہے یہاں قطرہ قطرہ پگھل کے رو

    -----------------------------------

    نہ کیوں سیماب مجھ کو قدر ہو ویرانئ دل کی
    یہ بنیادِ نشاطِ دو جہاں معلوم ہوتی ہے

    -------------------------------

    وہ آئیں گے تو کھلیں گے نشاط وصل کے پھول
    شب فراق میں ان کی سخاوتوں کو نہ بھول
    یہی ہے کیا تری تقسیم گلستاں کا اصول
    کسی کو پھول ملیں اور کسی کو خار ببول

    ----------------------------

    بارِ الم اُٹھایا، رنگِ نِشاط دیکھا
    آئے نہیں ہیں یونہی انداز بے حسی کے



  18. #80
    youngheart's Avatar
    youngheart is offline Premium Member
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,739
    Thanks
    3,631
    Thanked 5,578 Times in 1,639 Posts
    Time Online
    1 Month 1 Week 1 Day 5 Hours 29 Minutes 10 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Hour 23 Minutes 42 Seconds
    Rep Power
    1438

    Default

    اور نوشی گیلانی یہ نظم مجھے بہت پسند ہے --- اس میں بھی لفظ نشاط ہے

    مِرے دُشمنوں سے کہو کوئی
    کسی گہری چال کے اہتمام کا سلسلہ ہی فضول ہے
    کہ شکست یوں بھی قبول ہے
    کبھی حوصلے جو مثال تھے
    وہ نہیں رہے
    مِرے حرف حرف کے جسم پر
    جو معانی کے پر و بال تھے وہ نہیں رہے
    مِری شاعری کے جہان کو
    کبھی تتلیوں، کبھی جگنوؤں سے سجائے پھرتے
    خیال تھے
    وہ نہیں رہے
    مِرے دشمنوں سے کہو کوئی
    وہ جو شام شہر وصال میں
    کوئی روشنی سی لیے ہوئے کسی لب پہ جتنے سوال تھے
    وہ نہیں رہے
    جو وفا کے باب میں وحشتوں کے کمال تھے،وہ نہیں رہے
    مِرے دُشمنوں سے کہو کوئی
    وہ کبھی جو عہدِ نشاط میں
    مُجھے خود پہ اِتنا غرور تھا کہیں کھو گیا
    وہ جو فاتحانہ خُمار میں
    مِرے سارے خواب نہال تھے
    وہ نہیں رہے
    کبھی دشت لشکر شام میں
    مِرے سُرخ رد مہ و سال تھے، وہ نہیں رہے
    کہ بس اب تو دل کی زباں پر
    فقط ایک قصّۂ حال ہے جو
    نڈھال ہے
    جو گئے دنوں کا ملال ہے
    مِرے دُشمنوں سے کہو کوئی

Page 8 of 17 FirstFirst ... 456789101112 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •