Page 6 of 6 FirstFirst ... 23456
Results 51 to 58 of 58

Thread: میں ایسا نہ تھا

  1. #51
    maani_286's Avatar
    maani_286 is offline Premium Member
    Join Date
    Mar 2014
    Location
    Salalah,Oman
    Posts
    350
    Thanks
    105
    Thanked 661 Times in 264 Posts
    Time Online
    2 Days 21 Hours 42 Minutes 35 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 59 Seconds
    Rep Power
    39

    Default

    سیکسی سفر نامہ کے جنگجو صاحب بہت شکریہ بھائی. اچھا ٹوئسٹ لائے ہیں کہانی میں کاش کھسروں سے گانڈ مروا دیتے ہاہاہا

  2. The Following User Says Thank You to maani_286 For This Useful Post:

    abba (28-12-2016)

  3. #52
    Fungjo's Avatar
    Fungjo is offline Aam log
    Join Date
    Oct 2016
    Posts
    15
    Thanks
    0
    Thanked 141 Times in 15 Posts
    Time Online
    6 Hours 28 Minutes 16 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 54 Seconds
    Rep Power
    3

    Default میں ایسا نہ تھا 11

    میں نے اس افغانی عورت کو شادی کی پیشکش کی مگر وہ ہمیشہ انکار کر دیتی۔ اور چدواتی بھی اپنے انداز میں تھی۔ مجھے دیر تک اسکے ممے چوسنے پڑتے اور اسکی ٹانگوں پر ہاتھ پھیرنا پڑتا اسکی گانڈ سہلانا پڑتی اور آخر میں اسکی چوت اور اسکے دانے کو گھنٹوں مسلنا پڑتا۔ وہ اپنے مزے لیتی رہتی اور میرا لنڈ چوت میں گھسنے کے انتظار میں سکڑ جاتا۔ اور جب وہ کئی بار چھوٹ کر اپنا مزہ پورا کر لیتی تو مجھے کہتی کہ اب میں اپنا کباب گرم کرلوں۔ کافی عرصے تک میں اسے غنیمت سمجھتا رہا کہ چلو نہ ہونے سے یہی بہتر ہے مگر یقین جانیئے مجھے اسے چودنے میں بالکل مزہ نہیں آتا تھا ۔ اسی دوران میرے سیاسی پناہ کے کیس کی شنوائی شروع ہو گئی۔ تقریبا" ایک ماہ بعد مجھے اطلاع ملی کہ میرا کیس بے بنیاد ہے اور کوئی ایسی بات مہپیا نہیں ہوئی جسکی بناد پر مجھے جرمنی میں رہنے کی اجازت دی جائے۔ میرےاوسان خطا ہو گئے کہ اب کیا ہوگا۔ بات تو صحیح تھی میں کیا بیشمار لوگ ایسے تھے جنکے کیس جھوٹے تھے خیر۔ بہت سے ہمسایہ ممالک سے خاطر خواہ خبریں آ رہی تھیں کہ وہاں لوگوں کے کاغذ پکے ہو رہے ہیں ان میں اسپین سر فہرست تھا۔ میں نے سوچا وہاں چلا جاوں شائد قسمت یاوری کرے انہی مشوروں اور ادھیڑ بن میں ایک روز خط ملا جس میں اس افغانی عورت کا کیس پاس ہونے کا فیصلہ تھا اور اب اسے جرمن زبان کی پری یونیورسٹی سطح کی پڑھائی کے لیئے جرمنی کے مغربی شہر کاسل جانا ہوگا۔ سو کچھ ہی دنوں میں اسکو نیلے رنگ کا سیا سی پناہ کا پاسپورٹ بھی مل گیا اور وہ وہاں سے چلی گئی۔ اسکے جانے کے بعد ملے جلے سے احساسات تھے ایک طرف کافی عرصہ ساتھ رہنے کی وجہ سے جو مانوسیت ہو گئی تھی اس نے اداس کر دیا دوسری طرف ایک بوجھ سا سر سے اتر گیا جو اسکے ساتھ سیکس کرنے کی وجہ سے ذہن کو ماوف رکھتا تھا۔ اسے چودنے میں بالکل مزہ نہیں تھا بلکہ ایک اذیت تھی۔ وہ خود غرض تھی بس اپنا سکون اسے ملحوظ خاطر تھا اور اس طرح میرا لنڈ اسے نیم سخت حالت میں چودتا مٹھ مارنا اس سے کہیں بہتر لگتا۔ اسکے علاوہ وہ مجھے یوں استعمال کرتی جیسے میں اسکا غلام ہوں۔اور کئی بار اچھا خاصہ ہنگامہ کھڑا کر دیتی جب میں اسے چودنے میں کوئی حجت کرتا۔ سو اسکا جانا میرے لیئے گویا نیک فال تھا۔
    کچھ ہی دنوں بعد وہ کاسل سے آگئی اور بولی ابھی کورس شروع ہونے میں دیر ہے سوچا اکیلی کیوں بور ہونگی تمہارے پاس چلتی ہوں۔ خیر صاحب دو ہفتے پھر وہی عذاب ۔ خدا خدا کرکے وقت پورا ہوا اور وہ چلی گئی۔ میں اکیلا اداس بھی تھا اور اپنے مسقبل سے بھی خائف اور بےخبر۔
    شہرداری سے ایک نامہ موصول ہوا کہ میں ویزا دفتر میں حاضر ہوں۔ اگلے روز میں وہاں چلا گیا۔ مجھے پکا یقین تھا کہ مجھے ڈیپورٹ کرنے کا مژدہ سنایا جائیگا اور میں نے اپنے آپکو اسکے لیئے مکمل تیار کر لیا تھا۔ مگر بات کچھ اور تھی اسکی بجائے مجھے بتایا گیا کہ مجھے کاسل منتقل ہونا ہوگا۔ میں حیران کہ یہ کیونکر ممکن ہوا۔ پتہ یہ چلا کہ محترمہ نے وہاں کی شہرداری میں درخواست دی کہ میں اسکا دوست ہوں اور ہم شادی کرنے والے ہیں چنانچہ مجھے اسکے ساتھ رہنے کی اجازت دی جائے۔ سو صاحب میں کاسل پہنچ گیا اور شہر داری کی رہائش میں مجھے ایک اور بندے کے ساتھ رکھا گیا۔ جرمنی کے مغربی حصے میں کام کرنے کے مواقع بہت تھے اور بہت سے لوگ چوری چھپے کام کرتے تھے اور سرکاری مدد کی صورت میں ملنے والے پیسے بھی لیتے تھے سو ، میرا رومیٹ بھی وہاں نہیں رہتا تھا مہینے میں ایک بار وہاں آتا اور پیسے لے کر پھر غائب ہو جاتا۔ عملی طور پر میں وہاں اکیلا رہتا۔ افغانی عورت کو پرائویٹ رہائش ملی ہوئی تھی اور وہ ہر روز اپنی کلاس سے فارغ ہو کر میرے پاس آجاتی۔ ایک دن خبر لائی کہ ہم شادی کر رہے ہیں اور اس طرح میرا جرمنی میں رہنا قانونا" ممکن ہو جائے گا۔ قصہ کوتاہ ہماری شادی ہو گئی ہم نے بڑا مکان کرائے پر لے لیا اور مجھے کام بھی مل گیا اور یہ سلسلہ ایک نئی شکل اختیار کرگیا۔ مگر جنسی طور پر میں ڈھیلا پڑتا گیا اور بس میرے ہاتھ اسکو تسکین بخشتے اور میرا لنڈ صرف مٹھ مارنے کے انداز میں رہ گیا۔
    زبان کا کورس کرکے اسے یونیوسٹی میں داخلہ مل گیا اور یوں چار سال اس نے وہاں لگائے جسکے بعد بہت اچھی اور زیادہ پیسے والی نوکری اسے مل گئی میں بھی کام کرتا تھا اور فالتو وقت میں سیکنڈ ہینڈ موٹر کاروں کی خرید و فروخت بھی کرتا۔ اس نے گھر کو خوب سجا لیا تھا اور میں اپنا کام بھی کرتا اور ساتھ میں گھر کی بھی دیکھ بھال میرے ذمے پڑ گئی کیونکہ کام کرنے اسے دوسرے شہر جانا پڑتا تھا۔ میں آہستہ آہستہ چودنے سے بھاگنے لگا اور میرا لنڈ بھی اب ویسا سخت نہیں ہوتا تھا جیسے کوئت یا یونان میں ہوا کرتا تھا۔ میں بس برائے نام ہی اسکی چوت میں لنڈ ڈالتا ورنہ اب مجھے مٹھ مارتے ہوئے ایک انگلی اپنی گانڈ میں بھی دینا پڑتی۔ ایسا کرتے ہوئے مجھے مزہ آنے لگا اور میں نے ایسی چیزیں اب اپنی گانڈ میں لینی شروع کر دیں جو ملائم اور لنڈ جیسی شکل کی ہوتیں۔ اسی طرح کرتے کرتے میں نے ربڑ کا بنا ہوا لنڈ خرید لیا اور اسے جب گانڈ میں ڈالتا تو میں چھوٹ جاتا۔ مجھے بہت مزہ آنے لگا اور نفسیاتی طور پر اس افغانی عورت نے مجھے اس راہ پر لگا دیا تھا۔ اور میں اب لمبے اور موٹے مصنوعی لنڈ خریتا اور انہیں اپنی گانڈ میں ہر صورت دھکیلتا کیونکہ میری گانڈ انکی عادی نہیں تھی اور درد بھی ہوتا۔ اب میرا زیادہ وقت انہی تجربات میں صرف ہوتا اور میں طرح طرح کے چکنے مواد استعمال کرتا ان میں مکھن، تیل اور اپنی تھوک شامل تھے ان کے ذریعے پھسل کر گانڈ میں جانے والے مصنوعی لنڈ کا مزہ بھی مختلف تھا ان میں سے سب سے اچھا طریقہ جو مجھے لگا وہ زیتون کا تیل تھا۔ اسکے ساتھ مصنوعی لنڈ جب میری گانڈ میں جاتا تو اسکا اندرجانا مجھے محسوس ہوتا اور وہ ایک دم اندر نہیں چلا جاتا تھا بلکہ آہستہ آہستہ اندر جاتا۔ جبکہ تھوک یا دیگر مارکیٹ مین ملنے والے مواد گانڈ اور مصنوعی لنڈ کو چکنا تو کر دیتے مگر وہ ایک دم سے پھسلتا ہوا اندر چلا جاتا اور گانڈ کے مسل اسکا لمس محسوس نہ کر پاتے۔ میرا لنڈ ابھی تک کھڑا ہوتا تھا اور میں نا مرد نہیں ہوا تھا۔
    اندر خانے ایک خواہش سی ابھرنے لگی کہ کوئی میری گانڈ مارے اور میں گوشت پوست کے اصلی لنڈ کو اپنی گانڈ میں محسوس کروں۔ کچھ افغانی عورت کا خوف اور کچھ اپنی ہچکچاہٹ۔ یہ خواہش بس خواہش ہی رہتی اگر مجھے ایک روز ٹرام میں ایک کالا افریقی نہ ملتا۔ وہ میرے سامنے والی سیٹ پر بیٹھا تھا اور اسکے سر پر افریقی ٹوپی تھی اور عمر چھبئیس ستائیس سال رہی ہوگی۔دوستوں کو بتاتا چلوں اس لمبے سفر میں وقت کا پتہ ہی نیں چلا اور میں اب اٹھاون سال کا ہو گیا تھا۔ وہ میری طرف دیکھ کر مسکرایا ، میں بھی مسکرا دیا۔ پھر وہ اپنی آنکھیں گھما گھما کر عجب دیوانوں کی سی حرکتیں کرنے لگا۔ میں نے اسے نظر انداز کرنا چاہا مگر اسکی حرکتیں ایسی تھیں کہ مجھے اسے دیکھنا پڑتا اور پھر چارہ بھی نہیں تھا ایک بار سوچا کسی سٹاپ پر اتر جاوں اور اس سے خلاصی ہو۔ میں اگلے سٹاپ پر اتر گیا اور وہ بھی میرے ساتھ اتر گیا۔ موسی بھاگا موت سے آگے کھڑی موت کے مترادف میں اس سے پیچھا چھڑوانے کی خاطر ٹرام سے اترا اور وہ بھی اتر گیا۔ وہ میرے قریب ایا اور بولا
    تمہارا لنڈ لمبا اور موٹا ہے؟
    میں سکتے میں آگیا یہ کیا ہے اس نے کیسے سوچ لیا کہ میں لونڈے باز ہوں۔ بےساختے میرے منہ سے نکل گیا
    بس نارمل ہے
    اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور ایک طرف لے گیا میں اب یہ جاننا چاہتا تھا کہ اسکا مدعا کیا ہے اسی طرح چلتے چلتے وہ مجھے اپنے گھر لے گیا جو بس سٹاپ سے قریب تھا۔ میں بھی اسکے پیچھے پیچھے یوں جا رہا تھا جیسے مجھ پر مسمریزم کا اثر ہو اور میں معمول کی طرح عامل کی تعمیل کر رہا ہوں۔ گھر پہنچ کر اس نے اپنے کپڑے اتار دیئے اور مجھے بھی ایسا کرنے کو کہا۔ میں دل میں سوچ رہا تھا چلو آج ایک کالی گانڈ چودنے کو ملے گی اس خیال کے آتے ہی میرا لنڈ سخت ہو گیا اور اسے دیکھ کر افریقی کی آنکھوں میں ایک چمک آئی اور اس نے میرا سخت ہوتا ہوا لنڈ دیکھ کر و ا و کہا۔ اسکے بیڈ روم میں ایک بڑا ڈبل بیڈ تھا اور اس نے مجھے وہاں لیٹنے کو کہا ابھی میں اسے چودنے کی پوزیشن کے بارے میں سوچتا ہوا بستر پر لیٹا ہی تھا کہ اس نے اچانک میری دونوں ٹانگیں سختی سے پکڑ کر اپنے کاندھے پر رکھ لیں اور مجھے یوں جکڑ لیا کہ میں بالل حرکت نہیں کرسکتا تھا۔ میری گانڈ اوپر اٹھی ہوئی تھی اور میں کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا اسکا لنڈ میرے لنڈ سے دو گنا لمبا اور اسی قدر موٹا تھا بڑا صحت مند لنڈ بالکل سیدھا اور مسلمانوں کے لنڈ جیسا۔ اس نے خشک لنڈ میری گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر اندر کرنا چاہا مگر ایسا نہ کر سکا اور پھر اسنے ذرا تھوک لگایا اور جیسے ہی اسکا موٹا لنڈ میری گانڈ میں گیا مجھے بہت درد ہوئی مگر میں نے برداشت کیا اور چند ثانیوں میں اسکا پورا لنڈ میری گانڈ میں تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ مشکل مرحلہ طے ہو گیا تو اس نے مجھے بیڈ کے سرے پر اوندھا کیا اور مجھے یوں کر دیا جیسے اونٹ بیٹھتا ہے اس طرح کرنے سے میری گانڈ کھل گئی تھی اوراس پوزیشن میں زیادہ لنڈ اندر جانے کی گنجائش ہو گئی تھی اسکا لنڈ میرے مصنوئی لنڈ سے کافی موٹا اور لمبا تھا اور یہ میری گانڈ کے بہت اندر تک چلا گیا تھا نہ جانے کیا تھا کہ مجھے بہت مزہ آیا اور اس دوران میں خود بخود چھوٹ گیا میری منی اسکے بستر کو گیلا کر رہی تھی اور میری گانڈ میں وائبریشن ہو رہی تھی جس سے لنڈ کی اسکے اندر موجودگی کو میری گانڈ اور سختی سے محسوس کر رہی تھی۔ مگر وہ جانور چھوٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اور میں اب کافی تکلیف محسوس کرنے لگا ۔ بالآخر اس نے جھٹکے سے اپنا لنڈ میری گانڈ میں سے نکالا اور اسکی منی اس میں سے قطرہ قطرہ بن کر نکل رہی تھی وہ غسل خانے گیا اور اپنا لنڈ دھونے لگا۔ جو چھوٹنے کے باوجود ابھی تک اسی طرح تنا ہوا تھا۔ میں بھی اپنی گانڈ صاف کرتا ہوا بستر سے اٹھا۔ میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور مجھے لگا میں صحیح طور سے کھڑا نہیں ہو پا رہا
    ویسے تو میری گانڈ کئی لوگوں نے ماری تھی مگر اس افریقی کے ساتھ جو تجربہ ہوا وہ اپنی مثال آپ تھا۔ وہ میری گانڈ مارنے کے بعد ایک دم بدل گیا اور درشتگی سے مجھے فورا" وہاں سے جانے کو کہا میں نے اپنے کپڑے پہنے اور اسکے گھر سے باہر آگیا۔ تب مجھے پتہ چلا کہ مجھے چلنے میں دقت ہو رہی ہے اور میری گانڈ میں بڑے زور کا درد ہو رہا ہے۔ جب تک وہ مجھے چودتا رہا مجھے مزہ آتا رہا مگر اب گانڈ کے مسل زبردستی کھولنے کی وجہ سے درد کر رہے تھے۔ گھر پہنچ کر میں نے کئی ٹوٹکے برتے اور درد کم نہیں ہوا۔
    میں اپنے آپ کو کوس رہا تھا کہ میں کیوں ا سکے ہمراہ گیا اور لالچ کیا کہ میں اسکی گانڈ ماروں گا۔ کافی دن بعد مجھے طلب ہوئی کہ پھر اس سے گانڈ مروائی جائے۔ میں اسکے گھر گیا وہ گھر میں نہیں تھا میں نے اپنا فون نمبر ایک کاغذ پر لکھ کر اسکے پوست بکس میں ڈال دیا۔ اگلے روز اسکا فون آیا کہ میں کون ہوں اور کیوں اپنا نمبر وہاں ڈالا۔ میں نے اسے بتایا کہ میں نے ایک ہفتہ پہلے اس سے گانڈ مروائی تھی۔ وہ برہم ہو گیا کہ میں نے اپنا نمبر اسکے پوسٹ بکس میں کیوں ڈالا اور مجھے غلیظ گالوں سے نوازا۔ یہ دوسری بار تھی کہ مجھے اپنے آپ پ غصہ آیا کہ میں نے ایسا کیوں کیا۔
    میں پھر سے اپنے صبح شام میں مصروف ہو گیا اور تہیہ کیا کہ بس اس مصنوعی لنڈ کو ہی استعمال کیا کرونگا گھر کا سودا لے کر بس کا انتظار کر رہا تھا کہ کسی نے پیچھے سے سرگوشی کرتے ہوئے ہیلو کہا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہی کالا افریقی میرے پیچھے کھڑا تھا۔ میں نے بھی ہیلو کہا اور بس۔ اس نے اسی سرگوشی کے انداز میں کہا
    کیا ارادہ ہے؟ موڈ ہے کیا؟
    میں نے شکوہ کیا کہ کیا خاک موڈ ہوگا اتنی بری طرح سے اس روز مجھ سے فون پر بات کی اور مجھے گالیاں بھی دیں۔ وہ بولا اسکی وجہ تھی اور اب وہ بات نہیں میں کسی بھی وقت اسکے ہاں آ سکتا ہوں۔ میں نے ہامی بھر لی اور اپنے گھر چلا گیا اسکے بعد کا حال آئیندہ قسط میں ملاحظہ فرمائِے اور اپنی رائے دینا نہ بھولیئے شکریہ
    Last edited by asiminf; 23-11-2016 at 05:26 AM.

  4. The Following 9 Users Say Thank You to Fungjo For This Useful Post:

    abba (28-12-2016), abkhan_70 (23-11-2016), asiminf (23-11-2016), Khushi25 (09-01-2017), Lovelymale (03-01-2017), mbilal_1 (29-11-2016), musarat (07-12-2016), piyaamoon (23-11-2016), sameer04 (23-11-2016)

  5. #53
    abba's Avatar
    abba is offline Premium Member
    Join Date
    Apr 2009
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    33
    Posts
    894
    Thanks
    14,361
    Thanked 2,363 Times in 770 Posts
    Time Online
    6 Days 19 Hours 41 Minutes
    Avg. Time Online
    5 Minutes 20 Seconds
    Rep Power
    170

    Default Zabardast

    Janab khn gaib ha barry din ho gy koi update nai de
    plz update kar day thanks g

  6. The Following User Says Thank You to abba For This Useful Post:

    abkhan_70 (30-12-2016)

  7. #54
    Fungjo's Avatar
    Fungjo is offline Aam log
    Join Date
    Oct 2016
    Posts
    15
    Thanks
    0
    Thanked 141 Times in 15 Posts
    Time Online
    6 Hours 28 Minutes 16 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 54 Seconds
    Rep Power
    3

    Default میں ایسا نہ تھا9



    کالے افریقی کا گدھے جیسا لنڈ مجھے بہت بھایا تھا وہ میری گانڈ میں گہرائی تک چلا گیا تھا اور وہاں ایک خاص اثر دکھایا تھا جسکے باعث میں خود بخود چھوٹ گیا تھا۔ آخری بار جب اس نے مجھے دھتکار دیا تھا اب کی بار میں بہت احتیاط سے اسکے گھر گیا اور مجھے حیرت ہوئی کہ اس نے میرے جانے سے پہلے دراوازہ کھلا چھوڑ رکھا تھا اور جیسے ہی میں اسکے فلیٹ میں داخل ہوا اس نے مجھے گلے لگا لیا اور میرے گرد بازو ڈال کر مجھے بھینچ لیا۔ مجھے یہ اچھا لگا اور کچھ جوصلہ ہوا کی آج یہ افریقی کافی بدلا سا ہے اسکی سب بد تمیزی رفع ہو چکی تھی اور اسنے بڑے تپاک سے میرا استقبال کیا۔
    مجھے ننگا کرکے اس نے غسل خانے میں بھیج دیا کہ میں اپنی گانڈ دھو لوں جب میں واپس کمرے میں آیا تو اسکا آبنوسی رنگ کا جسم لباس سے عاری تھا اور اسکا لنڈ ۱۲۰ درجے کے زاویے پر اکڑا ہوا تھا جسے دیکھ کر میرا لنڈ بھی کھڑا ہو گیا اس نے میرا لنڈ ہاتھ میں لے کر دبایا اور میں نے اسکا لنڈ پکڑ کر محسوس کیا کہ اگر وزن کیا جائے تو کوئی ڈیڑھ کیلو کے برابر ہو گا۔ اسکے ٹٹے بھرے بھرے تھے اسکے جسم پر کوئِ بال نہیں تھا۔ پچھلی بار تو اس نے مجھے زبردستی چودا تھا مگر اس بار کیفیت کچھ اور تھی ابکی بار میں خود سے اس سے چدنے گیا تھا۔ اسکا اکڑا لنڈ دیخح کر میری گانڈ پھڑکنے لگی تھی۔
    اس نے مجھے اپنے پلنگ پر کمر کے بل لٹا دیا اور پہلی بار کی طرح میعی تانگیں اپنے کندھے پر رکھ کر اس طرح جکڑ لیا کہ میں اگر چاہتا بھی تو اس سے آزاد نہیں ہو سکتا تھا۔ میں نے خود سپردگی کے انداز میں اپنا آپ اسکے حوالے کر دیا تھا
    میری گانڈ کھل اور بند ہو رہی تھی اور میں چاہتا تھا کہ اسے کھلا رکھوں تاکہ اسکا لنڈ جب اس میں گھسنے لگے تو مزاحمت کی وجہ سے درد نہ ہو۔ مگر جیسے ہی اس کالے نے اپنا لنڈ تھوک لگا کر میری گانڈ کے سوراخ پر رکھا میری گانڈ سختی سے بھنچ گئِ اور تھوک کی پھسلان نے اسکی مزاحمت کو شکست دی اور اسکا لنڈ ایک جھٹکے سے اس میں داخل ہوا اور میری چیخ نکل گئی کونکہ اسکا لنڈ بہت موٹا تھا اور زبدستی گانڈ میں جانے پر گانڈ کے مسل مجروح ہوئے تھے۔ میں نے اسے لنڈ باہر نکالنے کو کہا ۔ اس نے لنڈ نکال لیا اور میں درد کو برداشت کرنے لگا۔ کچھ لمحوں بعد اس نے پھر اور تھوک لگایا اور اس بار اس نے تھوڑا لنڈ گھسانے کی بجائے لنڈ کو سوراخ پر رکھ کر ایک ایسا زوردار دھکا لگیا کہ میری گانڈ اسے روک نہ سکی اور اس میں درد کی لہریں جاری ہو گئیں۔ اسکا تقریبا" ۲۰ سیٹی لنڈ پورے کا پورا میری گانڈ میں تھا اور اس نے اسے زور سے دبا کر گہرائی میں رکھے رکھا۔ درد کچھ کم ہونے لگا اور میرے چہرے کو پڑھتے ہوئے اس نے اندازہ لگا لیا کہ اب کیفیت بہتر ہے ۔ پہلے آہستہ آہستہ اور پھر بہت زور سے مجھے چودنے لگا۔ لنڈ کو میری گانڈ میں رکھے رکھے اس نے میری ٹانگیں اپنے شانے سے نیچے کیں اور مجھے الٹا کر دیا۔ یہ سب اس نے اس مہارت سے کیا کہ اسکا لنڈ میری گانڈ میں رہا۔ اور میں پیٹ کے بل اوندھا ہو گیا تھا۔ مجھے پیٹ سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور مین گھوڑی پوزیشن میں اپنے گٹنوں پر تھا اور میری گانڈ اسکت پیٹ سے پیوست تھی۔ اس صورت میں اسکا لنڈ مزید کچھ سینٹی میری گانڈ میں چلا گیا۔ اب جو اس نے مجھے زور زور سے چودا تو مجھے لگا اسکا لنڈ میرے منہ سے نکل آئیگا۔ میرا لنڈ اسکے ہر جھٹکے سے لہرا رہا تھا اور گانڈ کے علاوہ اس میں بھی لطف کا احساس تھا اور میں چھوٹنے کو نہ روک سکا اور میرے لنڈ میں سے منی پچکاری کی طرح نکل رہی تھی جس نے اسکا بستر گیلا کر دیا۔ جب میں چھوٹ رہا تھا تو میری گانڈ میں پھڑ پھراہٹ ہو رہی تھی وہ تیزی سے کھل اور بند ہو رہی تھی جسکی وجہ سے گانڈ میں کالے کا لنڈ محسوس ہو رہا تھا
    میرے چھوٹنے سے میری ساری دلچسپی ختم ہو چکی تھی اور میں چاہ رہا تھا کہ اب وہ کالا بھی چھوٹ جائے اور مجھے جانے دے۔ مگر وہ بدستور مجھت زور زور سے چود رہا تھا۔ بالآخر اس نے اپنا لنڈ نکا لیا اور میری گانڈ پر مٹھ مار کر اپنی ساری منی انڈیل دی۔ اسکی منی بالکل صاف او ر رنگت میں سفید تھی۔ وہ جلدی سے غسل خحانے گیا اور اپنا لنڈ دھونے لگا۔ میں بھی اپنے آپکو صاف کرتا ہو غسل خانے گی اور جسم کو دھویا۔
    اس نے بہانا کیا کہ اسکی بہن اسکے ہاں آ رہی ہے اس لیئے میں جلدی سے وہاں سے چلا جاوں۔ خحیر مجھے اب وہاں رکنے کی کوئی خواہش نہیں تھی۔ پہلی بار کی طرح میر گانڈ میں درد کی لہریں اٹھ رہی تھیں اور میری ٹانگیں کانپ رہی تحیں۔ چلنے میں دقت ہو رہی تھی۔ اسکے علاوہ ایک احساس گناہ تھا جسکا احساس اس پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور میں اپنے تئین یہ تہیہ کرکے وہاں سے چلا کہ اب کبھی گانڈ نہیں مروانگا۔ گھر آکر نہایا اس دوران اپنے آپ سے مناقشہ کیا کہ جو کچھ میں آج کیا ، کیا یہ درست تھا۔ عورتوں کو چودتا رہا ، کبھی کوئی احساس نہیں ہوا مگر خود گانڈ مروا کر جو محسوس ہو رہا تھا اس میں ندامت تھی احساس گناہ تھا اسی کشمکش میں کافی دن گذر گئے اور میں دوبارہ سے نارمل ہونے لگا۔ اسکے بعد کا حال اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں
    Last edited by asiminf; 01-01-2017 at 01:54 AM.

  8. The Following 7 Users Say Thank You to Fungjo For This Useful Post:

    abba (02-01-2017), abkhan_70 (01-01-2017), aloneboy86 (01-01-2017), Khushi25 (09-01-2017), Lovelymale (03-01-2017), piyaamoon (01-01-2017), sameer04 (01-01-2017)

  9. #55
    abba's Avatar
    abba is offline Premium Member
    Join Date
    Apr 2009
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    33
    Posts
    894
    Thanks
    14,361
    Thanked 2,363 Times in 770 Posts
    Time Online
    6 Days 19 Hours 41 Minutes
    Avg. Time Online
    5 Minutes 20 Seconds
    Rep Power
    170

    Default

    Bot zabardast shandar update ha
    next ka intazar ray ga thanks g

  10. #56
    Fungjo's Avatar
    Fungjo is offline Aam log
    Join Date
    Oct 2016
    Posts
    15
    Thanks
    0
    Thanked 141 Times in 15 Posts
    Time Online
    6 Hours 28 Minutes 16 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 54 Seconds
    Rep Power
    3

    Default میں ایسا نہ




    گانڈ مارنے اور مروانے کا سلسلہ کوئی چار پانچ ھزار سال سے چلا آرہا ہے اور موجودہ دور میں ایڈز کی بیماری کا

    سبب بھی اس سے پیوست ہے۔ میلین ہا لوگ اس کی وجہ سے ناقابل علاج بیماری میں مبتلا ہیں۔ اسکے باوجود جنس کے اس طریقے میں کوئِ کمی نہیں آئی اور اب تو مغربی ملکوں میں باقائدہ مرد مرد کی شادی قانونی حثیت اختیار کر چکی ہے
    کا لے افیقی سے گانڈ مروا کر میں کافی دنوں تک پشیمان رہا اور تہیہ کیا کہ اب کبھی گانڈ نہیں مروانگا۔ مگر اسکا موٹا اور لمبا کالا لنڈ کئی بار مجھے اپنی گانڈ میں محسوس ہوا اور میں سختی سے اس خیال کو جھٹک دیتا۔ اس دوران میں انٹر نٹ پر کچھ ہم جنسی صفحات پر مختلف اشتہار دیکھنے لگا اور اب مجھے کسی کی گانڈ مارنے کی سوجھی اور میرے لنڈ نے ضمیر کی آواز کو دبا دیا اور میں کئی گانڈ مروانے والوں سے رجوع کرنے لگا۔ میرے لنڈ کی فوٹو دیکھ کر ہر طرف سے دعوت آنے لگی۔ سب ہی جرمن گانڈیں تھیں سفید اور گول مٹول۔ پہلی گانڈ ایک چوبیس سالہ نوجوان تھا جو ایک لڑکی کے ساتھ رہتا تھا اور اسکو چودتا بھی تھا اور خود سے گانڈ مروانے کا خواہشمند تھا۔ اسکی دوست لڑکی شام چھ بجے کام سے واپس لوٹتی تھی سو اس دوران وہ اکیلا ہوتا تھا اور مجھے دعوت دی کی میں سہ پہر میں کسی وقت اسکی گانڈ مارنے جا سکتا ہوں۔
    اسکا گھر میری رہائش سے کوئی ایک گھنٹے کی ڈرایو تھی مگر مجھے اسکے ہاں پہنچنے میں کچھ دیر ہو گئی وہ بڑی بیتابی سے میرا انتظار کر رہا تھا۔ میں نے فلیٹ کی گھنٹی بجائی اور اس نے دروازہ کھولا۔ عورتوں کی طرح اس نے ایک بڑا سا تولیہ اپنے سینے کے گرد لپیتا ہوا تھا اور لگتا تھا میرے وہاں پہنچنے سے پہلے وہ نہایا تھا۔ مجھے اندر آنے کو کہا اور راستہ چھوڑ دیا۔ میں اندر داخل ہوا ۔ بہت مختصر سامان مگر نہائت سلیقے سے آراستہ۔ اس نے وقت ضائع کئے بنا اپنا تولیہ نیچے پھینک دیا وہ ننگا میرے سامنے کھڑا تھا۔ اسکا سفید اور گلابی جسم دیکھ کر اپنی رنگت بالکل سیاہ محسوس ہونے لگی۔ وہ کوئی چھ فٹ طویل اور قدرے بھاری وزن کی وجہ سے ریچھ جیاسا لگ رہا تھا ۔ اسکا لنڈ میرے لنڈ سے دو گنا موٹا تھا اور ایک دم تنا ہوا۔ اسکے لنڈ کے گرد گھنے بال تھے اور ایسا ہی اسکی چھاتی پر تھا۔
    وہ صوفہ پر بیٹھ گیا اور میں اسکے سامنے کھڑا تھا اس نے میری پینٹ کے بٹن کھول کر میرا لنڈ نکالا اور اسے چوسنے لگا۔ میں ہمیشہ سوچا کرتا تھا کہ کیسے کوئی انسان دوسرے انسان کا لنڈ اپنے منہ میں لے سکتا ہے۔اور اس وقت عملی طور پر میرا لنڈ اس جرمن نوجوان کے منہ میں تھا اور وہ اسے اس طرح چوس رہا تھا جیسے یہ کوئی خوش مزہ میٹھائی ہو۔ میرا لنڈ پہلے ہی سخت تھا مگر اس طرح اور سخت ہو گیا اور میں نہیں چاہتا تھا کہ اسکے منہ میں چھوٹوں۔ لھذا میں نے اسکو الٹا کیا اور گھوڑی بنا کر اسکی گانڈ اوپر کی ۔ اسکی گانڈ گھنے بالوں سے اٹی ہوئِ تھی اور مجھے گانڈ کا سوراخ نہیں دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے ویسلین اپنی گانڈ پر لگائی اور میرا لنڈ پکڑ کر گانڈ کے سوراخ پر رکھا اور اپنی گانڈ کو ایک دھکے سے میری طرف دھکیلا اور ویسلین کی پھسلان سے میرا لنڈ اسکی گانڈ کے سختی سے بھینچے سوراخ میں داخل ہو گیا اور خود بخود گہرائِ تک پہنچ گیا۔ لڑکا لطف اور درد کے ملے جلے احساس سے مختلف آوازیں نکال رہا تھا۔ مجھے اسکی گانڈ کی گہرائِ اچھی لگی نے لنڈ کو کچھ لمحوں تک وہیں رہنے دیا اس سے ایک تو میرے ایک دم چھوٹنےکا احساس کم ہوا اور دوسرے لڑکے کی آوازیں بھلی لگ رہی تھیں۔لڑکا اپنی گانڈ کو ادھر ادھر اس طرح گھما رہا تھا کہ مجھے اسکی گانڈ کے اندر سبھی جگہ اہنا لنڈ مس کرتا ہوا محسوس ہوا۔ اب میں نے ایک دم اپنا لنڈ اسکی گانڈ سے باہر نکال لیا ایسا کرنے سے میرے لنڈ کی موٹائی جتنا کھلا سوارخ بن گیا اس سے پہلے کہ اسکی گانڈ پھر سے سکڑتی اس سوارخ میں اپنا لنڈ گھسا دیا اور زور زور کے دھکے لگا کر اسکو چودنے لگا۔ ایسا کرنے میں میرے ٹٹے لہرا لہرا کر اسکی گانڈ کے نچلے حصے سے ٹکرا رہے تھے۔ اور جب پورا لنڈ اسکی گانڈ میں جاتا تو میرے پیٹ اور اسکے چوتڑوں کے آپس میں ٹکرانے سے چھپ چھپ کی آواز پیدا ہو رہی تھی دوسری طرف اس ویسلین کی پھسلان سے پچ پچ جیسی آواز نکل رہی تھی۔ بے ہنگم سی موسیقی میں میں اسکی چدائی کر رہا تھا اور وہ ہر دھکے پرجرمن زبان میں ، بہت خوب کی ورد کر رہا تھا۔
    میں پسینے پسینے ہو گیا اور میں نے اسکو پہلو کے بل لٹا کر اسکی گانڈ اپنی طرف کر لی اور اسکی ایک تانگ اوپر اٹھا کر لنڈ اسکی گانڈ میں گھسا دیا۔اس طرح اسکو کچھ مزہ نہیں آرہاتھا اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ مجھے بھی بیٹھنے کو کہا۔ مجھے صوفے پر بٹھ کر میرے لنڈ پر بیٹھ گیا اب مجھے کچھ نہیں کرنا تھا بس آرام سے بیٹھنا تھا باقی کام وہ خود سے کر رہا تھا یعنی اہنی گانڈ اوپر نیچے کرکے خود کو چدوا رہا تھا۔ یہ پوزیشن بھی اسے نہ بھائی اور پھر سے گھوڑی بن گیا اور اپنی گانڈ کو زور زور سے میری طرف دھکیل کر چدنے لگا۔ آخر مجھے لگا کہ اب میں چھوٹنے والا ہوں، میں نے ایک انجن کی مانند ایسے زور زور سے دھکے لگائِ کہ لڑکے کی چیخیں نکل رہی تھیں اور میں ایک زبردست کم کے ساتھ اسکی گانڈ کے اندر ہی چھوٹ گیا اور اسکے گھٹنوں کو سیدھا کر کے پیٹ کے بل کیا اور اسکی گانڈ پر لیٹ گیا۔ میرا لنڈ اندر منی چھوڑ رہا تھا اور وقفوں وقفوں سے تمام منی اسکی گانڈ میں نچوڑ رہا تھا۔ اس دوران لڑکے کا لنڈ ایک دم سختی سے کھڑا رہا اور جب میں اسکی گانڈ پر لیٹا ہوا تھا وہ کوشش کر رہا تھا کی مٹھ مار کر خلاصی پائے۔ اچانک میرے ذہن میں ایک بات آئی اور میں نے اسکو اسی حالت میں سیدھا کیا اور وہ اب اپنی کمر کے بل لیٹا تھا۔ اور اسکا لنڈ سیدھا کھڑا تھا میں نے تھوڑا سا تھوک اپنے منہ سے اپنی گانڈ پر لگایا اور اور اسکے لنڈ پر بیٹھ گیا۔ اسکا لنڈ جیسا میں نے بتایا میرے لنڈ سے د گنا موٹا تھا اور جیسے ہی میں اس پر بیٹھا مجھے اپنی گانڈ پھٹتی محسوس ہوئی اور لڑکا احتجاج کرنے لگا کہ اسے ایس نہیں کرنا بس گانڈ مروانی تھی ۔ وہ مجھے چودنے کے موڈ میں نہیں تھا مگر اس دوران اسکا سارا لنڈ اپنی گانڈ میں گھسا لیا تھا اور
    اصل میں اسکا لنڈ دیکھ کر شروع میں مجھے یہ خواہش ہوئِ تھی کہ وہ میری گانڈ مارے۔ بہرحال جب لڑکے نے میری گانڈ کا دباو محسوس کیا اور اسکا سارا لنڈ میری گانڈ میں تھا تو وہ چپکا ہو گیا اور ہلکے ہلکے اپنی گانڈ اوپر نیچے کر رہا تھا جس سے اسکا لنڈ میری گانڈ میں اندر باہر ہو رہا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ گھوڑی بن کر اس سے چدواوں مگر ڈر یہ تھا کہ جیسے ہی میں اس پوزیشن سے اٹھوں کہیں وہ میری گانڈ مارنے سے انکار نہ کر دے۔ سو میں اسی طرح اپنی گانڈ اسکے لنڈ پر اوپر نیچے کرتا رہا۔ جب میں نے لڑکے کی آنکھِوں مین سرور دیکھا تو اسکو زور سے لیپٹ کر ایک جانب گر گیا جس سے لنڈ بد ستور میری گانڈ میں رہا مگر پوزیشن بدل گئِ اور اب وہ میرے پیچھے تھا اور ہم پہلو کے بل لیٹے تھے۔ میں ایک بار پھر پہلو بدلا اور اسے بھنچے رکھا اور اپنی پشت پر لا کر خود پیٹ کے بل ہو گیا لیجئے صاحب میں اب گھوڑی بننے کی حالت میں آ گیا تھا اور میں نے اپنے گٹنے فولڈ کئے اور گھوڑی بن گیا۔ میری اس ہنر مندی کو سمجھنے میں اسے ذرا دیر لگی مگر جب اس نے دیکھا کہ لنڈ گانڈ کے اندر ہے اور بندہ بھی گھوڑی بنا ہو ہے تو اس نے مجھے چودنا شروع کر دیا۔ اسکا ہر دھکا میری گانڈ کو کشادہ کر رہا تھا اور مجھے مزہ آرہا تھا۔ میرا لنڈ پھر سے کھڑا ہونے لگا لڑکا مجھ سے جوان تھا اور گرم خون اس نے کافی دیرتک مجھے چودا اور بالآخر اپنا لنڈ گانڈ سے نکال کر میرے چوتڑوں پر چھوٹ گیا۔ اسکی سفید اور گاڑھِی منی میرے بھاری چوتڑوں پر پھیل گئی۔ اور اس نے مزید اسے اپنے لنڈ سے میری گانڈ پر پھیلا دیا۔ اسکے چہرے پر اطمنان تھا اور ایک خفیف سی مسکراھٹ۔ وہ بولا یہ بھِی خوب رہی میں گانڈ مروانا چاہتا تھا کیونکہ مجھے یہ جاننا تھا کی جب لنڈ گانڈ میں جاتا ہے تو کیسا لگتا ہے چہ جائیکہ گانڈ مارنے والے نے خود بھی گانڈ مروالی۔ میرا کھڑا لنڈ دیکھ کر اسکی مسکراھٹ اور پھیل گئی اور اس نے مجھے بیٹھا کر میرا لنڈ چوسنا شروع کردیا۔ میں بھی گرمی میں آگیا اور میں نے اپنا لنڈ اسکے منہ میں گہرائِ تک دھکیلنا شروع کر دیا اور یہ حلق تک پہنچ رہا تھا اور اسکی ابکائیاں نکل رہی تھیں مگر اس نے میرا لنڈ اپنے منہ سے نہیں نکالا۔ مِیں اب چھوٹنے والا ہو گیا اور چاہتا تھا کہ اسکے منہ سے لنڈ نکال کر منی خارج کردوں مگر اسنے مجھے ایسا نہین کرنے دیا میں نے اسے بتا دیا کہ میں چھوٹنے وال ہوں اس نے کہا کہ اسکے منہ میں ہی چھوٹ جاوں
    باوجود کہ مجھے بہت عجیب لگا مگر میں اپنے آپ کو اب روک نہیں پا رہا تھا اور منی کی ایک پچکاری اسکے منہ چھوٹ گئی میری حیرت کی انتہا اس وقت ہوئِ جب وہ میری ساری منی نگل گیا اور میرا لنڈ چاٹ رہا تھا۔
    میں نے اسکے غسل خانے میں جا کر اپنا اُپ صاف کیا اور اسکے کہنے پر نہا بھی لیا اور کپڑے پہن کر اسکے فلیٹ سے نکل آیا۔ باہر آکر پھر سے ایک سخت پشیمانی اور ندامت کا احساس تھا کہ میں نے اپنے تئیں یہ فیصلہ کیا تھا کی اب کبھی گانڈ نہیں مروانگا اور یہ کیا ہوا کہ میں نے اپنا عہد خود سے ہی توڑ دیا ؟ اسی ادھیڑ بن میں واپس گھر لوٹا۔ اور دیر تک اپنے ضمیر سے سمجھوتا کرتا رہا کہ یہ آخر بار تھی اب اسے نہیں دوھراونگا۔
    کیا واقعی میں نے اپنے ضمیر سے سمجھوتا کر لیا اور اس غیر فطری جنسی کھیل سے اجتناب کرلیا؟ یہ جاننے کے لیئے آپکو اگلی قسط کا انتظار کرنا ہوگا
    بہرطور اس دوران اس نشست کے بارے میں اپنی رائے ضرور دیجیئے گا۔ مہربانی
    Last edited by asiminf; 05-01-2017 at 03:05 PM.

  11. The Following 6 Users Say Thank You to Fungjo For This Useful Post:

    abba (09-01-2017), abkhan_70 (05-01-2017), Khushi25 (09-01-2017), Lovelymale (10-01-2017), Mirza09518 (05-01-2017), piyaamoon (06-01-2017)

  12. #57
    Lovelymale's Avatar
    Lovelymale is offline Premium Member
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    53
    Posts
    1,851
    Thanks
    13,526
    Thanked 6,748 Times in 1,715 Posts
    Time Online
    2 Weeks 18 Hours 13 Minutes 6 Seconds
    Avg. Time Online
    11 Minutes 34 Seconds
    Rep Power
    974

    Default

    Story boht achi chal rahi hai. Apnay watan se bahir rehnay walon ko boht se halat darpesh hotay hain, khas taur pe jab banda sex ka shoqeen bhi ho to usay rang barangay log miltay hain. Maza araha hai iss adventurous story ka.

  13. The Following 2 Users Say Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    abba (10-01-2017), Khushi25 (09-01-2017)

  14. #58
    Join Date
    Apr 2015
    Location
    London
    Posts
    406
    Thanks
    1,868
    Thanked 975 Times in 350 Posts
    Time Online
    3 Days 20 Hours 18 Minutes 23 Seconds
    Avg. Time Online
    8 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    597

    Default

    I read this story from the beginnings
    I must say that you express your feeling such a simple and straight words
    Your un successful wedding life and than get a chance to fuck the foreigners
    Such an amazing situation
    Please do up date soon
    I am curiously waiting
    For knowing what happen next ?

  15. The Following User Says Thank You to Khushi25 For This Useful Post:

    abba (10-01-2017)

Page 6 of 6 FirstFirst ... 23456

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •