Page 4 of 4 FirstFirst 1234
Results 31 to 37 of 37

Thread: حنا کی ٹیوشن

  1. #31
    anwarulh is offline Premium Member
    Join Date
    Aug 2012
    Posts
    83
    Thanks
    1
    Thanked 155 Times in 56 Posts
    Time Online
    4 Days 1 Hour 17 Minutes 37 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 37 Seconds
    Rep Power
    14

    Default

    Update karo please. ...

  2. The Following User Says Thank You to anwarulh For This Useful Post:

    zainee (29-12-2016)

  3. #32
    ruldguld123 is offline Premium Member
    Join Date
    Sep 2015
    Posts
    119
    Thanks
    885
    Thanked 171 Times in 94 Posts
    Time Online
    5 Days 8 Hours 23 Minutes 26 Seconds
    Avg. Time Online
    15 Minutes 20 Seconds
    Rep Power
    14

    Default

    update kar do jnb. Ya master ka hakeem se elaj chal raha he?

  4. The Following User Says Thank You to ruldguld123 For This Useful Post:

    zainee (29-12-2016)

  5. #33
    zeem8187's Avatar
    zeem8187 is offline Premium Member
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    London
    Posts
    446
    Thanks
    56
    Thanked 1,073 Times in 383 Posts
    Time Online
    6 Days 15 Hours 12 Minutes 32 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 12 Seconds
    Rep Power
    53

    Default

    اپڈیٹ ہے کہ بس
    8187

  6. The Following User Says Thank You to zeem8187 For This Useful Post:

    zainee (29-12-2016)

  7. #34
    sababbw is offline Aam log
    Join Date
    Apr 2016
    Posts
    2
    Thanks
    3
    Thanked 1 Time in 1 Post
    Time Online
    39 Minutes 43 Seconds
    Avg. Time Online
    8 Seconds
    Rep Power
    0

    Default

    nice hot tution yeh to sexulgy ki tution ho gai :P

  8. The Following User Says Thank You to sababbw For This Useful Post:

    zainee (29-12-2016)

  9. #35
    zainee's Avatar
    zainee is offline Premium Member
    Join Date
    Jun 2011
    Location
    Lahore
    Age
    24
    Posts
    374
    Thanks
    2,812
    Thanked 1,662 Times in 326 Posts
    Time Online
    3 Days 3 Hours 30 Minutes 58 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 28 Seconds
    Rep Power
    675

    Default

    پھر دن گزرتے رہے۔ میرا اُسے پڑھاتے رہنے کا معمول جاری رہا۔ مگر رضائی میں ایک ساتھ بیٹھے رہنے سے ہماری چھیڑ چھاڑ بھی جاری رہی۔ پھر کچھ دنوں کے لیے اس کی دادی اماں پھرسے اپنے گھر واپس چلی گئیں تو ہم اندر والے کمرے میں پھر سے اکیلے ہو گئے اور ہنسی مذاق کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو ٹچ کرنے کا سلسلہ بھی چلتا رہتا۔ کبھی گرم ہونا شروع ہوتے تو ایک دوسرے کو کِس بھی کر لیتے۔۔۔
    پھر ایک دن میں جی ایم آئی کمپنی کی ایک کانفرنس میں گیا تو اس دن کوٹ پینٹ میں ملبوس تھا۔ اسی طرح اُسے پڑھانے چلا گیا۔ اُس کی آنکھیں ہی بتانے لگ پڑیں کہ میں کتنا خوبصورت لگ رہا ہوں اور پھر اس نے بہت بہت تعریف بھی کی۔ چناں چہ جب ہم پڑھنے الگ کمرے میں بیٹھ گئے تو کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد میں نے اس سے کہا کہ چلیے پڑھائی شروع کرتے ہیں۔ لیکن اس نے ایک ادائے ناز سے کہا۔۔ اوں ہوں۔۔۔ آج پڑھائی نہیں کرنی۔ بس آج آپ سے باتیں کرنی ہیں۔ میں مسکرا دیا۔ اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ میری سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔ وہ مجھ سے باتیں کر رہی تھی لیکن میرا دل کچھ اور کرنے کو چاہنے لگا تھا۔ میں ہوں ہاں میں اس کو جواب دیتا رہا اور مسکرا کر اس کی جانب دیکھتا بھی رہا۔ کچھ دیر میں اس نے نوٹ کر لیا کہ میں اسے مسلسل دیکھ رہا ہوں۔ تو شرما کر کہنے لگی کہ کیا ہوا؟ میں نے مسکرا کر کہا۔ کچھ نہیں۔
    پھر آگے بڑھ کر اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے۔ وہ شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ خاموش ہو گئی۔ہونٹ چومتے ہی میرے اندر کھلبلی مچ گئی۔وہ سرھانے کی طرف تھی اور میں ذرا نیچے کی طرف بیٹھا تھا۔ فرش پر ہی بستر بچھا تھا لیکن آج بالکل دروازے کے سامنے تھا۔ دروازہ بند کیا ہوا تھا۔ میں نے غیر محسوس طور سے اپنے کانوں کے ذریعے اندازہ لگایا کہ باہر ہال میں تو نہیں کوئی پھر رہا۔ کوئی نہیں تھا۔ اس کے امی ابو بیٹھک ہی میں اپنے کام میں لگے ہوئے تھے۔ چناں چہ میں رضائی کا کنارہ اٹھا کراُس کی ٹانگیں سیدھی کرتے ہوئے اس کے اوپر آ گیا۔ وہ مسکراتے ہوئے مجھے دیکھ لیتی تھی، زیادہ تر نظریں نیچے ہی کیے رکھتی تھی۔ ایک دفعہ اس نے بھی سنجیدہ انداز میں دروازے کی جانب دیکھ کر تسلی کر لی تھی اور پھر سے اسی رومانوی ماحول میں واپس آ گئی تھی۔ میں نے اسے بازوؤں میں بھرلیا اور کچھ دیر یوں ہی بھرے رکھا۔ پھر اس کے چہرے کو چومتا ہوا اسکے ہونٹ چوسنے لگا۔ ہماری سانسیں بہت تیز ہو چکی تھیں۔ کچھ دیر یوں ہی چومتے رہنے کے بعد میں نے آرام سے اٹھا اور پینٹ کی زپ کھولنے لگا۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ میں نے مسکرا کر اس کی جانب دیکھا تو اس نے نفی میں سر ہلا کر مسکراتے ہوئے آنکھیں جھکا لیں۔ پھر ہلکی آواز میں بولی۔ امی آ جائیں گی اس لیے ۔۔۔
    میں بات سمجھ گیا مگر دل کہاں ماننے والا تھا۔ میں دوبارہ زپ کھولنے لگا اور اس کے روکنے کے باوجود زپ کھول کر پھر سے رضائی لے کر اس کے اوپر لیٹ گیا۔ اس نے مجھے بازوؤں میں بھر لیا تھا۔ میرا ایک ہاتھ دھیرے سے نیچے گیا اور میں نےآہستگی سے انڈرویر کے اندر تنا ہوا عضو باہر کھینچا۔ اُف۔۔۔۔ اس وقت تو اپنے ہاتھ کی ٹچ بھی جان لیوا لگ رہا تھا۔ کچھ سردی ہونے کی وجہ سے اس کی گرمی ہیجان کو اور بڑھا رہی تھی۔ باہر نکالتے ہی میں نے انگلیوں سے اس کی شلوار کا الاسٹک تلاش کیا اور کھینچتے ہوئے عضو شلوار میں ڈال دیا۔ اس کے چہرے کے تاثرات ایک دم بدلے۔ اس نے ہونٹ کھولتے ہوئے اور خلا میں کہیں دور دیکھتے ہوئے آہ کیا۔ اور پھر میری جانب دیکھا۔ اب اس کے چہرے پر نہ تو کوئی مسکراہٹ تھی، نہ ہی سنجیدگی۔ مگر انتہائی خوبصورت تاثرات۔ سنجیدگی مگر شہوت میں بھری ہوئی سنجیدگی۔ عضو اس کی لائن پر لگ رہا تھا۔ اور میں اسے بار بار آگے پیچھے کر رہا تھا۔ اس کے ابھار میرے سینے کے نیچے دبے ہوئے تھے اوروہ مجھے کمرمیں بازو حمائل کر کے خود سے لپٹائے ہوئے تھی۔ میرے آگے پیچھے ہونے کی وجہ سے اسے میری چہرہ اور مجھے اس کے چہرے سے لے کر کاندھوں تک کا حصہ آہستہ آہستہ ہلتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ یہ خفیف سی حرکت بہت مزا دے رہی تھی۔ میں نے عضو کو ذرا اور نیچے لے جاتے ہوئے ٹھیک سے لائن پر اڈجسٹ کیا اور پھر سے دباتے ہوئے آگے پیچھے ہونے لگا۔ اب میرے عضو کا اوپری حصہ مکمل اس کی لکیر میں رگڑ کھا رہا تھا۔ جب کہ نچلا حصہ اس کی شلوار اور میرے جسم کے درمیان دبا ہوا رگڑ کھا رہا تھا۔ اِس سے مجھے جو لذت مل رہی تھی، بتا نہیں سکتا۔ اُس نے ایک لمبی آہ بھری اور پھر اس کی آنکھیں آدھی اوپر چڑھ گئیں۔ اب آہ کی آوازبھی نہیں آ رہی تھی۔ بس سانسیں چل رہی تھیں۔۔۔ مدھم مدھم۔۔۔ گرم گرم۔۔۔ اور اُسے صرف میرا لمس محسوس ہو رہا تھا۔
    ہم کچھ دیر یوں ہی ایک دوسرے میں کھوئے رہے۔ ایک دم باہر سے بیٹھک کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ اور دونوں کا نشہ ہرن ہو گیا۔ میں بجلی کی سی تیزی سے اس کے اوپر سے اترا اور اس نے بھی شلوار کھینچتے ہی جلدی سے رضائی اتاری اور سرھانے کی طرف بیٹھ کر رضائی اپنے ابھاروں تک اوپر کر لی۔ جب کہ میں پیچھے کھسکتے ہوئے اس کے پاؤں کی طرف بیٹھ گیا۔ اتنی دیر تک قدموں کی چاپ بالکل قریب آ گئی تھی۔ میں نے جلدی سے کتاب پکڑی اور اس کی ورق گردانی کرنے لگا۔ زپ بند کرنے کا وقت ہی نہیں رہا تھا۔ رضائی نے عزت رکھ لی۔ کہ اسے میں نے اپنے اوپر لے لیا۔ چوکڑی مار کر بیٹھنے میں وہ میرے پیٹ تک آ گئی تھی۔ اس لیے زپ والا حصہ چھپ گیا۔ اتنے میں اس کی امی اندر داخل ہوئیں۔ میں نے ان کی طرف مسکرا کر دیکھا اور پھر کتاب پر دیکھ کر حنا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ٹھیک ہے، یہ دو سوال جلدی سے دیکھو، کیوں کہ ان میں تم کچھ اَڑ رہی ہو۔ باقی سوال تو پکے یاد ہو گئے ہیں۔ میں پانچ منٹ میں سنتا ہوں۔ اور اس نے مسکرا کر مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔ جی سر! بس ابھی دو منٹ میں سناتا ہوں۔ اور میں معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھنے لگا۔ آنکھوں آنکھوں میں اسے کہا۔ شکر ہے بال بال بچ گئے۔ اس کی امی میری پشت کی طرف پڑے سامان میں سے کچھ لینے آئی تھیں۔ اس لیے کچھ فاصلے پر تھیں اور اپنے کام میں لگی ہوئی تھیں۔
    اُن کے جاتے ہی میں نے جلدی سے زپ بند کی اور حنا ایک بار پھر مجھے دیکھ کر شرارتی مسکراہٹ لبوں پر لے آئی۔ میں نے بھی جھجکتے ہوئے اور ذرا سی شرم کے ساتھ زپ بند کرکے کوٹ اور شرٹ وغیرہ سیدھی کر کے ٹھیک طرح سے بیٹھ گیا۔
    اس کے دو چار دن بعد پھر سے کچھ یوں ہی ہوا۔ شام کے وقت میں پڑھانے گیا تو اس کے امی ابو کسی کام سے نکل گئے۔ میں کچھ دیر تو پڑھاتا رہا۔ لیکن ان کے جانے کے بعد ہی میرے بدن میں جو ہلچل مچ گئی تھی بالآخر جب کنٹرول نہ ہو سکی تو میں نے کچھ کرنے کا سوچا۔ میری مدد لائٹ نے بھی کی۔ وہ اس طرح کہ بتی چلی گئی۔ چناں چہ اسی وقت میں نے اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے اس کے گال پر بوسہ دیا۔ کتاب بند کرکے رکھتے ہوئے ہی وہ جان گئی تھی کہ اب کچھ ہونے والا ہے۔ اس نے بھی شرما کر مسکراتے ہوئے میرے گرد بانہیں حمائل کر کے مجھے زور سے اپنے ساتھ بھینچ لیا۔ میں نے گال چومتے ہوئے اس کے ہونٹ چومے۔ پھر آڑے ترچھے بیٹھے ہونے کی وجہ سے صحیح طرح نہ چومے جانے پر میں نے اسے گود میں لٹا لیا اور اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھتے ہی اپنے ہونٹ کھول کر اس کے دونوں ہونٹ اپنے ہونٹوں میں بھر لیے۔ چوستے ہوئے اس کے سر کے نیچے یعنی میری گود میں عضو میں تناؤ آنے لگا۔شلوار قمیص پہنے ہوئے ہونے کی وجہ سے اور گود میں اوپر ہی پڑے ہوئے ہونے کی وجہ سے اکڑتے ساتھ ہی وہ حنا کے سر کے ساتھ لگنے لگا۔ حنا کو بھی محسوس ہو گیا کہ منے میاں جوان ہو گئے ہیں۔ اب میں اس کےہونٹوں کو زور سے چوستے ہوئے اپنے عضو پر اس کا سر دبانے لگا۔ مجھے اس سے بے پناہ مزا مل رہا تھا۔ وہ بھی آنکھیں بند کیے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ پھر میں نے اس سے کہا کہ چلو اٹھو۔ وہ اٹھ کر بیٹھی تو میں نے اُسے صحیح سے لٹایا اور اس کے اوپر آ گیا۔ وہ کہنے لگی۔ نہ کریں امی ابو ابھی آ جائیں گے۔ مگر مجھ پر تو بھوت سوار ہو چکا تھا۔ میں نے کہا کہ نہیں آتے ابھی تو گئے ہیں۔ وہ کہنے لگی کہ نہیں وہ یہیں گئے ہیں۔ جلد ہی آ جائیں گے۔ آپ ابھی نہ کریں نا۔۔۔ میں کہاں ماننے والا تھا۔ مجھے لگا کہ شاید ڈر کی وجہ سے ایسا کہہ رہی ہے۔ لیکن اتنی جلدی وہ کہاں آنے والے ہیں۔ میں نے اسے اٹھا کر صوفے پر لٹایا اور اس کے اوپر آتے تک میں بہت آہستہ سے اپنا نالا کھول چکا تھا، جس کا اسے علم نہیں ہو سکا۔ صوفے پر لٹا کر اس کے اوپر چڑھتے ہی میں نے اس کے ابھار ہاتھوں میں پکڑے اور انھیں زور سے بھینچا۔ اس کے منہ سے زور کی سسکاری نکلی۔ میں نے مسلسل دبانے لگا اور قمیص کے گلے سے جھانکتے سینے پر بوسے ثبت کرنے لگا۔ پھر ابھاروں کی لائن تک چومتا اور چوستا رہا۔ اور اچانک صوفے سے اتر کر اس کی شلوار کھینچ کر گھٹنوں تک کر دی۔ پھر اس کے اوپر چڑھا تو جلدی سے اپنا عضو پکڑ کر اس کی شرمگاہ پر ٹِکا دیا۔ وہ تو جیسے حیران ہی رہ گئی۔ اسے غالباً یہ تھا کہ میں نے ابھی اپنی شلوار سے عضو نہیں نکالا ہو گا۔ ایک تیز آہ بھرتے ہوئے اُس نے حیرت بھری نظروں سے مجھے دیکھا اور اسی اثنا میں میں نے شرمگاہ کی لکیر پر مکمل لٹا کر دھکے دینے شروع کر دیے۔ وہ مستی میں بھرتی چلی گئی۔ اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ پھر میں نے ایک ہاتھ میں تھوک لے کر اسے ٹوپی پر لگایا اور اس کے سوراخ میں رکھ کر ہلکا سا دباؤ دیا۔ وہ ذرا سا کسمسائی۔ میں نے ذرا سا دباؤ بڑھایا تو عضو پھسل گیا۔ اسے دوبارہ پکڑ کر وہاں جمانے لگا کہ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ اس کی آنکھوں میں آنے والا خوف۔۔۔ اُف۔۔۔ میں تو مستی کی انتہا پر تھا۔ دستک کے باوجود میرا وہاں سے ہٹنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ لیکن اس کا دھکا مجھے اپنے جسم پر محسوس ہوا تو فوراً نیچے اترتے ہوئے میں نے شلوار اوپر کی۔ کمبخت۔۔ انھیں بھی ابھی آنا تھا۔ میں برا سا منہ بناتا ہوا اٹھا تھا۔ اُس نے فوراً شلوار اوپر کی اور کہا کہ آپ کمرے میں جا کر بیٹھیں میں وہاں آتی ہوں۔ کمرے میں اس کی دادی موجود تھیں۔ جو ایک دن پہلے ہی آئی تھیں۔ میں نے انھیں سلام بھی کیا تھا اور پھر ہم بیٹھک میں آگئے تھے۔ وہ یہ کہہ کر جلدی سے باہر جا کر دروازے کی طرف لپکی۔ اور میں نے اس تھوڑے سے وقت میں یہ سوچا کہ اگر اب میں وہاں جاتاہوں تو اس کی دادی سوچے گی کہ یہ اچانک یہاں کیوں آ یا ہے۔ پہلے تو بیٹھک میں بیٹھ کر پڑھ رہے تھے اور اب اچانک دستک ہوتے ہی یہاں بھاگا چلا آیا ہے۔ چناں چہ میں نے وہاں ہی بیٹھ جانے کو ترجیح دی۔ اور صوفے پر بیٹھتے ہوئے ایک کتاب پکڑ کر کھول لی۔ جلدی سے اپنے موبائل کی لائٹ جلائی اور اس پر ڈال کر دیکھنے لگ پڑا۔ اتنے میں اس کے امی ابو اندر آئے اور بیٹھک کے اندر والے دروازے کے سامنے سے گزرتے ہوئے اندر نظر ڈالی تو لائٹ محسوس کرتے ہوئے غور کیا تو میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کی امی بولیں۔
    اندھیرے میں کیوں بیٹھےہوئے ہو؟
    میں نے مسکرا کر کہا کہ ابھی ابھی لائٹ چلی گئی تھی تو حنا چارجنگ لائٹ لینے جا رہی تھی کہ آپ آ گئے۔ خیر حنا چارجنگ لائٹ لے آئی۔ اور کوئی آدھے گھنٹے بعد میں گھر آگیا۔ میسجز پر بات ہوتے ہوئے اس نے کہا کہ آج تو آپ نے مروا ہی دینا تھا بس۔ میں نے تشویش سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ بعد میں کچھ پوچھا تو نہیں انھوں نے۔ اُس نے کہا کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ لیکن جب میں آپ کو منع کر رہی تھی تو آپ نے بات کیوں نہیں مانی؟
    میں نے کہا۔ سوری بابا! بہت بڑی غلطی ہوگئی۔ معاف کر دو۔ آیندہ ایسا نہیں کروں گا۔ خیر وہ ریلیکس ہو گئی۔ ویسے مجھے بھی عجیب لگا تھا کہ ہو سکتا ہے وہ بھی لائٹ کے جانے پر اٹھ کے وہاں سے چلے ہوں اور میرا بہانہ انھیں بھی کھٹک گیا ہو۔ کہ لائٹ تو اتنی دیر سے گئی ہے اور یہ کہہ رہا ہے کہ ابھی گئی ہے۔ لیکن خیر وقت گذر گیا تھا۔ شکر ہوا کہ پھنسے نہیں۔
    پھر اس کے پیپر آ گئے۔ اور ایک دو پیپروں میں میں ہی اسے لے کر سنٹر تک چھوڑنے اور لینے گیا۔ میری کمر کے گرد بازو ڈال کر وہ مجھ سے زور سے لگ کر بیٹھا کرتی۔ ہم پیار بھری باتیں کرتے ہوئے سفر کرتے رہتے۔ پیپر ختم ہوئے تو ایک ماہ کا وقفہ آیا۔ جس میں میں ان کے گھر بالکل نہیں گیا۔ اس عرصے میں اس کے ساتھ سیکس چیٹ چلتی رہتی تھی۔ کال پر بھی بات کرتے ہوئے میں اسے جنسی حوالے سے چھیڑ لیتا تھا لیکن فطری طور پر وہ با حیا لڑکی تھی اس لیے مجھے خاموش ہو جانے کا کہہ دیتی تھی یا مصنوعی غصہ دکھا کر ڈانٹ بھی دیتی تھی۔ اور میں ہنسنے لگ جاتا۔
    پھر اس نے مجھ سے کہا کہ میں ایف اے کی تیاری شروع کرنا چاہتی ہوں۔ اس لیے اب آپ مجھے اس کی تیاری کروانے آیا کریں گے۔ میں بڑا خوش ہوا۔ کیا بات تھی حنا کی۔ اس نے دوبارہ سے ہمارے ملن کا بہانہ ڈھونڈ لیا تھا۔ چناں چہ میں اُسے ایف۔اے کی تیاری کروانے جانے لگ پڑا۔ اور پھر سے ہمارا چمی چاٹی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سردیاں لگ بھگ ختم ہونے والی تھیں۔ فروری کے دنوں کی بات ہے۔ جب ایک رات میں ان کے گھر گیا تو سبھی ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ دیر ان سے باتیں چلتی رہیں اور پھر میں حنا کے ساتھ ہی بیٹھ گیا اور اسے پڑھانے لگا۔ اس کے امی ابو بیٹھک میں چلے گئے اور دادی ذرا سائیڈ پر فرش پر بچھے ہوئے بستر میں ہی لیٹ گئیں۔ پہلے ہم وہیں بیٹھا کرتے تھے اور دادی اِس پلنگ پر ہوتی تھیں جو کمرے کے دروازے کے بالکل سامنے تھا اور سامنے کی دیوار کے ساتھ اس کی سائیڈ ملی ہوئی تھی۔ میں پہلے کچھ دیر پائینتی کی طرف بیٹھا رہا اور پھر کمر تھک گئی تو دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ وہ بھی دیوار سے ٹیک لگائے ہی بیٹھی تھی۔ اس طرح ہم دونوں ایک ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اب۔
    اس کی قربت سے مجھے فوراً ہی شہوت چڑھنے لگتی تھی۔ اس وقت بھی میرا یہی حال ہونے لگا۔ میں نے رضائی میں ہاتھ ڈال کر اس کا ایک ہاتھ تھام لیا اور اسے ہولے ہولے دبانے لگا۔ وہ بھی ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کام بھی کرتی رہی اور اس کا دھیان اس طرف بھی ہو گیا۔ پھر پانچ سے دس منٹ کے اندر ہی واپڈا نے ہم پر رحم کیا اور لائٹ چلی گئی۔ دادی اس وقت تک سو چکی تھیں۔ میں نے موبائل کی لائٹ جلائی اور اس میں کتاب دیکھنے لگا۔ مگر اب دل ہی کہا تھا کہ کچھ پڑھا جائے۔ چناں چہ اندھیرے نے جذبات کو آخری حد تک بڑھا دیا۔ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے رہا ہو اور اُس وقت پہلو میں ایک لڑکی بیٹھی ہو تو کس کمبخت کا دل چاہے گا کہ اُسے چھوڑ کر کسی اور چیز کی طرف دھیان دے۔ میں نے آہستہ سے کتابیں ایک سائیڈ پر کرتے ہوئے اس کا چہرہ اپنی طرف گھما کر اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا۔ اور پھر چومنا شروع ہو گیا۔ اس نے موبائل کی روشنی سیدھی دروازے کی جانب کر دی۔ اس سے یہ فائدہ ہونا تھا کہ اگر کوئی ایک دم اندر آتا بھی ہے تو اسے آنکھوں میں روشنی پڑنے کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آنا تھا اور ہم سنبھل سکتے تھے۔ سائیڈ پر بیٹھے ہونے کی وجہ سے میں نے بائیں ہاتھ سے اس کا منہ اپنی طرف گھمایا ہوا تھا اور اسے چوم رہا تھا۔ پھر وہ ہاتھ اس کی گردن سے ہوتا ہوا اس کے ابھاروں تک چلا گیا۔ اور اس کے خوبصورت تنے ہوئے جوان ابھار میرے ہاتھوں میں آتے ہی میرا عضو انگڑائیاں لینے لگا۔ نیم تنا ہوا عضو مکمل تناؤ میں آ چکا تھا۔ اس کی گرم سانسوں کے ساتھ ضبط میں نکلتی ہوئی ہلکی ہلکی آہیں مجھے پاگل کیے جا رہی تھیں۔ ابھار باری باری اچھی طرح دبانے کے بعد میں نے اس کا بایاں ہاتھ پکڑ کر اپنے عضو پر رکھ دیا۔ اس نے آہ بھرتے ہوئے اسے نرمی سے اپنے ہاتھ میں لیا اور پھر زور زور سے دبانے لگی۔ سیکس کے معاملے میں وہ بڑی جنونی تھی۔ بہت شدت آ جاتی تھی اُس میں۔ اُس کے اس طرح عضو کو مسلنے کی وجہ سے میری آہیں نکلنے لگیں۔ اور میرا ہاتھ اور نیچے جا کر اس کی شلوار میں گھس گیا۔ اس کے بالوں کو چھوتے ہوئے میں اس کے ہونٹ چوستا رہا اور وہ مستی کے درجے طے کرتی رہی۔ پھر اس کی شرمگاہ کی لکیر کو انگلی نے چھوا تو اس نے میرے عضو کو بہت زور سے دبایا۔ جسم بھی ایک دفعہ مکمل کسمسایا۔
    لکیر میں انگلی نے اپنی حرکت محسوس کروانا شروع کی۔ اور سفر کرتی کرتی اس کے سوراخ تک پہنچ گئی۔ یہاں تک کہ پوری لائن میری انگلی میں دب گئی۔ چناں چہ میں انگلی کو آہستہ آہستہ اس کی لکیر میں پھیرنے لگا ۔ ساتھ ساتھ دباتا بھی رہا۔ اُس کا وہی حال ہو چکا تھا۔ آنکھیں ادھ کھلی ہو کر اوپر کی طرف چڑھ گئی تھیں۔ اور خود کو ڈھیلا چھوڑ چکی تھی وہ۔
    میں نے کچھ اور آگے بڑھتے ہوئے اس کی شرمگاہ کے سوراخ میں انگلی کی پور لگائی۔ اور ہلکا سا دبایا۔ وہ کانپ سی گئی۔ اور میرے کاندھے پر سر ڈھلکا دیا۔ میں اس کے ماتھے کو چومتا ہوا پور کو اندر گھسانے لگا۔ یہاں تک کہ انگلی کی ایک پور اس کے سوراخ میں چلی گئی۔ جسے میں دھیرے دھیرے سوراخ میں گھمانے لگا۔ اس کی دھڑکنیں مجھے اپنے بازو کے مسل پر محسوس ہونے لگی تھیں۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ زور زور سے سسکارے۔ تیز تیز آہیں بھرے اور مجھے بازوؤں میں لے کر بھینچے۔ مجبوری آڑے آ رہی تھی۔ دادی کی آنکھ کھل جانے کا بھی ڈر تھا کیوں کہ انھیں سوئے ہوئے ابھی پندرہ منٹ ہی تو ہوئے تھے۔
    یوں ہی انگلی کو اس کی شرمگاہ میں گھساتا گھساتا میں تقریباً آدھی انگلی جب اندر ڈال چکا تو اس نے میرا ہاتھ میری کلائی سے تھام لیا۔ اور آہستہ سے سسکارتی ہوئی آواز میں سرگوشی کی۔۔ بسسسس۔۔۔۔۔ آہ۔۔۔ اور میں نے اسکے گال کو چومتے ہوئے سرگوشی میں۔۔اوکھے میرھی چھان۔ہ۔ہ۔ہ۔۔(بلند آواز میں بولیں تو۔۔۔اوکے میری جان) کہا اور آدھی انگلی ہی سوراخ میں اندر باہر کرنے لگا۔ اس کی ناک اور آدھ کھلے ہونٹوں سے نکلنے والی آہوں اور عجیب گھٹی گھٹی آوازوں سے لگ رہا تھا کہ اس سے برداشت نہیں ہو پا رہا۔ وہ اونچی آواز میں آہیں بھر کر اپنے دل میں بھرنے والا جوش نکالنا چاہ رہی ہے مگر ایسا کر نہیں پائے گی۔۔۔ اور آخر کار اس نے حد سے زیادہ برداشت کرنے پر، جب اُس کی اخیر ہو گئی، مجھے کہا کہ بسسس کریں۔۔۔۔ اور ساتھ ہی میرا ہاتھ پیچھے کو بھی کھینچا۔ میں نے آہستہ سے انگلی باہر نکال لی اور اس کی شلوار سے ہی صاف کر لی۔ جس اس کے پانی سے گیلی ہو چکی تھی۔

    کچھ دیر ہمیں نارمل ہونے میں لگی۔ اور پھر گھنٹے بعد گھر آ گیا۔

  10. The Following 9 Users Say Thank You to zainee For This Useful Post:

    85sexy85 (02-01-2017), abkhan_70 (01-01-2017), asiminf (30-12-2016), farhan9090 (03-01-2017), Irfan.khan (31-12-2016), Lovelymale (30-12-2016), mayach (29-12-2016), piyaamoon (30-12-2016), raheelanazz (29-12-2016)

  11. #36
    Irfan.khan is offline Aam log
    Join Date
    Jan 2016
    Age
    23
    Posts
    27
    Thanks
    248
    Thanked 21 Times in 13 Posts
    Time Online
    1 Day 6 Hours 10 Minutes 17 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 46 Seconds
    Rep Power
    5

    Default

    Hum to bhool he chuky thy k ye kahani update hogi... Anyway carry on.. achy ja rahe ho..

  12. #37
    Irfan.khan is offline Aam log
    Join Date
    Jan 2016
    Age
    23
    Posts
    27
    Thanks
    248
    Thanked 21 Times in 13 Posts
    Time Online
    1 Day 6 Hours 10 Minutes 17 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 46 Seconds
    Rep Power
    5

    Default

    Ab janab next update kindly juldi kr dena.. aur next time scene pora krna...sara rhythem toot jata hai.. jesa k aapka tota hoga..

  13. The Following User Says Thank You to Irfan.khan For This Useful Post:

    arman724 (02-01-2017)

Page 4 of 4 FirstFirst 1234

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •