Page 9 of 18 FirstFirst ... 5678910111213 ... LastLast
Results 81 to 90 of 176

Thread: شعرلکھیں لفظ ہم بتاتے ھیں

  1. #81
    youngheart's Avatar
    youngheart is offline Premium Member
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,780
    Thanks
    3,678
    Thanked 5,692 Times in 1,676 Posts
    Time Online
    1 Month 1 Week 1 Day 20 Hours 21 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Hour 20 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    1443

    Default

    اور اب کچھ گندی شاعری بھی ہوجائے جس میں لفظ نشاط استعمال ہوا ہے

    چھوڑیے کس کے عاشق و معشوق
    ہم ہی جلاق ہیں ہمیں مجلوق
    زار نالی نہ پوچھ مقعد کی
    کارتوسوں سے تنگ ہے بندوق
    گھر بلاتی ہے پیار کرتی ہے
    میرا لوڑا ہے چوت کا معشوق
    لنڈ میرا کلید قفل نشاط
    گانڈ اس کی نشاط کا صندوق
    دیکھ یہ اہتمام عیش و طرب
    رنڈیاں چد رہی ہیں سوق بسوق
    دیکھ تنظیم و اتحاد و یقیں
    لوگ تھامے کھڑے ہیں جوق بہ جوق
    بے الف تھے حواریان کرام
    جانے لوقا ہی نام تھا یا لوق

    مشکل الفاظ کے معنی
    جلق: مٹھ لگانا ۔۔۔۔۔۔ جلاق:- مٹھیں مارنے والا ۔۔۔۔۔ مجلوق:- مٹھیں لگوانے والا
    کلید قفل:- تالے کی چابی
    مقعد: گانڈ کا سوراخ

  2. The Following User Says Thank You to youngheart For This Useful Post:

    Khushi25 (14-12-2016)

  3. #82
    youngheart's Avatar
    youngheart is offline Premium Member
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,780
    Thanks
    3,678
    Thanked 5,692 Times in 1,676 Posts
    Time Online
    1 Month 1 Week 1 Day 20 Hours 21 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Hour 20 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    1443

    Default

    یار عاصم صاحب --- مجھے اپنی تھریڈز میں پوسٹ کرنے بعد ایڈیٹ کی آپشن چاہیے
    کبھی کبھی کوئی غلطی ہوجاتی ہے تو درست نہیں کرپاتا
    اگر یہ ہوسکے تو بڑی مہربانی ہوگی

  4. The Following User Says Thank You to youngheart For This Useful Post:

    Khushi25 (14-12-2016)

  5. #83
    youngheart's Avatar
    youngheart is offline Premium Member
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,780
    Thanks
    3,678
    Thanked 5,692 Times in 1,676 Posts
    Time Online
    1 Month 1 Week 1 Day 20 Hours 21 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Hour 20 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    1443

    Default


    چاشنی لفظ پر شاعری

    آنسو ٹپک رہے ہیں آنکھوں کی چاشنی سے
    شیریں لبوں کے غم میں شربت سے گھل رہے ہیں

    -----------------------------

    ہر محبت کی بنا ہے چاشنی
    ہر لگن میں مدعا موجود ہے

    ------------------------

    اس تلخیِ حسرت پر، کیا چاشنیِ الفت
    کب ہم کو فلک دیتا، گر غم میں مزا ہوتا

    --------------------------

    حیاتِ جاودانی کی تھی خواہش
    پلایا زہر اس نے چاشنی سے

    ------------------------

    کسی زباں میں جو مرضی گھسیڑ دیتا ہے
    ادب کے خیر سے بخیے ادھیڑ دیتا ہے
    یہ آپ لوگوں کا اردو سے پیار ہے ورنہ
    ثمر میں چاشنی اسکا ہی پیڑ دیتا ہے
    زبان صاف یہاں بولتا نہیں کوئی
    خلوص و پیار سے اردو کو چھیڑ دیتا ہے
    خیالؔ تم بھی بہت اردو دان بنتےہو
    تمھارا لہجہ بھی دامن سکیڑ دیتا ہے

    --------------------------
    اور پھر پروین شاکر کی ہی نظم

    کوئی رات میرے آشنا مجھے یوں بھی تو نصیب ہو
    نا خیال ہو لباس کا وہ اتنا میرے قریب ہو

    بدن کی گرم آنْچ سے میری آرزو کو آگ دے
    میرا جوش بھی بہک اُٹھے میرا حال بھی عجیب ہو

    تیرے چاشنی وجود کا میں سارا رس نچوڑ لوں
    پھر تو ہی میرا مرض ہو پھر تو ہی میرا طبیب ہو




    اور اب اگلا لفظ میری طرف سے ہے

    ************************
    آنچ
    ************************

  6. The Following User Says Thank You to youngheart For This Useful Post:

    Khushi25 (14-12-2016)

  7. #84
    Khushi25's Avatar
    Khushi25 is offline Governor
    Join Date
    Apr 2015
    Location
    London
    Posts
    818
    Thanks
    3,035
    Thanked 2,427 Times in 764 Posts
    Time Online
    6 Days 16 Hours 46 Minutes 27 Seconds
    Avg. Time Online
    13 Minutes 19 Seconds
    Rep Power
    661

    Default


    عاصم جی
    زبردست نشاط کے لفظ کے ساتھ تو آپ نے انصاف کر دیا
    بہت خوب

  8. The Following User Says Thank You to Khushi25 For This Useful Post:

    youngheart (14-12-2016)

  9. #85
    asiminf's Avatar
    asiminf is offline Ambarsariya
    Join Date
    May 2009
    Location
    LAHORE
    Posts
    5,441
    Thanks
    44,577
    Thanked 16,553 Times in 4,577 Posts
    Time Online
    3 Weeks 2 Days 22 Hours 42 Minutes 1 Second
    Avg. Time Online
    18 Minutes 4 Seconds
    Rep Power
    2651

    Default

    جون ایلیا کہ کچھ بہت ہی خوبصورت اشعار پیشِ خذمت ہیں

    نشہ ناز نے بے حال کیا ہے تم کو
    اپنے ہے زور میں کم زور ہوئی جاتی ہو
    میں کوئی آگ نہیں، آنچ نہیں، دھوپ نہیں
    کیوں پسینہ میں شرابور ہوئی جاتی ہو
    ــــــــــــــــــــــــــــ

    تم ہو جاناں شباب و حسن کی آگ
    آگ کی طرح اپنی آنچ میں گم
    پھر مرے بازوؤں پہ جھک آئیں
    لو اب مجھے جلا ہی ڈالو تم
    *****
    ــــــــــــــــــــــــــــ

    شاعر نامعلوم
    انس کی آنچ ذرا تیز کرو
    کانچ کا جسم پگھل جانے دو
    لام خالی ہے اسے مت چھیڑو
    نون کے پیٹ میں نقطہ دیکھو
    رات کے پردے الٹتے جاؤ
    چاند کا جسم برہنہ بھی ہو
    سر اٹھاؤ نہ کنار دریا
    موج کو سر سے گزر جانے دو
    خودبخود شاخ لچک جائے گی
    پھل سے بھرپور تو ہو لینے دو
    آنکھ کھلتے ہی یہ آواز آئی
    چور گھس آیا ہے گھر میں پکڑو
    انگلیاں چاٹتے رہ جاؤ گے
    تم کبھی اپنا لہو چکھ دیکھو
    موت سڑکوں پہ پھرا کرتی ہے
    گھر سے نکلو تو سنبھل کر نکلو
    کون اب شعر کہے نظم لکھے
    شہر ہی چھوڑ گئی جب زیبو
    تم کو دعویٰ ہے سخن فہمی کا
    جاؤ غالبؔ کے طرف دار بنو
    کل وہ عادلؔ سے یہ فرماتے تھے
    شاعری چھوڑ کے شادی کر لو
    ــــــــــــــــــــــــــــ
    یوں عشق کی آنچ کھا کے رنگ اور کھلے
    یوں سوز دروں سے روئے رنگیں چمکے
    جیسے کچھ دن چڑھے گلستانوں میں
    شبنم سوکھے تو گل کا چہرہ نکھرے
    ــــــــــــــــــــــــــــ
    دیارِ غیر میں سوزِ وطن کی آنچ نہ پوچھ
    خزاں میں صبحِ بہارِ چمن کی آنچ نہ پوچھ

    فضا ہے دہکی ہوئی، رقص میں ہیں شعلہء گل
    جہاں وہ شوخ ہے اس انجمن کی آنچ نہ پوچھ

    قبا میں جسم ہے یا شعلہ زیرِ پردہء ساز
    بدن سے لپٹے ہوئے پیرہن کی آنچ نہ پوچھ

    کرن سی تیر گئی جس طرف وہ آنکھ اٹھی
    نگاہِ شوخِ غزالِ ختن کی آنج نہ پوچھ

    فضا میں برق سی رہ رہ کے کوند جاتی ہے
    سکوت میں بھی کسی کے دہن کی آنچ نہ پوچھ

    حجاب میں بھی اُسے دیکھنا قیامت ہے
    نقاب میں بھی رخِ شعلہ زن کی آنچ نہ پوچھ

    پیامِ زیرلبی پھونک دے نہ پردہء دل
    کسی کی نرمیِ طرزِ سخن کی آنچ نہ پوچھ

    لپک رہے ہیں ہیں وہ شعلے کہ ہونٹ جلتے ہیں
    نہ پوچھ موجِ شرابِ کہن کی آنچ نہ پوچھ

    یہ سوز و ساز نہ جنت میں ہے نہ دوزخ میں
    دلوں میں کیا ہے نشاط و محن کی آنچ نہ پوچھ

    دیے ہی جاتی ہے ترغیبِ جرم آدم کو
    غضب ہے سوزِ دلِ اہرمن کی آنچ نہ پوچھ

    نہیں ہے سہل ہم آہنگیِ بنی آدم
    دلوں میں کشمکشِ ما و من کی آنچ نہ پوچھ

    فراق آئینہ در آئینہ ہے حسُنِ نگار
    صباحتِ چمن اندر چمن کی آنچ نہ پوچھ

    ؔرگھوپتی سہائے فراق گھورکھپوری

    ــــــــــــــــــــــــــــ
    گھٹن کی آنچ میں جب سے جلا ہے
    بدن ، پیہم ادھڑتا جا رہا ہے


    نگاہِ نارسا تک پر کھلا ہے
    ہمارا درد ، پیوندِ قبا ہے


    پہن لے دام ، لقمے کی ہوس میں
    پرندہ عاقبت کب دیکھتا ہے


    اثر نا پہ جتلانے کو اپنا
    سمندر ، ہم پہ موجیں تانتا ہے


    بھنویں جس کی ، کمانوں سی تنی ہیں
    قرابت دار وہ ، دربار کا ہے


    کسی کے ذوق کی تسکین ٹھہرا
    ہرن کا سر ، کہیں آ کر سجا ہے


    دیا جھٹکا ذرا سا زلزلے نے
    مکاں لیکن ابھی تک ، ڈولتا ہے


    لگے سن کر سخن چاہت کا ماجد
    کہیں تنور میں ، چھینٹا پڑا ہے
    ــــــــــــــــــــــــــــ



    - * - * - * - * - * - * - * - * -
    ''
    مناجات


    ''

    - * - * - * - * - * - * - * - * -

    Last edited by asiminf; 14-12-2016 at 11:10 AM.

  10. The Following 3 Users Say Thank You to asiminf For This Useful Post:

    Danish ch (14-12-2016), Khushi25 (14-12-2016), youngheart (14-12-2016)

  11. #86
    youngheart's Avatar
    youngheart is offline Premium Member
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,780
    Thanks
    3,678
    Thanked 5,692 Times in 1,676 Posts
    Time Online
    1 Month 1 Week 1 Day 20 Hours 21 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Hour 20 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    1443

    Default

    واہ جی واہ کیا بات ہے عاصم صاحب
    بہت ہی عمدہ

    آنچ کے لفظ پر بہت عمدہ انتخاب شئر کیا ہے
    اسی آنچ لفظ پر میری طرف سے ساحر لدھیانوی کی خوبصورت نظم پیش خدمت ہے

    تیرے ہونٹوں پہ تبسم کی وہ ہلکی سی لکیر
    میرے تخیل میں رہ رہ کے جھلک اٹھتی ہے
    یوں اچانک ترے عارض کا خیال آتا ہے
    جیسے ظلمت میں کوئی شمع بھڑک اٹھتی ہے

    تیرے پیراہنِ رنگیں کی جنوں خیز مہک
    خواب بن بن کے مرے ذہن میں لہراتی ہے
    رات کی سرد خموشی میں ہر اک جھونکے سے
    ترے انفاس، ترے جسم کی آنچ آتی ہے

    میں سلگتے ہوئے رازوں کو عیاں تو کردوں
    لیکن ان رازوں کی تشہیر سے جی ڈرتا ہے
    رات کے خواب اجالے میں بیاں تو کردوں
    ان حسین خوابوں کی تعبیر سے جی ڈرتا ہے

    تیری سانسوں کی تھکن، تیری نگاہوں کا سکوت
    درحقیقت کوئی رنگین شرارت ہی نہ ہو
    میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں
    وہ تبسم، وہ تکلم تری عادت ہی نہ ہو

    سوچتا ہوں کہ تجھے مل کے میں جس سوچ میں ہوں
    پہلے اس سوچ کا مقسوم سمجھ لوں تو کہوں
    میں ترے شہر میں انجان ہوں پردیسی ہوں
    تیرے الطاف کا مفہوم سمجھ لوں تو کہوں

    کہیں ایسا نہ ہو پاوں مرے تھرا جائیں
    اور تری مرمریں بانہوں کا سہارا نہ ملے
    اشک بہتے رہیں خاموش سیہ راتوں میں
    اور ترے ریشمی انچل کا کنارا نہ ملے

  12. The Following 2 Users Say Thank You to youngheart For This Useful Post:

    asiminf (14-12-2016), Danish ch (14-12-2016)

  13. #87
    asiminf's Avatar
    asiminf is offline Ambarsariya
    Join Date
    May 2009
    Location
    LAHORE
    Posts
    5,441
    Thanks
    44,577
    Thanked 16,553 Times in 4,577 Posts
    Time Online
    3 Weeks 2 Days 22 Hours 42 Minutes 1 Second
    Avg. Time Online
    18 Minutes 4 Seconds
    Rep Power
    2651

    Default

    Quote Originally Posted by youngheart View Post
    واہ جی واہ کیا بات ہے عاصم صاحب
    بہت ہی عمدہ

    آنچ کے لفظ پر بہت عمدہ انتخاب شئر کیا ہے
    اسی آنچ لفظ پر میری طرف سے ساحر لدھیانوی کی خوبصورت نظم پیش خدمت ہے

    تیرے ہونٹوں پہ تبسم کی وہ ہلکی سی لکیر
    میرے تخیل میں رہ رہ کے جھلک اٹھتی ہے
    یوں اچانک ترے عارض کا خیال آتا ہے
    جیسے ظلمت میں کوئی شمع بھڑک اٹھتی ہے

    تیرے پیراہنِ رنگیں کی جنوں خیز مہک
    خواب بن بن کے مرے ذہن میں لہراتی ہے
    رات کی سرد خموشی میں ہر اک جھونکے سے
    ترے انفاس، ترے جسم کی آنچ آتی ہے

    میں سلگتے ہوئے رازوں کو عیاں تو کردوں
    لیکن ان رازوں کی تشہیر سے جی ڈرتا ہے
    رات کے خواب اجالے میں بیاں تو کردوں
    ان حسین خوابوں کی تعبیر سے جی ڈرتا ہے

    تیری سانسوں کی تھکن، تیری نگاہوں کا سکوت
    درحقیقت کوئی رنگین شرارت ہی نہ ہو
    میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں
    وہ تبسم، وہ تکلم تری عادت ہی نہ ہو

    سوچتا ہوں کہ تجھے مل کے میں جس سوچ میں ہوں
    پہلے اس سوچ کا مقسوم سمجھ لوں تو کہوں
    میں ترے شہر میں انجان ہوں پردیسی ہوں
    تیرے الطاف کا مفہوم سمجھ لوں تو کہوں

    کہیں ایسا نہ ہو پاوں مرے تھرا جائیں
    اور تری مرمریں بانہوں کا سہارا نہ ملے
    اشک بہتے رہیں خاموش سیہ راتوں میں
    اور ترے ریشمی انچل کا کنارا نہ ملے

    ینگر ہارٹ بھائی کیا خوب صورت نظم ہے یقن کریں لودھیانوی صاحب کی اس نظم کو بہت یاد کیا مگر اُس وقت یاد ہی نہیں آئی
    مزہ آگیا اور اس نظم کا ایک مصرا جو کہ جانِ نظم ہے
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــ
    تیری سانسوں کی تھکن، تیری نگاہوں کا سکوت
    درحقیقت کوئی رنگین شرارت ہی نہ ہو
    میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں
    وہ تبسم، وہ تکلم تری عادت ہی نہ ہو
    ـــــــــــــــــــــــــــــــ
    ہائے ہائے بہت ہی اعلیٰ

  14. The Following 3 Users Say Thank You to asiminf For This Useful Post:

    Danish ch (14-12-2016), Khushi25 (15-12-2016), youngheart (14-12-2016)

  15. #88
    youngheart's Avatar
    youngheart is offline Premium Member
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,780
    Thanks
    3,678
    Thanked 5,692 Times in 1,676 Posts
    Time Online
    1 Month 1 Week 1 Day 20 Hours 21 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Hour 20 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    1443

    Default

    مناجات کے لفظ سے جو پہلی غزل ذہن میں آتی ہے وہ فیض کہ مشہور زمانہ غزل ہے

    ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
    پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد

    کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
    خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

    تھے بہت بے درد لمحے ختمِ درد عشق کے
    تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

    دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
    کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد

    ان سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کیئے
    ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

  16. The Following 2 Users Say Thank You to youngheart For This Useful Post:

    asiminf (15-12-2016), Khushi25 (15-12-2016)

  17. #89
    youngheart's Avatar
    youngheart is offline Premium Member
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,780
    Thanks
    3,678
    Thanked 5,692 Times in 1,676 Posts
    Time Online
    1 Month 1 Week 1 Day 20 Hours 21 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Hour 20 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    1443

    Default


    کچھ مزید شاعری جہاں لفظ مناجات موجود ہے

    سب اداس لوگوں کی ایک سی کہانی ہے

    ایک جیسے لہجے ہیں ، ایک جیسی تانیں ہیں
    شہر یار پر سب کی ایک سی اڑانیں ہیں
    سب اداس لوگوں کے بے مراد ہاتھوں پر
    ایک سی لکریں ہیں
    سب کے زرد ہونٹوں پر
    قرب کی مناجاتیں ، وصل کی دعائیں ہیں
    بے چراغ راتوں میں ، بے شمار شکنوں کے
    ایک سے فسانے ہیں
    کھکھلاتے لمحوں میں بے وجہ اداسی کے
    ایک سے بہانے ہیں
    اشک آنکھ میں رکھ ، کھل کے مسکرانے کی
    ایک جیسی تشریحیں ، ایک سی وضاحت ہے
    ایک جیسے شعلوں میں سب کے خواب جلتے ہیں
    ایک جیسی باتوں پر سب کے دل دھڑکتے ہیں

    ------------------------------

    مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے
    بھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے
    عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر
    آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
    دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کی
    ہاں کچھ نہ کچھ تلافیِ مافات چاہیے
    سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوّری
    تقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے
    مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
    اک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے
    ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جدا
    ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
    سر پائے خم پہ چاہیے ہنگامِ بیخودی
    رو سوئے قبلہ وقتِ مناجات چاہیے
    یعنی بہ حسبِ گردشِ پیمانۂ صفات
    عارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے
    نشو و نما ہے اصل سے غالبؔ فروع کو
    خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
    غالب

    ----------------------------

    مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند
    مجبور کہ ہونٹوں پہ سوالات کی مانند
    دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے
    سیلاب سے برباد مکانات کی مانند
    میں ان میں بھٹکے ہوئے جگنو کی طرح ہوں
    اس شخص کی آنکھیں ہیں کسی رات کی مانند
    دل روز سجاتا ہوں میں دلہن کی طرح سے
    غم روز چلے آتے ہیں بارات کی مانند
    اب یہ بھی نہیں یاد کہ کیا نام تھا اس کا
    جس شخص کو مانگا تھا مناجات کی مانند
    کس درجہ مقدس ہے تیرے قرب کی خواہش
    معصوم سے بچے کے خیالات کی مانند
    اس شخص سے ملنا محسن میرا ممکن ہی نہیں ہے
    میں پیاس کا صحرا ہوں وہ برسات کی مانند


    اگلا لفظ میری طرف سے ہے
    **********************
    پیاس
    **********************



  18. The Following User Says Thank You to youngheart For This Useful Post:

    asiminf (15-12-2016)

  19. #90
    Khushi25's Avatar
    Khushi25 is offline Governor
    Join Date
    Apr 2015
    Location
    London
    Posts
    818
    Thanks
    3,035
    Thanked 2,427 Times in 764 Posts
    Time Online
    6 Days 16 Hours 46 Minutes 27 Seconds
    Avg. Time Online
    13 Minutes 19 Seconds
    Rep Power
    661

    Default

    Quote Originally Posted by youngheart View Post
    مناجات کے لفظ سے جو پہلی غزل ذہن میں آتی ہے وہ فیض کہ مشہور زمانہ غزل ہے

    ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
    پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد

    کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
    خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

    تھے بہت بے درد لمحے ختمِ درد عشق کے
    تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

    دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
    کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد

    ان سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کیئے
    ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
    زبردست واہ بھئ واہ کیا کہنے
    یہ میری بیسٹ غزل ہے
    کیا یاد دلائی ہے اور نیرہ نور کی آواز نے چار چاند لگائے ہیں
    اس غزل میں

  20. The Following User Says Thank You to Khushi25 For This Useful Post:

    youngheart (15-12-2016)

Page 9 of 18 FirstFirst ... 5678910111213 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •