Page 1 of 3 123 LastLast
Results 1 to 10 of 25

Thread: کچی عمر کی نادانیاں

  1. #1
    Sexeria's Avatar
    Sexeria is offline VVIP
    Join Date
    Oct 2016
    Location
    Lahore
    Age
    25
    Posts
    235
    Thanks
    315
    Thanked 1,037 Times in 218 Posts
    Time Online
    1 Day 13 Hours 34 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    25 Minutes 23 Seconds
    Rep Power
    486

    Redarrow کچی عمر کی نادانیاں

    بوہت کم لوگ ھوتے ہیں جو کھاتے پیتے گھرانے میں اپنی آنکھیں کھولتے ہیں اور مریم اویس کا تعلق بھی کچھ ایسے ہے گھرانے سی تھا. وہ منہ میں سونے کا چمچا تو نہیں لیکن چاندی کا چمچ لیکے ضرور پیدا ہوئی تھی. اویس صاحب ایک مشھور سیاستداں تھے اور انکا حلقہ احباب کافی اچھا خاصہ تھا مریم چونکے پہلی بیٹی تھی سو ظاہر سی بات ہے کے بوہت ناز نخرے اٹھائے گئے تھے اسکے اور لاڈلی بیٹی تھی اویس ممتاز کی کیوں کے شکل کافی زیادی ملتی تھی اس سے اور اویس ہر بندے کو یہی کہتے کے یہ میری شہزادی ہے بلکل میرے پے گئی ہے.

    ہونا تو یہ ہی چاہیے تھا کے یہ نخرے اٹھائے ہی جاتے لیکن اویس ممتاز اس وقت اپنی سیاست میں مصروف ہو گئے تھے اور زیادہ ٹائم نہ نکال پاتے تھے مریم کے لیے. کیوں کے سیاستداں لوگ ہر پارٹی میں اپنی بیگم کو ضرور لے جاتے ہیں کیوں کا اسکا بوہت فائدہ ہوتا ہے اگلے بندے کو قابو کرنے کا کیوں کے مرد لوگ عورت کے سامنے زیادہ دیر ٹک نہیں پاتے اینڈ جلد ہی ہار ماں لیتے ہیں اسکے علاوہ ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کے جائداد کا رولا بوہت کم پیسوں میں حل ہو جاتا ہے. اپنے اکثر دیکھا ہو گا کے یہ سیاستداں لوگ یا بڑے بڑے بزنس مین لوگ 2 شادیاں لازمی کرتے ہیں ایک خاندانی عورت سے اور ایک ماڈل ٹائپ لڑکی سے ، پتا ہے کیوں؟؟ میں بتاتا ہوں یارو. وہ ایسا یس وجہ سے کرتے ہیں کیوں کے بڑی بڑی بزنس ڈیل بس ایک رات کی مار ہوتی ہیں. یہ بزنس مین اپنی بولڈ اور حسین بیگمات کو اگے اگے کرتے ہیں تا کے وہ مردوں کو لبھایں اور للچاہیں اتنا زیادہ کے ایک رات کے بدلے 200 ملین والی چیز 70 ملین میں طے ہو جاتی ہے اور ایسا بوہت عرصہ ہوتا آیا ہے اور آیندہ بھی ہوتا رہے گا اور یہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا آیا ہوں اور بوہت تجربہ ہے مجھے لیکن خیر اب آپ کو پتا لگ چکا ہو گا کے ہر بڑا سیاست دان نےکیوں زیادہ شادیاں کی ہوئی ہیں لیکن خیر!!! بات ہو رہی تھی مریم اویس کی. اب ہر پارٹی میں بیگم مدیحہ بھی ساتھ ساتھ ہوتی اور مریم زیادہ تر گھر اکیلی ہی ہوتی تھی اور تنہائی اسکی بہترین دوست تھی اگرچہ گھر مین ایک ملازمہ بھی اسپیشل اسکے لیے رکھی ہوئی تھی لیکن ایک ملازمہ ماں کا پیار تو نہیں دے سکتی نا. بھی بھئی اسکو کیوں کے بڑے تھے اس سے اور انکی علیحدہ ہی کمپنی تھی اپنی حلقے میں اور مریم زیادہ گھر سے بھی باہر نہ نکلتی تھی.

    پھر جب مریم اسکول جانے کی عمر میں ہوئی تو اسے ایک مشہور کرسچین اسکول میں داخل کروا دیا گیا جو کے اس زمانے کے لحاظ سے بوہت ماڈرن تھا اور لڑکیاں وہاں زیادہ ایلیٹ کلاس ہی اتی تھی. اسکول جا کے مریم اویس کو کچھ حوصلہ ہوا کیوں کے یہاں اسکی عمر کی کافی دوستیں بن گئی تھی. شروع شروع میں مریم کافی ڈری ڈری رہتی تھی اور اپنی کلاس فیلوز سے زیادہ گھل مل نہ پاتی تھی گھر کے اثر کے وجہ سے . پھر اسکی ایک ٹیچر فاخرہ نے اسی کی ہی کلاس فیلوز آمنہ اور زویا کو کہا کے تم دونوں آج کے بعد مریم کے ساتھ بیٹھا کرو گی اور اس کے ساتھ کھیلا کرو گی. آمنہ اس وقت ایک منسٹر کی بیٹی تھی اور زویا ایک بوہت بڑے بزنس مین کی بیٹی تھی اور وہ دونوں بھی راضی ہو گی کیوں کے ان دونوں نے بھی محسوس کیا تھا کے مریم بریک ٹائم میں بھی علیحدہ ہی بیٹھا کرتی تھی نہ کسی کے ساتھ کھیلا کرتی تھی نہ کسی کو دوست بناتی تھی. پھر آمنہ اور زویا نے مریم کے ساتھ بیٹھنا شروع کر دیا اور آہستہ آہستہ مریم کی ان سے دوستی بھی ہو گیی پھر رفتہ رفتہ یہ دوستی گاڑھے رشتے میں بدل گیی اور اب وہ تینوں پکّی سہیلیاں بن چکی تھی اور مریم نے بوہت خوش رہنا شروع کر دیا تھا جس وجہ سے مریم کے والدین بھی بوہت خوش تھے اور ان تینوں سہیلیوں کا اپس میں کافی آنا جانا تھا اور اکثر یہ ایک دوسرے کے گھر ہی سو جاتی تھی چونکے تینوں گھروں کی کلاس بھی ایک جیسی ہی تھی سو کسی کو بھی اعتراض نہیں تھا. یوں ہی رفتہ رفتہ زندگی کی گاڑی چلتی رہی اور مریم 12 سال کی ہو گی تھی اور یہ وقت تھا جب اویس صاحب پنجاب کے کافی بڑے وزیر بن چکے تھے . اویس کی سرگرمیوں کی طرح مریم کی جسم میں بھی تبدیلیاں آنا شروع ہو چکی تھی. اسکے سینے میں چھوٹی چھوٹی گٹلیاں بننا شروع ہو چکی تھی اور چوت کے ارد گرد ہلکے ہلکے بھورے بال اگ گئے تھے جو مریم کے لیے پریشانی والی بات تھی کیوں کے اسے اندازہ نہیں تھا کے یہ ہو کیا رہا ہے اسکے جسم کے ساتھ؟؟؟ اسکے سینے کی گٹلیاں بھی عجیب تھی جنکو چھونے پی ہلکی ہلکی درد بھی ہوتی تھی لیکن ایک عجیب سا مزہ بھی اتا تھا جو اسکا معصوم دماغ سمجھنے سے قاصر تھا کے یہ کیا ماجرا ہے؟؟ ان دنوں کلاس میں ٹیچر نے بائیولوجی کی کلاس میں رسولیوں کا ذکر کیا تو مریم کا دماغ فورن اپنے سینے کی طرف چلا گیا کے کہیں یہ بھی تو نہیں رسولیاں تھی؟؟؟

    رات کھانے کے دوران سب کے سامنے ہی مریم نے اپنی امی کو کہا کے امی مینے کل ڈاکٹر کے پاس جانا ہے. بیگم مدیحہ حیران تھی کے بیٹھے بٹھے مریم کو کیا ہو گیا دوپہر تک تو کوئی بخار نہیں تھا. اویس کو بھی پریشانی لاحق ہوئی اور انہوں نے پوچھا کے میری بیٹی کو کیا ہو گیا؟ بخار تو نہیں ہو گیا بیٹا؟ مریم بولی کے نہیں بابا مرے جسم میں رسولیاں ہیں. اویس اور مدیحہ دونوں اسکی طرف متوجہ ہو گئے کے کیا ماجرا ہے. بیگم مدیحہ بولی کے بیٹی کہاں ہیں رسولیاں؟؟ مریم نے فورن اپنے سینے پی نپل والی جگہ پی ہاتھ رکھا اور بولی مما یہاں ہیں رسولیاں. یہ سن کے اویس صاحب مسکرا اٹھے اسکی معصومیت پے اور بیگم مدیحہ نے کہا کوئی بات نہیں بیٹا ٹھیک ہو جایں گی. مریم سے یہ برداشت نہ ہوا کے کوئی اسکی بیماری کو یوں سیریس نہ لے تو بولی کہ مما بابا آپ یقین کریں میں آپکو دکھاتی ہوں اور یہ کہتے ہوی ہی اپنی قمیض اتارنے کی کوشش کرنے لگی تو بیگم مدیحہ نے ڈانٹا کے یہ کیا کر رہی ہو گندی بچی اور مریم ناراض ہو کے کھانا چھوڑ کے اپنے کمرے کی طرف چل پڑی. اویس صاحب کی ہنسی نہیں ختم ہو پا رہی تھی اور انہوں نے بیگم کو کہا کے جاؤ اسے مناؤ.

    بیگم مدیحہ کھانا چھوڑ کے اسے منانے چلی گی اور کمرے میں جا کے مریم کو اپنے پاس بلایا اور کہا کے بیٹا دکھاؤ کہاں ہیں رسولیاں؟؟ مریم نے قمیض اتاری اور اپنا سینا مما کے سامنے کر دیا. بیگم مدیحہ سے اسکا سینا چھو کے دیکھا اور جب گلٹی پے ہاتھ لگایا تو مریم کی سسکاری نکل گی اور بولا مما درد ہوتا ہے. بیگم بولی کے بیٹا پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے یہ ایک نورمل سی چیز ہے. تو مریم بولی کے نہیں مما یہ پہلے نہیں تھا کچھ مہینوں سے ایسا ہو رہا ہے. بیگم بولی کے بیٹا یہ ہر شخص کو ہوتا ہے جب وہ جوان ہو رہا ہوتا ہے . مریم بات کاٹتے ہوی بولی کے ہر شخص کو؟؟ تو بیگم صاحبہ بولی کے جی بیٹا ہر ایک کو. مریم فورن بولی تو کیا آپکو بھی ہوا تھا؟ بیگم بولی کے ہاں جب میں بھی چھوٹی تھی نہ مجھے بھی ہو گیا تھا اور خود ہی ٹھیک ہو گیا تھا تو آپ بھی فکر نہ کرو آپ کوبھی ٹھیک ہوجاے گا.ٹھیک ہے؟ مریم مان گی.

    گلٹیوں تک تو ٹھیک تھا لیکن ایک رات تو حد ہی ہو گی اور رات سوتے ہوی مریم کی آنکھ کھلی تو اسے اپنی پیشاب والی جگہ پے کچھ گیلا سا محسوس ہوا تو اس نے سوچا کے یہ کیا میرا پیشاب نکل گیا؟ لیکن پیشاب نکلے تو مرچیں نہیں لگتی لیکن اسکو بوہت جلن محسوس ہو رہی تھی اپنی پھدی پے.اسنے سائیڈ ٹیبل کی لائٹ جلائی تو اسکے آنے باہر آ گئے کیوں کے اسکی شلوار کے اوپر خون تھا کافی سا اور عجیب سی گندی بو تھی اسکی اسنے ایک چیخ ماری ڈر کی وجہ سے تو اسکی امی ساتھ والے کمرے سے باغ کے اسکے کمرے میں آیی تو دیکھا کے مریم سکتے کی حالت میں بیٹھی ہوئی تھی انہوں نے اسکو بلایا تو اسنے چونک کے امی کو دیکھا اور بولی مما یہ کیا ہے؟ اسکی امی کی جب نظر پڑی تو انھیں ساری بات سمجھ آ گی کے مریم کو پیریڈ آے ہیں انہوں نے مریم کو گلے لگایا اور کہا کے بیٹا ڈرو نہیں یہ بھی سب کو ہی ہوتا ہے اب تم جوان ہو رہی ہو تو ڈرنے والی کوئی بات نہیں ہے ٹھیک ہے؟؟ اور ایک پیڈ لا کے دیا اور اسکو کہا کے اپنی شلوار اتارو اور ایک انڈرویر کے اوپر پیڈ لگایا اور مریم کو باندھنا سکھایا اور اسکو یہ بھی بتایا کے اب ہر مہینے اسی تاریخوں کے اس پاس اسکو دوبارہ اسی طرح خون آیا کرے گا سو پہلے ہی پیڈ پہن لیا کرے ٹھیک ہے؟ مریم نے رضامندی میں سر ہلایا اور اسکی امی بولی کے اب 2 دن اسکول جانے کی ضرورت نہیں ہے ریسٹ کرو . اور مریم کو دوبارہ بیڈ پے لٹا کے اپنے کمرے میں چلی گیی. لیکن مریم سوچوں کے بھنور میں ہی تھی کے یہ کیا چیز ہے جو ہر لڑکی کو ہوتا ہے تو اسکا مطلب ہے کے آمنہ اور زویا کو بھی ہوتا ہو گا؟؟ خیر یہ تو اسکول جا کے ہی پتا چلے گا لیکن اسکے لیے 2 دن انتظار کرنا پڑے گا. دیکھا جاےگا .

    اگلے دن اٹھ کے مریم نے واشروم میں جا کے پیشاب کرنے کے لیے بیٹھی تو اسکی نظر پھدی پی پڑ تو رات والا سارا سین یاد آ گیا اور دیکھا تو اسکی پھدی معمول سے زیادہ پھولی ہوئی تھی جو کے مریم کے لیے نیی بات تھی پیشاب کر کے مریم اپنے بیڈ پی دوبارہ لیٹ گی اور ایک ہاتھ سے پھدی کو چو کے دیکھا تو تھوڑی جلن ہوئی لیکن عجیب سی سنسناہٹ بھی جسم میں پھیل گی اور مریم نے ارادہ ترک کر دیا اور دوبارہ سو گی. 2 دن بعد سکول واپس گیی تو اسکی دونوں سہیلیوں نے اسکو گھیر لیا اور پوچھا کے 2 دن سکول کیوں نہیں آیی؟؟؟ مریم بولی کے بابا بتاتی ہوں بریک تو ہو لے. آمنہ سے یہ برداشت نہ ہوا اور بولی کے ابھی بتاؤ ایسی کونسی بات ہے؟؟ لیکن مریم بولی کے یہ بات کلاس میں بتانے والی نہیں ہے تو سب بریک کا انتظار کرنے لگ پوری اور بریک کے دوران اسے ایک جگہ پے لے گی اور کہا کے اب بتاؤ؟؟ مریم نے بات بتا دی کے کس طرح اسکی پھددی سے خون نکلا اور اسکی وجہ کیا تھی. وہ دونوں حیرانی سے دیکھنے لگ پڑی کے یہ کیا سائنس مار رہی ہے؟ وہ بولی کے ہم دونوں کو نہیں آیا ایسا خون ابھی تک تو. مریم بولی کے بیٹا آ جائے گا ٹینشن نہ لو. زویا بولی کے اچھا بتاؤ کے خون کیسا تھا اور تمہیں درد ہوئی؟؟ مریم بولی کے یار رات 2 بجے کے قریب آیا تھا اور مجھے بوہت جلن بھی محسوس ہوئی تھی پیشاب والی جگہ پے اور کمر میں بھی درد تھا بوہت سا. آمنہ بولی کے کیا 2 دن مسلسل نکلتا رہا خون؟؟؟ مریم ہنس پوری اور بولی نہیں بابا تھوڑا تھوڑا کر کے کبھی کبھی آتا ہے . مسلسل نہیں ہوتی میری ماں . پھر وہ تینوں ہنس پوری اور بولی کے پارٹی کھلا تو جواں ہو گی ہے ہم دونوں سے پہلے ہی. مریم بولی کے ٹھیک ہے گھر آ جانا کھلا دوں گی.

    پھر سب کلاس میں آ گئی اور چھٹی کے بعد گھر چلی گے. پھر کچھ مہینوں بعد زویا کو بھی میںسس آ گئے اور اسکی بھی حالت مریم جیسے ہی تھی لیکن چونکے اسے پتا تھا اس بات کا مریم کی وجہ سے سو وہ پریشان نہیں تھی اور 3 دن بعد آ کے اسنے اپنی دوستوں کو بتایا کے اسکو بھی آ گئے ہیں اب آمنہ اکیلی رہ گی تھی جسکو ابھی تک میںسس نامی چیز نہیں آیی تھی.آمنہ بولی کمینیو اچھا دوست ہو میری دونوں جوان ہو کے بیٹھ گی ہو اور میرا سوچا بھی نہیں کے اسکا انتظار ہی کر لیں. مریم بولی کے لو اب ہمارا تھوڑا نہ کنٹرول ہے اس چیز پے. زویا بولی کے بیٹا جوان زیادہ جلدی نہ ہو ورنہ رشتے آنے لگ پڑیں گے. وہ سب ہنسنے لگ پڑے.

    اسی طرح ایک سال گزر گیا اور مریم کی گٹلیاں اب بڑھ کی گٹلیاں نہیں رہی تھی بلکے انہوں نے ایک لیموں کا سائز حاصل کر لیا تھا. مریم کو پتا تھا کے ابھی اور بڑھیں گی کیوں کے اسنے اپنی امی کا سینا دیکھا تھا اور بیگم مدیحہ کا سینا کافی بڑا تھا اسکے علاوہ مریم نے اپنی ٹیچر آسیہ کو ذھن میں لیی تو اسکا سینا بھی نظروں کے سامنے گھوم گیا کیا چوڑا اور بڑھا ہوا سینا تھا اسکی مس کا. مریم نے سوچا کے کبھی اسکا سینا بھی مس آسیہ جتنا ہو جائے تو مزہ آ جائے کیوں کے مس آسیہ کا سینا ان پے بوھت ججتا تھا. اب اکثر رات کو جب مریم اپنے سینے پی ہاتھ پھیرتی تو درد کی بجایے ایک عجیب سا مزہ آتا اسے جسکو وہ نام دینے سے قاصر تھی. جب بھی وہ سینے پے ہاتھ پھیرتی تو جسم میں بجلیاں دھوڑنے لگ پڑتی اور جسم اکڑ جاتا تھوڑا تھوڑا سا اور اس طرح لگتا کے کوئی چیز اسکی پھدی کی طرف جاتی ہے. وہ جب پھدی کو ہاتھ لگاتی تو معاملا اور بھی سنگین ھو جاتا تھا. جب بھی پھدی کو چھوا کرتی تو ایسا لگتا کے جسم کا سارا خون اسکی پھدی کی طرف جا رہا ہے اور اسے ایک عجیب سا مزہ آتا ایسا کرنے سے. وہ ابھی تک معصوم ہی تھی اور نہیں جانتی تھی کے جب بھی وہ اپنے سینے کو چھیڑتی آہی تو کیوں اسکے مممے اکڑ جاتے ہیں اور اکڑے نپل کو چھیڑو تو جسم کے سارے بال کھڑے ہو جاتے ہان؟؟ اسے یہ بھی نہیں پتا تھا کے جب بھی وہ پھدی پے خارش کرتی ہے تو اسکی انگلیاں کیوں گیلی ہو جاتی ہیں؟؟ اسے ابھی اسکا جواب بھی نہیں پتا تھا کے جب بھی اسکو پیریڈ اتے تھے تو ان دنوں کیوں اسکا دل زیادہ کرتا تھا کے پھدی کو چھیڑا جائے؟ اسکو ابھی اس بات کا بھی جواب چاہیے تھا کے جب بھی زیادہ دیر پھددی کو مسلو تو ہلکا ہلکا سا نمی دار مادہ کیوں اتا ہے؟؟

    اگلے دن جا کے اسنے آمنہ اور زویا کو بتایا اس مسلے کے بارے میں تو ان دونوں کا قہقہ نکل گیا اور ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گی اور بولی کے کیا تم بھئ؟؟ مریم بولی کے تم بھی سے کیا مطلب؟؟ اسکا مطلب تم بھی؟؟؟ وہ تینوں پھر ہنس پڑی اور کہا کے ہم سب تو چپ تھی شاید یہ انوکھا کام صرف ہم ہی کرتی ہیں لیکن اب معاملہ خلا کے یہ قصب تو سب نے پکڑا ہوا ہے. زویا بولی کے میمو(مریم کا نک نام رکھا ہوا تھا اسکی دوستوں نے) تو توبڑی حرامی نکلی مطلب مجھے نہیں لگتا تھا کے تو ایسا کرے گی. مریم بولی کے کیوں تم کر سکتی ہو تو کیا میں نہیں کر سکتی؟؟ میرا فنکشن ڈفرنٹ ہے؟؟ آمنہ ہنس کے بولی تو اور کیا؟؟ پھر آمنہ بولی کے چلو اتنا تو پتا چلا کے ہم تینوں حرامی ٹائپ کی لڑکیاں ہیں. سب دوبارہ ہنس پڑیں.

    پارٹ 2

    یہ ١٩٨٨ کا زمانہ تھا. مریم کا تو اب جیسے معمول بن چکا تھا کے ہر رات کو پھددی کے ساتھ چیڑھ خانی کرنا. اب پھدی کی بھوک بڑھ چکی تھی. اب مریم روز اپنے کمرے کی کنڈی لگاتی اور اپنے کپڑے اتار کے ننگی ہی بیڈ پی سوتی تھی. سردیوں کے دن تھے اور رضائی میں نگے سونا عجیب ہی مزہ دیتا تھا اسکو. رضائی کا نرم نرم کپڑا جب اسکے ننگے بدن پی لگتا تو سنسنی دھوڑ جاتی اور مریم مزے میں آ جاتی تھی. مریم لحاف میں گھس کے ایک ہاتھ اپنے مموں پی پھیرتی اور دوسری ہاتھ اپنی پھدی کی لکیر پی رکھ دیتی تھی اور ہلکا ہلکا اسکو سہلاتی رہتی تھی. ایک رات مریم کو پتا نہیں کیا سوجھا کے اسنے لائٹ جلائی اور اپنی پھدیپے غور کرنا سٹارٹ کر دیا. اسکی پھدددی آپس میں بلکل جڑی ہوئی تھی اور پھدی کے ہونٹ آپس میں سلے ہوۓ تھے لیکن انگلی سے انکو علیحدہ بھی کیا جا سکتا تھا. پھدی کے بلکل اوپر ایک مٹر کے دانے جتنا دانا تھا اور مریم نے جیسے ہی اسے چھوا تو ایک جھٹکا لگا اسکے جسم کو اور اسکی ٹانگیں بھینچ گے آپس میں. مریم کا یہ مزہ پہلے کبھی نہیں آیا تھا. اسنے دوبارہ اسے چھوا تو دوبارہ وہی روح کو چیرتا مزہ آیا. وہ ایک عجیب خوشی میں تھی کے جیسے اس نے خزانہ پا لیا ہو. وہ دوبارہ لیٹ گی اور تیل لگا کے انگلی پی اپنے دانے کومسلنے لگ پوری. ابھی تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی دانا مسلتے کے اسکی سانسیں تیز چلنا شروع ہو گے اور سارا خون پھددی کی طرف جاتا محسوس ہوا. وہ مزے میں کھو چکی تھی اور بوہت مزہ آ رہا تھا اسے. پھر کچھ دائر بعد اسے لگا کے اسکے جسم کے اندر کوئی چیز باہر آتی محسوس ہو رہی تھی. وہ اپنے مزے میں کھویی ہوئی تھی اور کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا اسے. پھر کچھ دیر بعد ہی اسکا جسم اکڑا اور پھدی سے دودھ کی طرح کی کوئی چیز باہر آ گیی جسکی وجہ سے مریم کا جسم جھٹکے کھانے لگ پڑا. مریم کا جسم کچھ دیر بعد شانت ہوا تو وہ اپنے آپ کو ہلکا ہلکا محسوس کر رہی تھی. اسنے اپنے ہاتھ میں اپنی منی لی اور اسکو چھو کے دیکھا تو کافی چکنی چیز تھی وہ. مریم نے انگلیاں ناک کے قریب کیں تو اسکی بو عجیب سی تھی جسکو مریم سمجھ نہ پائی تھی لیکن تھی ایک نشیلی سی خوشبو ہی.

    مریم اگلے دن اپنی دوستون کو بتانے لگ پڑی کے کیسے اس پھدی کے دانے کو چھونے سے روح انگیز مزہ اتا ہے. آمنہ اور زویا بولی کے وہ آج رات ضرور آزماے گیں اس نسخے کو. اگلے دن دونوں کلاس میں آ کے بولی میمو کیا مزہ ایا یار ہم تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کے ایسا بھی مزہ اتا ہے. یار تو ہماری استاد ہے ماں گئے آج تجھ کو کے بوہت پوھنچی ہوئی چیز ہے تو.!! زویا لقمہ لگاتے ہوی بولی اور حرامی بھی. آمنہ بولی کے یار میرا تو تھوڑا سا ہی مادہ نکلا تھا لیکن مزہ بوہت آیا. زویا بولی کے کیا بتاؤں یار میرا بوہت پانی نکلا تھا کے میں پریشان ہو گی تھی روک ہی نہیں رہا تھا اور جسم ہچکولے کھا رہا تھا. مریم بولی کے واقعی؟؟ زویا بولی تو اور کیا؟؟ یہ تیرا ہی قصور ہے کتی. مریم ہنس پڑی. آمنہ بولی کے یار ہم لوگ آپس میں اتنے فرینک ہیں تو کن نہ ہم ایک دوسرے کوزیادہ اچھے طریقے سے جان لیں؟؟ زویا بولی میں سمجھی نہیں؟ آمنہ بولی کے یار ہم ایک دوسرے کے باڈی پارٹس دیکھ لیں تو؟ مریم بولی فٹے موں تیرا آمنہ کبھی کام کی بات نہ کریں. زویا بولی کے یار آئیڈیا تو ٹھیک ہی ہے آخر ہم بھی تو دیکھیں کے ہمارے جسم کیسے ہیں آخر کل کو ہم لوگوں نے ڈاکٹر بھی تو بننا ہے نہ؟ بہتر نہیں کے ہم آج سے ہی پریکٹس شروع کر دیں؟ سب ہنس پڑی اور پلان یہ بنی کے زویا کے گھر والے کچھ دن کے لیے آسٹریلیا جا رہے ہیں اور گھر پے بس وہ اور اسکا بھائی ہی ہوں گے سو اسکے گھر ہی اکھٹے ہو جاتے ہیں اور رات کو وہاں ہی سو جایں گے پارٹی کے بہانے؟؟ کیا خیال ہے؟؟ سب دوست اگری ہو گئے اور پلان فائنل ہو گیا .

    مقررہ تاریخ کو سب دوستیں زویا کے گھر میں اکھٹی ہو گی اور لاؤنج میں بیٹھ کے فلم دیکھنے لگ پڑی وی-سی-آر پے. اتنے میں زویا کا بھائی زین اپنے روم سے نکلا (جو کے زویا سے 3 سال بڑا ہو گا ) اور زویا سے پوچھا کے وہ باہر جا رہا ہے اور رات کو اے گا تو اگر کوئی چیز منگوانی ہے تو بتا دو. زویا بولی کے بھائی بریانی لیتے آنا. وہ چلا گیا تو آمنہ نے تکیہ زور سے مارا زویا کو اور بولی اچھی دوست ہے تو میری؟؟؟ زویا بولی کے کیا ہوا؟؟ آمنہ نے کہا کے یار تیرا بھائی اتنا ہنڈسم ہے اور تنے بتایا بھی نہیں؟؟؟ یار کیا خوبصورت بھی ہے رے تیرا. مریم نے بھی ہاں میں ہاں ملائی اور کہا کے واقعی یار بوہت خوبصورت ہے تمہارا بھی. زویا بولی کے کمینیو بہن کے گھر پے نظر رکھ لی تم نے، ہاے میں مر گئی. سب ہنسنے لگ پڑی. مریم نے کہا کے یار فلم چینج کرو کوئی اچھی سی لگاؤ تو ٹائم پاس ہو جائے. زویا بولی کے یار موویز تو زین کے کمرے ہی پڑی ہوتی ہیں کیوں کے وہ ہی دیکھتا ہے زیادہ تر اور چھپا کے رکھتا ہے یہ تو پتا نہیں کیسے ادھر ہی پڑے رہ گی تو مینے لگا لی لیکن نئی مووی ڈھونڈنی پڑی گی اسکے روم سے . پھر وہ سب زین کے کمرے کی طرف چل پڑی اینڈ موویز تلاش کرنے لگ پڑی. مریم نے بیڈ کے قریب والا ایریا تلاش کرنا سٹارٹ کر دیا اور بیڈ کے نیچے جھانکنے لگ پڑی اور وہاں سے اسے ایک جوتی والے ڈبے میں سے ایک مووی مل گی. میم نے کہا کے مل گی. ساری دوستوں سے تالیاں بجائی اور مووی لے کےٹیوی روم میں آ گی. زویا نے کیسٹ اندر ڈال کے مووی چلا دی.

    یہ ایک رومانٹک سی مووی تھی اور جب بھی کوئی رومانٹک سین آتا تو ساری دوستیں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کے ہنسنے لگ پڑتی. آمنہ بولی کے یار جب بھی کوئی ایسا سین اتا ہے نہ پتا نہیں کیوں پھدی میں ایک کشش سی محسوس کرتا ہے اور دل کرتا ہے کے ہاتھ کو پھدی پے ہے رکھ دوں. مریم بولی قسم سے یار میرا بھی یہی حال ہے کیا بتاؤں؟ زویا بولی ہے میرا تو دل کر رہا ہے کے یس ہیروئن کی جگہ میں ہوتی اس ہیرو کے ساتھ. مریم نے زویا کی پھدی پے تھپپر مار کے بولی کے کیوں یہ سمبھالی نہیں جا رہی؟ زویا کہاں پیچھے ہٹنے والی تھی وہ بھی فورن اگے بڑھی اور مریم کی پھدی پی زور سے چٹکی کاٹ کے بولی کے آگ تو یہاں سے ہی سٹارٹ ہوئی تھی نہ؟ مریم بولی کمینی اتنی زور سے چٹکی کاٹی ہے میری لال ہو گئی ہے. آمنہ بولی تو اور کیا؟؟ یس کمینی میمو نے ہی ہماری اندر آگ کو بڑھکایا ہے اور اب اسکی لال ہو رہی ہے.زویا بولی کے یار میمو ویسے دکھا تو سہی کتنی لال ہو رہی ہے؟؟؟ آمنہ بولی ہان یار دکھا نہ!!

    مریم بولی کے اگر تم لوگ بھی دکھا دو تو پھر دکھا دیتی ہوں. زوا بولی کے میرے کمرے میں آ جاؤ وہاں ہی شغل لگاتے ہیں. سب زویا کے روم میں چلے گئے اور روم لاک کر دیا تا کے کوئی ان بلایا مہمان نہ آ جائے انکے گھناونے کام دیکھنے. پھر جب ساری بیڈ پی بیٹھ گی تو آمنہ بولی چل مریم دکھا اب. مریم بولی کے یار یس طرح نہیں ایسا کرتے ہیں کے میں تین گنتی ہوں اور تین پی ساری ہی یک دم اپنی شلوار اتار کے دیکھیں گی ایک دوسرے کی. زویا بولی کے ٹھیک ہے گنو. مریم نے ایک گنا ٹو سب نے اپنی شلواریں ہاتھ میں پکڑ لیں. مریم نے 2 گنا تو سب نے اپنی شلوار کا نیفا اپنی مٹھی میں پکڑ لیا ہے ریڈی ہو گئی چوت کا نظرانہ پیش کرنے کو. جیسے ہی مریم نے تین کہا تو ساروں نے اپنی شلوار کو کھینچ کے اپنے ٹخنوں تک اتار دی. اب سب کا دہہان ایک دوسرے کا پھدوں کی طرف تھا. مریم کی چوت کا دانہ سب سے بڑا تھا. آمنہ کی چوت سب سے ہی ٹائٹ تھی اور چھوٹی سی تھی .زویا کی پھدی سب سے بڑی تھی لمبائی میں اور بڑی نرم سی محسوس ہو رہی تھی. آمنہ ہنس کے بولی کے ہاے نی میمو تیرا یہ اوپر سے لن اگ رہا ہے؟؟؟ دیکھ تو سہی ہاہاہاہاہا تیرا دانا تو بوہت ہی بڑا ہے کیا کھلاتی ہے اسکو؟؟؟ زویا بولی ہان میمو یہ کیا سائنس ہے یار؟؟ میمو بولی پتا نہیں یار یہ شروع سے ہی ایسا ہے اسی وجہ سے میں جب بھی اس دانے کو ہاتھ لگاتی ہوں تو پتا نہیں اتنی طاقت کہاں سے آ جاتی ہے کے بوہت زیادہ پانی نکلتا ہے اور جلد ہی فارغ ہو جاتی ہوں لیکن مزہ انتہا کا آتا ہے.

    پھر میمو بولی آمنہ تو کیا ماچس کی ٹیلی کے ساتھ پھدی مسلتی ہے جو تیری اتنی باریک ہے؟ تیری پھدی میں تو چوہے کا لن بھی نہ جائے ہاہاہا آمنہ بولی تو سالیو اچھا ہے نہ مرے سرتاج کو زیادہ مزہ اے گا نہ میری چدائی کا. زویا بولی دیکھ کتنی فکر ہے اسکو ابھی سے ہی اپنے سرتاج کی. پھر آمنہ بولی ہان نہ زویا تو پنی دیکھ کتنی لمبی پھدی ہے تیری جیسے تجھے نرس نے پیدا ھوتے وقت تیری پھدی سے ہی پکڑ کے ہی نکالا ہو گا اسی وجہ سے تیری پھدی بڑی ہے ہاہاہا سب خوش تھے کے مریم نے آمنہ کو کہا کے یار میری چوت سے تو بڑی سہانی سی خوشبو اتی ہے تمہارا کیا حال ہے؟ آمنہ بولی کے یار مینے تو کبھی سونگھ کے نہیں دیکھی اور یہی حال زویا کا تھا کیوں کو اسنے بھی نہیں سونگھی تھی یہ خوشبو تو طے یہ پایا کے سب ایک دوسرے کو اپنی خوشبو سونگھنے کا موقع دیں گی سب سے پہلے زویا کی سونگھنی تو وہاں زیادہ خوشبو نہیں تھی بلکے پیشاب کی تھوڑی سی خوشبو تھی تو آمنہ بولی کے حرام زادی کبھی اندر سے بھی دھو لیا کر پھر جب آمنہ کی سونگھتی گیی تو وہاں ایک مست خوشبو تھی جسی اسنے وہاں پرفیوم لگایا ہو لیکن یہ اسکی اپنی خوشبو تھی مریم کو تو جیسے یہی موقع چاہیے تھی وہ کافی دیر سونگھتی رہی اور کہا کے یار تیری خوشبو بوہت نشیلی ہے کاش یہ سگرٹ ہوتی تو کش ہی لگا لیتی. پھر زویا اور آمنہ دونوں گھٹنے کے بل بیٹھ گی تا کے میمو کی پھدی سونگھ سکیں. جیسے ہی آمنہ نے اپنا موں مریم کی پھدی کے سامنا کیا اور ناک ابھی لگی ہی تھی کے میمو کو پتا نہیں کیا سوجھا کے اسنے اپنے آپ کو تھوڑا آگے بڑھا لیا کے آمنہ کے ہونٹ اور میمو کی پھدی کے ہونٹ آپس میں مل گئے. آمنہ اس ناگہانی آفت کے لیے بلکل تیار نہیں تھی اور جھٹکا کھا کے فورن پیچھے ہٹ گی یہ دیکھ کے زویا کا قہقہ نکل گیا اور بولی میمو تو پوری کنجری ہے. میمو ایسی باتیں سن کے پتا نہیں کیوں گرم ہو جایا کرتی تھی. آمنہ بولی کے یہ روندی ہے اب تم بھی میری پھدی پی اپنے ہونٹ لگاؤ. میمو کو تو جیسے بہانہ چاہیے تھا فورن تیار ہو گیی اور کہا ٹھیک ہے کوئی اعتراض نہیں ہے یہ کہ کر آمنہ نے اپنی پھدی میمو کے موں کے سامنے کی اور مریم نے اس پی کس کر دیا آمنہ کو تو جیسے جھٹکا لگا کیوں کے یہ پہلا موقع تھا کے کسی نے اتنی نازک جگا پے نازک سا کس کیا ہو. آمنہ بولی کے یار مزہ آ گیا زویا تو بھی ٹرائی کر مزہ نہ آیا تو پھر کہنا اور یہ کہ کے آمنہ نے زویا کی پھدی پے کس کیا زویا بولی کے یار واقعی کرنٹ سا لگتا ہے. میمو بولی کے یار ہم ایک دوسرے کی پھدی پی کس نہ کریں؟؟؟ زویا بولی وہ کیسے؟؟

    میمو بولی کے ایسا کرتے ہیں کے ہم تینوں گھوڑی کی طرح بن جاتے ہیں اور ایک گول دائرے کے شکل میں آ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی چاٹتے ہیں کیا خیال ہے؟؟ زویا بولی کے یار آئیڈیا تو اچھا ہے آزماتے ہیں لیکن ایک بات ہے کے کوئی کسی کو نہیں بتاے گا اس بارے میں ٹھیک ہے؟ سب ایگری ہو گئے کیوں کے انہوں نے کسی کو بتا کے کیا کرنا تھا؟ پھر سب گھوڑی بن گی سب سے آگے مریم تھی اور مریم کے پیچھے آمنہ تھی اور آمنہ کے پیچھے زویا تھی اور پلان یہ تھا کے میمو زویا کی پھدی چاٹے گی اور زویا آمنہ کی اور آمنہ میمو کی. پھر سب سے پہلے میمو نے ہمّت کی اور اپنی زبان فل باہر نکال کے زویا کی پھدی کے لیپس پی کس کے چوسنے والے انداز میں بھر کے کس کر دیا یہ حملہ زویا کے لیے نہ قبل برداشت تھا آخر وہ ایک نازک جان تھی اور میمو پھدی کے ہاتھوں مجبور بچی. زویا تھوڑا آگے کی طرف ڈھے گئی اور بولی کمینی جان نکالے گی؟؟ میمو کچھ نہ بولی بلکے دوبارہ اپنی زبان پھدی کے اندر یس طرح دی کے زبان اندر گاتی اور ہونٹ پھدی کے ھونٹوں سے مل گئے لیکن بجایے زبان باہر نکلنے کے میمو نے زبان اندر ہی رکھی اور اسے اور آگے دینے کی تگ دو میں لگ گی. زویا نے بھی یہی حال آمنہ کے ساتھ کیا اور آمنہ مزے میں گھوم گی اور بولی قسم سے ایسا مزہ آج تک نہیں آزمایا یار مزہ آ گیا ہے کیوں کے آمنہ کی پھدی ویسے ہی ٹائٹ تھی اور زویا نے جب زبان اندر دینے کی کوشش کی تو اندر گئی نہیں بلکے کھردری ہونے کی وجہ سے آمنہ کو بوہت زیادہ مزہ آ رہا تھا اور اسی نشے کو جاری رکھنے کے لیے آمنہ نے اپنی دھاوا میمو کی رسیلی پھدی پی کر دیا اور پہلے اسکے ہونٹ چوسے اور پھر بجایے زبان اندر دینے کی اسنے میمو کا دانا اپنے دانتوں میں جکڑ کے اپنی زبان دانے پے پھیرنا شروع کر دی مریم کی سانسیں تیز ہونے لگ پڑی اور بولی پلز یار ایسا ہی کرتے رہو بوہت مزہ آ رہا ہے پھر تینو ایک دوسرے کی پھدی چوستی رہی کے میمو بوہت گرم تھی قدرتی طور پے تو اسکا پانی نکلنا شروع ہو گیا اور سیدھا آمنہ کے ھونٹوں پی لگ گیا اسی وجہ سے آمنا نے اپنا مو پیچھے ہٹایا اور زویا کو دکھایا کیوں کے اسکے سارے ہونٹ منی سے تر تھے سفید سفید نمکین مادے سے. زویا آہنسنے لگ پڑی اور بولی ہاہاہا بوہت مست لگ رہی ہو اور اس سے پہلے کے آمنہ وہ منی صاف کرتی زویا انے آمنہ کے ھونٹوں پے اپنی زبان پھیرتے ہوۓ ساری منی اپنے ھونٹوں پے لگا لی اور پھر اسی ھونٹوں سے آمنہ کو فرنچ کس کر دیا آمنہ کے لیے یہ نیا تجربہ تھا کسی لڑکی کے ہونٹ اپنے مو میں لینے کا. نازک سے ہونٹ اور اوپر سے نمکین منی مزے کو دوبالا کر رہے تھے.

    میمو کہاں پیچھے ہٹنے والی تھی وہ بھی میدان میں آ گیی اور پھر باری باری سب ایک دوسرے کے ہونٹ چوسنے لگ پڑے. ایک عجیب سا ماحول بن گیا تھا جس میں کچھ غلط محسوس نہیں ہو رہا تھا اور نہ ہی شرم کو کوئی سین تھا یہاں بس ایک ہی چیز تھی اور وہ تھی سیکس کی بھوک جو سب سے بڑھ کے تھی. یہ ایک اندیکھی آگ تھی جس میں ان سب کے جسم جل رہے تھے بہک رہے تھے. انھیں نہ ماضی کی فکر تھی نہ حال کی اور نہ آنے والے کل کی بس وہ اسی مزے میں ہی مدہوش تھے اور پورا فائدہ اٹھا رہے تھے یس موقع کا جسی بعد میں کبی نہ ملنا ہو. جب سب تھک گئے تو زویا بولی کے یار مزہ آ گیا میمو تیرا بوہت شکریہ. لیکن یہ سب میمو کو ہی پتا تھا کے سب سے زیادہ اسی کو مزہ آیا تھا کیوں کے اب اسے تنہا اپنی چوت کو سہلانا نہیں پڑنا تھا ابلکے اسنے کامیابی سے اپنی دو بہترین دوستیں اپنی جیسی ہی بنا لی تھی. اب اوہ اکیلی نہیں تھی بلکے تین تھی اور یہی چیز اسے خوش کر رہی تھی.

    پھر سب نے کپڑے پہن لیے اور باہر آ گی تھوڑی دیر بعد انکا بھائی بھی آ گیا اور بریانی بھی لے کے آ گیا پھر سب نے بریانی کھائی اور کچھ دیر گپیں لگاتی رہی اور پھر سونے کی تیاری کرنے لگ پڑی اور روم میں دوبارہ واپس آ گی. مریم نے کہا کے یار ایسا کرتے ہیں کے ہم بنا کپڑوں کی ہی سوتے ہیں ے طرح زیادہ مزہ آے گا کیا خیال ہے؟
    جاری ہے آپ لوگوں کے کمینٹ اور تھنکس کی انتظار رہے گا شکریہ

  2. The Following 13 Users Say Thank You to Sexeria For This Useful Post:

    abba (03-01-2017), abkhan_70 (30-12-2016), aloneboy86 (30-12-2016), asiminf (30-12-2016), darkhorse (30-12-2016), imran imra (31-12-2016), Lovelymale (09-01-2017), MAGAKI (30-12-2016), mbilal_1 (11-01-2017), Minni (01-01-2017), Story-Maker (30-12-2016), Woodman (30-12-2016), zainee (31-12-2016)

  3. #2
    Sexeria's Avatar
    Sexeria is offline VVIP
    Join Date
    Oct 2016
    Location
    Lahore
    Age
    25
    Posts
    235
    Thanks
    315
    Thanked 1,037 Times in 218 Posts
    Time Online
    1 Day 13 Hours 34 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    25 Minutes 23 Seconds
    Rep Power
    486

    Default

    ایسا ہو سکتا تھا بھلا کے میمو کوئی بات کہے اور وہ دونوں اس پے عمل نہ کریں؟ مریم کی شخصیت ہی ایسی تھی کے اگلا بندہ مرعوب ہو جاتا تھا اور یہی حال آمنہ اور زویا کا تھا . میمو جو بھی انھیں کہتی وہ فورن ماں لیتی تھی جسی میمو کوئی پیر ہو اور وہ اسکی چیلیاں. پھر سب کمبل کے نیچے گھس گئیں اور بلکل ننگی تھی. کیوں کے جوانی ابھی عروج پے تھی تو سب کے جسم آگ کی طرح جل رہے تھے. میمو بولی کے یار ایک آئیڈیا ہے کیوں نہ ہم اس طرح سو جایں کے ہمارا رخ ایک دوسرے کے الٹ ہو مطلب میری ٹانگوں کی جگہ آمنہ کا سر ہو اور میرے موں کے سامنے آمنہ کی ٹانگیں ہوں؟؟ زویا راضی ہو گئی اور بولی کے تھوڑی دیر بعد ہم پوزیشن تبدیل کرلیا کریں گے. پھر میمو نے اپنا موں آمنہ کی چوت کے بلکل سامنے کر لی اور یہی کچھ آمنہ نے بھی کیا پہلے تو میمو نے اپنی زبان باہر نکالی ار اوپر سے لے کے نیچے تک آمنہ کے پھدی پہ پھیری اور پھر آمنہ کا دانا دانتوں میں جکڑ کے اس پی ہلکی سی دندی کاٹی تو آمنہ کی سسکاری نکل گی. پھر میمو نے اپنی دونوں انگلیوں سے آمنہ کی چوت کے ہونٹ سائیڈ پے کے اور زبان سخت کر کے چوت کے اندر باہر کرنا شروع کر دی اور تیزی سے زبان آگے پیچھے کرتی رہی اور ایک انگلی سے آمنہ کا دانا مسلتی رہی. آمنہ کا جسم ہچکولے کھا رہا تھا مزے کی شدّت سے اور وہ کنٹرول سے باہر ہو رہی تھی. آمنہ بھی لپک لپک کے میمو کے چوت چاٹی جا رہی تھی لیکن جو انداز مموکا تھا وہ اور کسی کے بس کی بات نہیں تھی. میمو نے کام جاری رکھا اور سپیڈ تیز کر دی آمنہ کی پھدی ہلکا ہلکا پانی چھوڑے جا رہی تھی اور میمو اسکو بھی کھائی جا رہی تھی پھر ایک وقت آیا کے آمنہ چھوٹنے کے قریب تھی اور اسی وجہ سے وہ اپنی پھدی میمو کے مو سے پیچھے ہٹا رہا تھی لیکن میمو شاید بھانپ گی تھی اسی لیے اس نے آمنہ کو اپنے دونوں بازووں سے یس ترہ جکڑ لیا کے آمنہ ہل نہیں سکتی تھی اینڈ میمو کی گرم سانسیں آمنہ کو اپنی پھدی میں جاتی صاف محسوس ہو رہے تھی. آمنہ تڑپ رہی تھی ایک مچھلی کی طرح لیکن میمو نہ رکی اور آنن فانن آمنہ کا جسم اکڑا اور بھال بھال لے اسکی پھدی سے کریم کی طرح کا مادہ نکل آیا جو کے میمو کے سارے موں پے پھیل گیا.

    آمنا بیڈ پے جھٹکے کھا رہی تھی اور گلے سے گھون گھون کی آوازیں نکال رہی تھی جسی پتا نہیں جن نے قابو کر لیا ہو. زویا یہ حالت دیکھ کے ششدر رہ گی اور بولی میمو تو تو کوئی جادوگر ہے یار. آمنہ کا حال دیکھ کیا کر دیا تو نے . کیسے تڑپ رہی ہے. آمنہ کچھ دیر بعد نارمل ہوئی اور بولی کے یار میمو واقعی عجیب سا مزہ تھا ایسا لگ رہا تھا کے جیسے میری روح پھدی کے راستے نکل جائے گی. مریم ہنسنے لگ پڑی بولی کے یہ تو ابھی شروعات ہے یارو آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا.

    یوں ہی کچھ مہینے گزارتے رہے اور لڑکیاں اپنی دھن میں سوار مزے کے گھوڑے پی بیٹھ کے سرپٹ بھاگ رہی تھیں. پھر اسی دوران اویس صاحب اہم وزیر بن گئے اور سیکورٹی کی وجہ سے مریم پے بھی پہرا سخت ہو گیا. اویس صاحب کے ایک سیکورٹی انچارج تھے دائود اعوان صاحب جو کے پاک آرمی میں کیپٹن کی خدمات سر انجام دے چکے تھے انکو مریم کی سیکورٹی کا کام دے دیا گیا. اب جہاں بھی مریم جاتی دائود اسکے ساتھ ہوتا تھا بلکے کبھی کبھی تو دائود کی اجازت کے بغیر تو مریم گھر سے بھی باہر نہ نکل پاتی تھی. میمو کو اس بات کا بوہت دکھ تھا کیوں کے دائود خاصا اکڑا ہوا آدمی تھا اور اسکا گھمبھیر لہجہ اگلے بندے کو اپنے زیر کر لیتا تھا. مریم نے ایک دو دفا بابا سے بھی شکایت کی لیکن انہوں نے اسے ڈانٹ دیا اور کہا کے یہ اسکی حفاظت کے لیے ضروری ہے. پھر اسکول میں ایک دن میمو کو پتا چلا کے زویا کا ایک بواےفرینڈ بن گیا ہے جو کے زویا کو چود بھی چکا ہے. میمو اور آمنہ کو بڑا اشتیاق تھا یہ چدائی کے بڑے میں جاننے کا. میمو بولی کے یار تم دونوں آج رات میرے گھر آ جاؤ نہ اور وہاں ہی رات کو رہ لینا مزہ بھی اے گا اور داستان بھی سنا دینا. وہ دونوں رازی ہو گی اور رات کو مریم کے گھر آ گیی.

    رات جب ساری میمو کے کمرے میں اکھٹی ہوئی تو میمو بولی اچھا بتا نہ کیا ہوا؟؟ زویا بولی کے یار مرے بابا کے دوست کا بیٹا ہے وہ حامد نام ہے اسکا اور اکثر انکے گھر آتا جاتا رہتا ہے. کافی اچھا دوستی تھی ان دونوں میں لیکن ایک دن وہ گھر آیا ایک پارٹی کے سلسلے میں تو زویا کو کہا کے وہ اسے پسند کرتا ہے ایک دوست کی حیثیت سے بڑھ کے اور اس سے ہی شادی کرنا چاہتا ہے. زویا بولی کے یہ سن کے وہ شرما گیی اور بولی کے مجھے نہیں پتا اس سب کے بارے میں. پھر اسی ترہ کچھ مہینے ملاقاتیں چلتی رہی تو ایک دن گھر پی کوئی نہیں تھا تو میںنے اسے گھر بلا لیا تا کے رات بھر باتیں کریں. پھر حامد گھر آہ گیا اور کچھ دیر باتیں کرتے رہے کے اچانک حامد نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور اسکو چوم لیا اور کہا کے ایسا حسین ہاتھ کبھی نہیں دیکھا. زویا نے ہاتھ پیچھے کھینچا شرما کے لیکن حامد نے نہیں چھوڑا اور بولا کے یار کل کو جب مرے ساتھ ایک ہی بستر پر سویا کرو گی اتنے پاس کے سانسوں سے سانسیں مل جایا کریں گی اور بدن کی خوشبو اتنی قریب محسوس ہو گی کے جذبات کی شدّت سے پگھل جاؤ گی تو کیا تب بھی شرماؤ گی؟؟؟ زویا بولی کے تب کی تب دیکھی جائے گی. حامد کسی اور رو میں ہی تھا اسنے اپنی مضبوط بانہوں میں زویا کا نازک وجود سمو لیا اور اپنے ھونٹوں کو زویا کے ھونٹوں کے اتنے قریب کر لیا ایک اسکی سانسیں ھونٹوں پے محسوس ہو رہی تھی.زویا نے پہلے تو چھڑانا چاہا لیکن اسکے محبّت کے حصار میں پگھل رہی تھی بہک رہی تھی . اب حامد کا ہاتھ اسکے سینے کی گہرایئوں کو ماپ رہا تھا زویا قطرہ قطرہ پگھل رہی تھی لیکن پتا نہیں کیوں میمو کو یہ سن کے عجیب سا سرور آ رہا تھا جیسے حامد زویا کو نہیں بلکے میمو کے بدن کو اپنی بانہوں ہی بستی میں بسا رہا تھا . پھر حامد نے اپنے نازک ھونٹوں سے جب زویا کے سینے کے ابھار چھویے تو جیسے اسکے نازک وجود نی انگڑاییاں لے لیں اور جذبات اب ھونٹوں کا سہارا لے کے اظہار کر رہے تھے پھر حامد نے اپنا لوڑا بیر نکالا اور زویا کا ہاتھ اس گرم تپتے اکڑے ہوۓ لن پی رکھ دیا پہلے تو زویا تھوڑا شرمایی لیکن پھر گیلی پھدی کا خیال سب کچھ بھلا گیا اور اسنے اپنے ہاتھ میں پکڑ کے اسے سہلانا سٹارٹ کر دیا ابھی کچھ ہونا ہی تھا کے زویا کا گھر کوئی کھڑکا ہوا تو زویا ڈر گی اور حامد کو بھگا دیا لیکن بعد میں اسکو احساس ہوا کے وہ صرف بلی تھی لیکن اب کیا ہو سکتا تھا . زویا واقعہ سنا کے چپ ہو چکی تھی لیکن مریم کے دماغ میں یہ چیز نقش ہو چکی تھی کے کے ایک لڑکے کا ساتھ بوہت ضروری ہے.

    ٹائم گزرتا رہا لیکن مریم کی چوت کی بھوک نہ مٹ سکی. وہ مسل مسل کے ٹھک چکی تھی انگلی دے دے کے ہار چکی تھی لیکن اسے اندازہ ہو چکا تھا کے اسکی پھدی کے تپتے ریگستان کو صرف مردانہ پانی ہی سیراب کر سکتا ہے بس. لیکن ایک مسلہ تھا کے وہ ایک لڑکا آتا کہاں سے؟؟؟
    اسکے ابو نے اسکے اوپر ایک جلاد نما باڈی گارڈ کو مسلط کر دیا تھا. دائود کی آنکھوں کا کڑا پہرا ہر وقت میمو پی رہتا تھا. اویس صاحب نے سختی سے دائود کو کہا ہوا تھا کے میمو کو کچھ نہیں ہونا چاہیے چاہی اسکی حفاظت کے لیے زمین آسمان ایک کرنا پڑے. میمو جہاں بھی جاتی تھی دائود اسکے ساتھ ہی ہوتا تھا جسکا میمو کو بوہت غصّہ تھا کیوں کے وہ کھل کے لائف کا مزہ نہیں لے سکتی تھی. زویا نو جب مریم نے بتایا تو زویا نے دور سے دائود کو دیکھتے ہوۓ کہا کے یار تو بھی پاگل ہی ہے دائود کو دیکھ کیا چوڑا سینہ ہے اور کیا قد کاٹھ ہے اتنا بھرپور مرد مجھے ملا ہوتا تو میں مزہ گھر میں ہی لیتی رہتی. مریم کی سمجھ میں کچھ نہ ایا تو زویا بولی پاگل دائود پے دورے ڈال اسکا فائدہ ہو گا کے دائود تیرے جال میں پھنس جائے گا پھر اپنی مرضی سے جہاں چاہو چلی جانا اور گھر کی بات گھر میں ہی رہ جائے گی کیا سمجھی؟؟

    مریم کو بات سمجھ آ گی تھی لیکن دائود کی شکل دیکھ کے ہی مریم کا پسینہ نکل جاتا تھا وہ بات کیسے کرتی؟ آخر حل سوجھ ہی گیا اسکو. ایک دن مریم نے آمنہ کے گھر پارٹی میں جانا تھا لیکن دائود نہیں ماں رہا تھا کیوں کے سیکورٹی کا خدشہ تھا آخر مریم نے ترکیب سوچی اور دوپٹا گلے سے تھوڑا سا نیچا کیا کے مموں کی لکیر نظر آ رہی تھی اور نیچے سے ہاتھ ڈال کے مموں کو تھوڑا اونچا کیا اور پھر دائود کے پاس جا کے تھوڑی نیچے کو جھکی اور اسکو اوپر سے مموں کا نظارہ دیتے ہوی سائیڈ پی موں کر کے بولی کے اسکی ایک ہی اچھی دوست ہے سو اسے ہر حال میں جانا ہے وہ دیکھنے بغیر بھی بتا سکتی تھی کے دائود کی نظروں کہاں کہاں بھٹک رہی ہیں. دائود ماں گیا اور گاڑی نکال کے لے آیا . گاڑی میں پچھلی سیٹ پی بیٹھی میمو کا مزے سے کچھ اور ہی حال ہوا تھا اسکو مردوں کو للچا کے ایک عجیب سی مسرت ملتی تھی. گاڑی میں بھی جان کے وہ آگے کو جھک کو بیٹھ گی لیکن بظاھر اپنے ہاتھ کی لکیروں کو دیکھ رہی تھی دائود بیک مرر سے اسکے مموں کو تار رہا تھا اچانک میمو نے اوپر دیکھا تو کچھ لمحوں کے لیے دونوں کی ناظرین ملی اور دائود گڑبڑا گیا. میمو دل ہی دل میں خوش ہو رہی تھی اپنی کامیابی پے. اب مریم کو جب بھی کوئی بات منوانا ہوتی تو مموں کا نظارہ پیش کرنا ایک عام سی بات تھی.

    16 سال کی کڑک جوانی اور اسپے ابھرتے حسین ممے بھلا کسی انسان کی بھی جان نکال سکتے تھے دائود کیا چیز تھا؟ پھر ٹائم گزرتا گیا اور دائود مریم کے مموں کا قیدی بنتا گیا. پھر مریم کا داخلہ ایک میڈیکل کالج میں ہو گیا. اب سہی معنوں میں زندگی کا مزہ آنا تھا کیوں کے کھلی فضا میں سانس لینا آسان تھا. یہاں طرح طرح کے لڑکے اور لڑکیاں تھی اور ماحول بوہت کھلا تھا یہاں کا ہر طرف لڑکے لڑکیاں کبھی کونوں کھدروں میں تو کبھی درختوں کے نیچے بیٹھے باتیں کر رہے ہوتے لیکن میمو کی چوت کی دنیا ابھی بھی ویران ہی تھی کوئی لڑکا ابھی اس سے بول نہیں پاتا تھا اور وہ خود بھی کافی شرمیلی واقع ہوئی تھی . پھر کافی دونوں بعد ایک لڑکا عثمان ڈار اس کے پاس آیا پریکٹیکل کی کلاس میں اور اس سے پریکٹیکل کے بارے میں پوچھنے لگ گیا میمو پہلے تو تھوڑا ڈری ڈری رہی لیکن عثمان بوہت بیبا لڑکا تھا اور میمو کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا لیکن میمو یہاں لڑکا پالنے تھوڑا نہ آیی تھی ارے وہ تو اپنی ویران پھددی کے اوپر لگے جالے صاف کروانے کے موڈ میں تھی اور اسنے عثمان کو بھی اپنے مموں کے جلوے دکھا کے اپنا زیر کر لیا تھا. عثمان لگتا بوہت ہی ترس ہوا آدمی تھا کیوں کے موں کھول کے اسکے ممے تاڑتا رہتا جب بھی اسے موقع ملتا. اتنی گندی اور ترسی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکھتا تھا کے میمو کی پھدی بنا ہاتھ لگے ہی پانی چھوڑ جاتی تھی. وہ اب جلد از جلد عثمان کا لن کھانا چاہتی تھی لیکن مسلہ یہ تھا کے کالج سے باہر وہ عثمان کے ساتھ نہیں جا سکتی تھی کیوں کے دائود کا پہرا ہوتا تھا اور کالج کے اندر وہ کرنا نہیں چاہتی تھی کیوں کے بہرحال اسے اپنی عزت کا بھی خیال تھا پھر ایک ہی حل تھا کے پریکٹیکل کی کلاس میں ہی کچھ ہو پاتا.

    میمو نے تھوڑا سا اشارہ کیا عثمان کا اور عثمان کےدوسری طرف سامنے کھڑی ہو گی وہ جان بوجھ کے مینڈک کو دیکھنے کے لیے ٹیبل پی بازو رکھ کے اس طرح جھکتی کےمموں کے آخر کی لکیر بھی عثمان کا لن کھڑا ہونے کے لیے کافی تھی. میمو جان بوجھ کے کبھی بیگ سے چیز نکلنے کے لیے اپنی گانڈ کو دکھاتی رہی. عثمان بیچارہ کب تک برداشت کرتا؟ میمو پھر عثمان کے پاس جا کے کھڑی ہو گئی اور پوھنچ کو اپنی پنسل نیچے گرا دی اور اٹھا کے اوپر آتے ہوۓ جان بوجھ کے اسکا لوڑا کو ٹچ کر دیا اور بولی سوری. عثمان کی جان ہی نکل گئی یہ محسوس کر کے کے اسکا لوڑا ایک حسینہ نے چھو لیا ہے. اسنے پھر عثمان کے لوڑے کو اپنی 2 انگلیوں سے رگڑا ہلکا سا کے عثمان کو بھی پتا چل جائے عثمان کی سانسیں تیز چل رہی تھی جسکو مریم واضح محسوس کر رہی تھی. اسنے میز پی جوک کے اپنا ایک بازو ٹھوڑی کے نیچے لگایا اور دوسرا ہاتھ ٹانگ کے ساتھ لگا کے بڑے شیطانی انداز میں عثمان کے اوور آل کے اندر ڈال کے اسکا لوڑا اپنی مٹھی میں بند کر دیا عثمان کی آنکھیں باہر کو ابل آی اور اسے ڈر تھا کے کہیں کسی کو شک نہ پر جائے میمو بڑے نارمل انداز میں بظاھر اپنی ٹیچر کی باتیں سن رہی تھی لیکن دماغ میں ایک ہی بات چل رہی تھی کے عثمان کو تیار کرنا ہے چدائی کے لیے اور بڑی حد تک کامیاب بھی ہو رہی تھی اس میں.میمو نے پہلے اسکا لوڑا ٹٹوں کے پاس سے پکڑا پھر آہستہ آہستہ مٹھی بند کر کے اسکو ٹوپی کی طرف لاتی اور ٹوپی پی پوھنچ کے اپنی اوپر والی 2 انگلیوں سے اسکی ٹوپی کو گھومتی کبھی اپنی 2 انگلیوں کو پھدی کی شیپ بنا کے عثمان کی ٹوپی کو اس میں سے گزارتی.وہ اسی ترہ کرتی رہی اور عثمان بار بار اپنی ٹانگیں آگے پیچھے کرتا رہتا اپنی مستی چھپانے کے لیے . میمو پھر 3 منٹ اسی ترہ کرتی رہی تو اسے محسوس ہوا کے عثمان کی پینٹ تھوڑی گیلی ہو رہی ہے شاید مزی نکل رہی ہو جو منی سے پہلے نکلتی ہے یہ جان کے مریم کو خوشی کا ٹھکانا نہ رہا اسنے اب ہمّت بڑھائی اور عثمان کی پینٹ کی زپ کو اپنی انگلیوں سے کھول دیا آہستہ آہستہ اور اسکی زپ میں سے لوڑا باہر نکال کے اپنے گرم گرم نرم ہاتھوں میں لے لیا اور مٹھ مرنے لگ گی اب عثمان کا حوصلہ بھی بڑھ گیا تھا اور اسنے بھی اپنا ایک ہاتھ نیچے کر کے میمو کی پھدی پی رکھ دیا تھا اور اپنی انگلیاں بڑے گدگدی کرنے والے انداز میں اسکی پھدی پی وآر کر رہا تھا اور دانے کو خوب مسل رہا تھا. میمو جذبات کی طیش میں تھی کیوں کے سب لوگوں کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کے سیکس کا مزہ لینا بڑا مزہ دے رہا تھا اور جوش دلا رہا تھا .

  4. The Following 6 Users Say Thank You to Sexeria For This Useful Post:

    abba (03-01-2017), abkhan_70 (30-12-2016), imran imra (16-01-2017), Lovelymale (09-01-2017), Story-Maker (30-12-2016), Woodman (30-12-2016)

  5. #3
    Sexeria's Avatar
    Sexeria is offline VVIP
    Join Date
    Oct 2016
    Location
    Lahore
    Age
    25
    Posts
    235
    Thanks
    315
    Thanked 1,037 Times in 218 Posts
    Time Online
    1 Day 13 Hours 34 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    25 Minutes 23 Seconds
    Rep Power
    486

    Default

    میمو نے اپنا ہاتھ اسکے لوڑے سے آزاد کیا اور عثمان کا ہاتھ پکڑ کے اسکو اپنی شلوار میں ڈال دیا اور پھدی کا راستہ دکھایا (کیوں کے پریکٹیکل کرنے والے بنچ دھنی تک آتے ہیں سو کسی کوشک نہیں پر سکتا تھا کے یہ دونوں کیا گل کھلا رہے ہیں) اب وہ دونوں کھل کے انگل سسٹم چلا رہے تھے میمو نے ہاتھ عثمان کی شلوار سے باہر نکالا اور اسے جمائی روکنے کے بہانے موں کے قریب لائی اور اپنی زبان باہر نکال کے تھوک لگا دی جو کے عثمان سکتے کے عالم میں دیکھ رہا تھا اور واپس تھوک والا ہاتھ عثمان کے لوڑے کے اوپر رکھ کے چکنی تھوک کے ساتھ مٹھ مارنی شروع کر دی . جب بھی میمو اپنے ارے ہاتھ کی مٹھ عثمان کی ٹوپی کے اوپر بھینچ کے تھوڑا تھوڑا پمپ کرتی تو عثمان کی ہلکی سی سسکاری نکل اتی. عثمان کا ہاتھ ساکت ہوچکا تھا اور وہ سر نیچے کر کے مٹھ کا مزہ لے رہا تھا آخر ایک نوجوان لڑکی کے ہاتھوں کی مٹھ کس کو نہیں پسند؟ ایک منٹ ہی گزرا ہو گا کے عثمان کا لوڑا ایک آتش فشاں پہاڑ کی طرح ابل گیا اور دے پچکاری پی پچکاری اور ٹھنڈا پڑ گیا. میمو کے ہاتھ پی کافی منی لگ گی تھی جو اسنے باہر نکال کے اپنے سفید اوور آل سے صاف کر لی. اب 15 منٹ کی بریک تھی اور دوبارہ سٹارٹ ہونا تھا. عثمان میمو سے بولا یار تم نے آج وہ مزہ دے دیا ہے جسکا میں تصوّر بھی نہیں کر سکتا تھا اور اسکا ہاتھ پکڑ کے بولا کے کتنے نرم ہاتھ ہیں نہ تمھارے اور انہیں چوم لیا اور بولا کے تم نے مجھے مزہ دیا اب یہ تمہارا مجھ پی ادھار ہے جو میں تمہیں ضرور واپس کروں گا میمو ہلکا سا مسکرا کے بولی کے انتظار رہے گا تو عثمان بولا کے بس 15 منٹ انتظار کرو اگلے سیشن میں تمہیں تمہارا مزہ ضرور ڈان گا اور بول اکے اگلا سیشن کرسیوں پی بیٹھ کے ہوگا سو میں میز کے نیچے چھپ جاؤں گا اور مزہ ڈان گا میمو سمجھ چکی تھی اس گیم کو اور بولی ٹھیک ہے.

    جب اگلا سیشن سٹارٹ ہوا تو عثمان میز کے نیچے چھپ گیا اور جب میمو بیٹھی اور لیکچر سٹارٹ ہوا تو وہ میمو کی پھدی کے سامنے آ گیا اور جب سب لوگ لیکچر میں مگن ہو گئے تو میمو تھوڑا آگے کو ہو کے بیٹھ گی تا کے شک نہ پڑےاور عثمان نے پھدی کو سونگھنا شروع کر دیا جو میمو کو پانی چھوڑنے پی مجبور کر رہا تھا پھر عثمان نے میمو کی شلوار کو تھوڑا نیچے کیا اور اسکی پھدی پی اپنی زبان پھیر دی میمو کو کرنٹ کا جھٹکا لگا یہ محسوس کر کے اور پھر اسنے اپنا اوور آل دھنی کے اوپر جما کر دیا تا کے عثمان کا سر نہ نظر اے اور عثمان اب اسکے دانے کو اپنی زبان میں لے کے چوس رہا تھ اور اسکی پھدی کے اندر تک اپنی زبان گھسا رہا تھا اور تیز تیز زبان اندر باہر کر رہا تھا اور ساتھ ہی اپنی ایک انگلی بھی پھدی میں کر رہا تھا میمو کفودی مسلسل پانی پانی ہو رہی تھی اور یہ بات عثمان بخوبی جانتا تھا اور محسوس کر رہا تھا میمو کی سانسیں تیز چل رہی تھی اور اس سے لیکچر سنا نہیں جا رہا تھا اور مزے کے جذبات میں گم تھی.پھر تھوڑی دیر ہی گزری ہو گی کے میمو کا جسم اکڑنا شروع ہو گیا اور اسکی پھدی نے منی ریلیز کر دی اور عثمان نے ایک قطرہ بھی نیچے نہ جانے دیا اور ساری کھا گیا. میمو کا سر ہلکا ہلکا محسوس ہو رہا تھا یہ مزہ اسکو جذبات کی بلندیوں تک لے گیا تھ اور ایسا مزہ اسے زویا اور آمنہ سے بھی نہی آیا تھا. پھر کلاس ختم ہو گی تو مریم بھی باہر نکل کے گھر آ گئی. اسی رات میڈیا پے ایک بات چلنا شروع ہو گئی کے اویس ممتاز نے اپنی بیٹی کا داخلہ سفارش پی کروایا ہے اور چے میگوییاں سٹارٹ ہو گئی تو میمو کو میڈیکل کالج اور عثمان دونوں کو چھوڑنا پڑا اور اسنے داخلہ پنجاب یونیورسٹی میں لے لیا. یہاں ماحول کافی الگ تھا میڈیکل کالج سے اور لوگ یہاں کافی پینڈو اور کافی اکڑو سے تھے. میمو کی ایک سہیلی بن گئی صائمہ جو ہر وقت اسکے ساتھ ہوتی تھی اور وہ بھی ایک منسٹر کی ہی بیٹی تھی لیکن ایک مسلہ تھا کے انکی کلاس میں ایک بڑا مغرور جاگیردار کا بیٹا ہاشم بھی پڑھتا تھا جسکو اپنی دولت پی بڑا ناز تھا اور کسی کو کچھ نہیں سمجھتا تھا حتی کے میمو کوبھی اور روز ایک نئی بچی چودنا اسکا معمول تھا اور یہ بات ساری کلاس کو پتا تھی ہاشم چوں کے بوہت امیر بھی تھا اور خوبصورت بھی بلا کا تھا سو بچیاں آسانی سے پھنس جاتی تھی. دائود بھی یونیورسٹی میں ہی رہتا تھا میمو کے اس پاس ہی رہتا تھا اور اسنے میمو کو کہا ہوا تھا کے یہ ہاشم اسے عجیب سا لگتا ہے سو اس سے دور ہی رہے. میمو بھلا کہاں برداشت کرتی تھی کے ہر جگہ دائود کی ہی بات معانی جائے وہ جان بوجھ کے کوشش کرتی کے ہاشم اسکے آسپاس ہی ہو.ایک دن ہاشم نے میمو کو سلام کیا ور کلاس کے بڑے میں پوچھنا شروع کردیا ممیو نے کچھ جواب دے تو اسے محسوس ہوا کے ہاشم اتنا بھی برا نہیں ہے جتنا اسے بنایا ہوا ہے کچھ دن بات چیت چلتی رہی پھر ایک دن ہاشم بولا کے یار اسکی آج سالگرہ کی خوشی میں اسکے گھر ایک پارٹی آہی سو میمو کو بھی کہا کے وہ ضرور اے لیکن میمو نے منا کر دیا تو ہاشم کو طیش سا آگیا کیوں کے آج تک اسنے انکار نہیں سنا تھا کسی سے بھی وہ بولاکے میری زد ہے کے تم آؤ تو میمو بولی مجھے پرواہ نہیں تمہاری تو ہاشم بولا دیکھتا ہوں تم کیسے نہیں جاؤ گی. میمو نے نظر انداز کر دیا .

    شام کو جب کلاس ختم ہو کے میمو جانے لگی تو ہاشم اسکے راستے میں آ گیا اور بولا پلیز آ جاؤ میں کچھ نہیں کہوں گا لیکن میمو نے اسے سائیڈ پی ہونے کا کہا اور بولی ہٹ جاؤ لیکن ہاشم نہ مانا اور بولا جانا تو تمہیں پڑے گا ہی پیار سے ماں جاؤ لیکن میمو نے غصّے سے کہا پیچھے ہٹ اور ہاشم کو غصّہ آ گیا ور اسنے اسکی کلائی کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور بولا کے چال میرے گھر میمو نے غصّے سے اسکے موں پی تھوک دیا ہاشم ایک لمحے کو سکتے میں آ گیا یہ دیکھ کے اور غصّے سے ایک زور دار تمانچہ میمو کے چہرے پی رسید کیا. میمو کے کان بجنا سٹارٹ ہو گئے کیوں کے آج تک اسے کسی نے ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا اسنے ہاشم کو ماں کی گالی دی تو ہاشم کی آنکھوں میں خون اتر ایا اور اسنے اسے دھریک کے لے جانا شروع کر دیا اپنی گاڑی کی ترہ میمو نے اسے ٹھڈے مارے تو ایک اور طمانچہ مارا اور اسکو بالوں سے پکڑ کے اسکا موں اپنے مو کے سامنے لایا اور تھوک جما کرکے اسکا ناک بند کیا اور جسی ہی میمو نے اپنا موں کھولا اسنے تھوک میمو کے موں میں پھینک دی اور ہنسنے لگ گیا اور اسنے میمو کے ہونٹ موں میں لے کے ان پی دندی کاٹ لی ذور سے اور ایک ہاتھ سے اسکے ممے کو اتنی زور سے دبا دیا کے شاید خون ابل کے باہر آ جاتا اور بولا پیار سے ماں جا ورنہ زبردستی کرنا بایئں ہاتھ کا کھیل ہے میرے لیے اور میمو نے پھر اسکے پیٹ میں مکا مارا تو ہاشم نے اسکی کمر نوچ لی اور اپنی ایک انگلی سے اسکی جھوویں کے بال کو کھیچ دیا اور میمو تڑپ اٹھی اور بلبلانے لگ گی ابھی ایک اور طمانچہ مارنے ہی لگا تھا کے کسی نے پیچھے آ کے ایک زور دار مکا ہاشم کے چباڑے پی مارا اور پھر گھونسوں اور لاتوں کی برسات کر دی ہاشم پی یہ دیکھ کے ہاشم کے 2 دوست بھی اے لیکن اس شخص نے ایک نہ چلنے دی اور انکو بھی پیٹ ڈالا میمو نے غور کیا تو وہ شکس دائود تھا میمو کو یکدم تحفظ کا احساس ہوا اور وہ بھاگ کے دائود کی طرف چلی گئی اور دائود نے اسے پکڑ کے بولا کے زیادہ چوٹ تو نہیں لگی نہ؟ اور میمو سینے سے لگ کے رونے لگ گئی تو دائود نے اسے ساتھ لگا کے بچوں کی طرح اسے بہلایا اور اپنے ساتھ لگا کے گاڑی میں بیٹھا دیا اور بولا میںنے کہا تھا نہ کے دور رہنا لیکن تم میری ایک بھی بات نہیں مانتی اور دشمن سمجھتی ہو مجھے پتا نہیں کیوں؟ میمو بولی سوری! کپتان دائود ایک سانحے کو چپ کر گیا اور اسے میمو کے موں سے سوری کا لفظ بوہت اچھا لگا اور پھر اسنے ڈیش بورڈ سے دوائی اٹھائی اور میمو کا چہرہ ہاتھوں میں لے کے آہستہ آہستہ سے اسکے زخموں پر دوائی لگنے لگ گیا میمو کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے کے وہ شخص جسکو سری زندگی برا کہتی رہی آج ووہی شخص اسکی عزت بچانے ایا. گھر پوھنچ کے دائود نے سارا الزام اپنے سر لے لیا جسکو باہر کھڑی میمو سن رہی تھی اور دل میں دائود کا مقام اور بھی بڑھ گیا. دائود اویس صاحب کی دانت کھاتہ رہا اور جب باہر نکلا تو میمو سے سامنا ہو گیا میمو بولا تمہارا بوہت شکریہ جو تم نے الزام میرے سر نہ آنے دیا تو دائود بولا تم مجھے سمجھ ہی نہ سکی اور چلا گیا لیکن اسکی بات بوہت گہری لگی میمو کو اور ساری رات سوچتی رہی دائود کے بارے میں.

    کچھ دنوں بعد صائمہ کا پیغام اے کے کچھ دوستیں جا رہی ہیں مری گھومنے کے لیے تو میمو کو بھی ساتھ چلنے کو کہا میمو کو مری گھومنا بوہت پسند تھا اور ویسے بھی آجکل موسم برف باری کا تھا اور ایسے موسم میں مری جانا ایک عجیب ہی سہانا سپنا تھا میمو کے لیے. میمو نے اویس صاحب سے اجازت مانگی تو انہوں نے منا کر دیا کے آگے ہی اس پی حملہ ہوا ہے اور وہ کوئی اور خطرہ مول نہیں لینا چاہتے لیکن مدیحہ صاحب بولی کے جانے دو نہ ماحول تبدیل ہو گا تو دماغ بھی فرش ہو جائے گا نزواز صاحب رازی نہ تھے تو میمو بولی کے اگر دائود بھی اسکے ساتھ چلا جائے تو پھر تو کوئی مسلہ نہیں ہو گا نہ؟ اویس صاحب رضامند ہو گئے تو میمو خوشی سے انکے گلے لگ گی اور چومتے ہوۓ بولی تھینکو بابا جانی آئی لو یو!! اویس صاحب نے دائود کو بلا کے پوچھا کے کیا وہ رضامند ہے دائود نے میمو کو دیکھا جو اشاروں میں کہ رہی تھی کے ماں جاؤ تو دائود ماں گیا اور میمو نے صائمہ سے پوچھا تو اسنے کہا کے کوئی مسلہ نہی اسکے ساتھ بھی بابا ایک خاندانی نوکر کو بھیج رہے ہیں. مقررہ دن پی وہ دائود کے ساتھ نکل پوری تو راستے میں دائود میں پوچھا کے تمہیں کیسے پتا تھا کے میں ماں جاؤں گا؟ میمو بلی کے بس مجھے یقین تھا کے تم نہ نہیں کرو گے کیوں کے تم نے آج تک نہ نہیں کی دائود ہنس کے بولا کے چلو کسی بات کا تو ادراک ہوا تمہیں. دائود پھر ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگ گیا اور میمو کی بھی دوستی ہو گی دائود کے ساتھ اور راستے میں دونوں اپنی پسند کے گانے سنتے رہے مری پوھنچ کے ہر جگہ برف ہی برف تھی تو صائمہ بولی کے یار مالم جبہ چلتے ہیں وہاں زیادہ مزہ اے گا اور وہ سب مالم جبہ کی طرف نکل پڑے.

    جاری ہے .... آگے دیکھئے کیسے دائود کا جادو میمو پی چڑھ کے بولا اور کیسے دائود نے میمو کی چوت لال کی اور کیسے وہ بھاگ گئےگھر سے اور شادی کی . یہ سب اگلی قسط میں ضرور بتاؤں گا بس آپ لوگوں سے گزارش ہے کے دل کھول کے تھنکس اور اپنی راے دیں شکریہ .

  6. The Following 13 Users Say Thank You to Sexeria For This Useful Post:

    abba (02-01-2017), abkhan_70 (30-12-2016), aloneboy86 (30-12-2016), bigonghi (31-12-2016), imran imra (16-01-2017), landhiusman (30-12-2016), lastzaib (30-12-2016), Lovelymale (09-01-2017), mayach (30-12-2016), raheelanazz (30-12-2016), shanee3001 (03-01-2017), Story-Maker (30-12-2016), Woodman (30-12-2016)

  7. #4
    sanamjan220 is offline Aam log
    Join Date
    Apr 2013
    Posts
    20
    Thanks
    295
    Thanked 20 Times in 9 Posts
    Time Online
    4 Days 8 Hours 14 Minutes 1 Second
    Avg. Time Online
    4 Minutes 31 Seconds
    Rep Power
    7

    Default

    اس کہانی کا مرکزی حیال میری حیال میں مریم نواز کے لو سٹوری سے لیا ہے. کہانی اچیی ہے

  8. The Following 2 Users Say Thank You to sanamjan220 For This Useful Post:

    Sexeria (31-12-2016), teno ki? (31-12-2016)

  9. #5
    Woodman's Avatar
    Woodman is offline Premium Member
    Join Date
    May 2012
    Posts
    403
    Thanks
    986
    Thanked 2,499 Times in 368 Posts
    Time Online
    6 Days 13 Hours 32 Minutes 46 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    293

    Default

    dIDNOT READ BUT AAP KA SHUKIRA K KAHANI LIKHI OR POST KI.

  10. The Following 2 Users Say Thank You to Woodman For This Useful Post:

    piyaamoon (31-12-2016), Sexeria (31-12-2016)

  11. #6
    piyaamoon's Avatar
    piyaamoon is offline Premium Member
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    4,008
    Thanks
    24,288
    Thanked 8,105 Times in 2,646 Posts
    Time Online
    3 Weeks 2 Days 1 Hour 54 Minutes 35 Seconds
    Avg. Time Online
    18 Minutes 4 Seconds
    Rep Power
    436

    Default

    I cant read dear, font theek nahi hain

  12. #7
    alonelife's Avatar
    alonelife is offline Premium Member
    Join Date
    Apr 2014
    Age
    25
    Posts
    75
    Thanks
    72
    Thanked 192 Times in 66 Posts
    Time Online
    5 Days 2 Hours 34 Minutes 23 Seconds
    Avg. Time Online
    7 Minutes 12 Seconds
    Rep Power
    11

    Default

    Quote Originally Posted by sanamjan220 View Post
    اس کہانی کا مرکزی حیال میری حیال میں مریم نواز کے لو سٹوری سے لیا ہے. کہانی اچیی ہے
    TASHNAA LAB​

  13. The Following User Says Thank You to alonelife For This Useful Post:

    Sexeria (31-12-2016)

  14. #8
    teno ki? is offline Premium Member
    Join Date
    Feb 2012
    Posts
    174
    Thanks
    231
    Thanked 261 Times in 140 Posts
    Time Online
    1 Week 1 Day 15 Hours 7 Minutes 40 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 53 Seconds
    Rep Power
    23

    Default

    Quote Originally Posted by sanamjan220 View Post
    اس کہانی کا مرکزی حیال میری حیال میں مریم نواز کے لو سٹوری سے لیا ہے. کہانی اچیی ہے
    حالات و واقعات سے مماثلت محض اتفاق ھے اس میں رائٹر کا کوئ دوش نھیں
    ھاھاھاھاھاھاھ

    بھت زبرست سٹوری ھے
    براہ کرم اپڈیٹ جلدی دیں
    شکریہ

  15. The Following 2 Users Say Thank You to teno ki? For This Useful Post:

    abkhan_70 (01-01-2017), Sexeria (31-12-2016)

  16. #9
    Sexeria's Avatar
    Sexeria is offline VVIP
    Join Date
    Oct 2016
    Location
    Lahore
    Age
    25
    Posts
    235
    Thanks
    315
    Thanked 1,037 Times in 218 Posts
    Time Online
    1 Day 13 Hours 34 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    25 Minutes 23 Seconds
    Rep Power
    486

    Default

    Quote Originally Posted by piyaamoon View Post
    I cant read dear, font theek nahi hain

    Janaab Bilkul theek hai font. Maybe kooi aur wajah hoo. Shukria

  17. The Following User Says Thank You to Sexeria For This Useful Post:

    piyaamoon (01-01-2017)

  18. #10
    Sexeria's Avatar
    Sexeria is offline VVIP
    Join Date
    Oct 2016
    Location
    Lahore
    Age
    25
    Posts
    235
    Thanks
    315
    Thanked 1,037 Times in 218 Posts
    Time Online
    1 Day 13 Hours 34 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    25 Minutes 23 Seconds
    Rep Power
    486

    Default

    Quote Originally Posted by teno ki? View Post
    حالات و واقعات سے مماثلت محض اتفاق ھے اس میں رائٹر کا کوئ دوش نھیں
    ھاھاھاھاھاھاھ

    بھت زبرست سٹوری ھے
    براہ کرم اپڈیٹ جلدی دیں
    شکریہ

    ہاہاہا میری چپ ہی ہے جناب یہ محض ایک کہانی ہے

  19. The Following User Says Thank You to Sexeria For This Useful Post:

    abkhan_70 (01-01-2017)

Page 1 of 3 123 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •