Page 4 of 10 FirstFirst 12345678 ... LastLast
Results 31 to 40 of 99

Thread: شوہر یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

  1. #31
    sameer04's Avatar
    sameer04 is offline Awara hoon
    Join Date
    Apr 2011
    Location
    Karachi
    Posts
    3,179
    Thanks
    29,118
    Thanked 27,428 Times in 3,035 Posts
    Time Online
    1 Week 1 Day 8 Hours 35 Minutes 11 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 33 Seconds
    Rep Power
    1425

    Default

    bohat hot update thi Aashi92.. specially Mrs nawaz ka sex wala scene app ne kamal ka likha hai.... keep it up.

  2. The Following 3 Users Say Thank You to sameer04 For This Useful Post:

    85sexy85 (08-01-2017), Aashi92 (07-01-2017), gemini66 (07-01-2017)

  3. #32
    Aashi92's Avatar
    Aashi92 is offline Premium Member
    Join Date
    Dec 2016
    Location
    USA
    Posts
    119
    Thanks
    119
    Thanked 503 Times in 113 Posts
    Time Online
    1 Day 14 Hours 20 Minutes 37 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Hours 20 Minutes 22 Seconds
    Rep Power
    14

    Default

    صبح شزہ کافی دیر سے اٹھی ۔۔اس کے رگ و پا میں اپنی تک رات کی مستی چھائی ہوئی تھی اور کمبل کے نیچے ننگی ہی لیٹی ہوئی تھی فرحان کا کوئی اتا پتہ نہیں تھا رات بھی وہ کمرے میں نہیں تھا ۔۔اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا اور مسز نواز اندر داخل ہوئیں ۔۔بیڈ پر بیٹھنے ہوئے شزہ کےبالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولیں میری جان طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمہاری ناشتے پر بھی نہیں آئیں ۔۔شزہ نے مسز نواز کی طرف دیکھا تو رات کا منظر اس کی آنکھوں میں گھوم گیا ۔۔۔۔مسز احمد بڑے کیجوئل ڈریس میں تھیں اور کھلے گلے کی شرٹ میں ان کے بڑے بڑے ممے شزہ کو صاف دیکھائی دے رہے تھے ۔۔شزہ نے اپنا سر ان کی گود میں رکھ دیا ۔۔۔مسز احمد بڑے پیار سے اس بالوں کو سہلاتی رہیں پھر بولیں اٹھو گڑیا نہا کر ناشتہ کرلو اور کمبل کو اس سے الگ کر دیا ۔۔۔۔شزہ کا ننگا بدن دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولیں ناٹی گرل لگتا ہے رات فرحان کے ساتھ خوب مزے کیے ہیں۔۔۔شزہ نے اپنا سر ان کی گود میں چھپا لیا ۔۔۔۔مسز نواز اب بڑے پیار سے اس کی گوری ننگی کمر کو سہلا رہی تھیں ۔۔۔شزہ نے سر اٹھاتےہوئے اپنا منہ ان کے بڑے بڑے مموں میں دے دیا ۔۔۔۔مسز نواز نے اسے اپنی بانہوں میں بھر کر اس کا سر اٹھایا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولیں کیا بات ہے گڑیا ماما پر بہت پیار آرہا ہے ۔۔۔شزہ نے ان کے ہونٹوں کو چوم کر سر دوبارہ ان کے مموں میں دے دیا ۔۔۔مسز نواز نے اسے سیدھا لیٹادیا اور اور خود اس کی ٹانگوں کے درمیان میں آکر بیٹھ گئیں انہوں نے اس کی ٹانگوں کو چوڑا کیا اور اس کی چھوٹی سے گلابی نازک چوت کو دیکھنے لگیں جو نواز صاحب کی رات کی چودائی سے پھولی ہوئی دیکھائی دے رہی تھی ۔۔۔وہ شزہ کے حسین و جمیل سراپے کو بڑی محبت سے دیکھ رہی تھیں ۔۔۔انہوں نے مسکرا کر شزہ کی طرف دیکھا اور اس کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے بولیں میری گڑیا اب مکمل عورت بن گئی ہے شزہ شرمانے کی ایکٹنگ کرنے لگی ۔۔۔چلو گڑیا اٹھو نہا لو دیکھو گیارہ بج رہے ہیں ۔۔۔لیکن شزہ پر تو رات کی خماری چھائی ہوئی تھی اس نے اپنے ہونٹ مسز نواز کے ہونٹوں پر پیوست کردئیے اور اپنی ٹانگیں اٹھا کر ان کی کمر کے گرد کس لیں ۔۔۔شزہ کے نرم و نازک گرم ہونٹ مسز احمد کے ہونٹوں سے ٹچ ہوئے تھے لیکن گدگدی ان کو اپنی چوت میں محسوس ہورہی تھی ۔۔انہوں نے بھی شزہ کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کردیا شزہ ان کے بالوں میں ہاتھ ڈالے ان کو اپنے ہونٹوں کی طرف کھینچ رہی تھی ۔۔۔مسز احمد نے اپنے ہونٹوں کو شزہ کے ہونٹوں سے الگ کیا اور اس کے گالوں کو چومتی ہوئی اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا ابھی نہیں میری جان مجھے ایک ارجنٹ میٹنگ کے لیے نکلنا ہے واپسی پر میں نے اپنی گڑیا کو پیار دوں گی ۔۔۔پھر اس کے ہونٹوں کو چومتی ہوئیں اسے نہانے کا کہہ کر چلی گئیں ۔۔۔شزہ نے اٹھ کر شاور لیا اور ناشتہ کمرے میں ہی منگوا لیا ۔۔۔ناشتے کے بعد وہ کمرے سے باہر آگئی دیکھا تو گھر میں کوئی بھی نظر نہیں آرہا تھا اس نے ملازم سے پوچھا تو اس نے کہا کہ سب لوگ باہر گئے ہوئے ہیں ۔۔۔۔شزہ دوبارہ اپنے کمرے میں آکر لیٹ گئی اور ٹی وی دیکھنے لگی ۔۔۔اچانک جیسے کمرے میں آفت آپڑی ہو دروزہ ایک دھماکے سے کھلا اور مائزہ ،مونا اور سیمی چلاتی ہوئیں اندر داخل ہوئیں اور آتے ہی شزہ پر پل پڑیں۔۔۔شزہ کی بچی ابھی تک تم نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا چلو جلدی سےاپنا ٹراؤزر اتارو اور ہمیں بیڈ شیٹ دیکھاؤ ۔۔شزہ نے مسکراتے ہوئے کہا ایک منٹ ایک منٹ زرا سانس تو لے لو پھر اس نے بیڈ کے نیچے سے شیٹ نکالی اور ان کے سامنے کھول کر رکھ دی ۔۔۔سب کی نظریں بے اختیار شیٹ پر پڑیں جو خون اور منی سے اکڑی ہوئی تھی سب سے لبوں سے واؤؤؤ نکلا ۔۔۔سیمی تیزی سے اٹھی اور شیٹ کو سونگھنے لگی اس کی دیکھا دیکھی مائزہ اور مونا بھی شیٹ کو سونگھنے لگیں واؤؤ یار کیا سیکسی مہک ہے تینوں نے بیک وقت کہا تو شزہ ہنسنے لگی اب مونا نے شزہ کو بیڈ پر گرایا اور ایک جھٹکے سے اس کا ٹراؤزر اتار دیا پینٹی اس نے پہنی نہیں تھی تو اس کی پھولی ہوئی چوت دیکھ کر سب کی آنکھیں باہر آگئیں ۔۔۔اف شزہ لگتا ہے فرحان ہر روز تمہاری چوت کی ٹھکائی کر رہا ہے سیمی نے ہنس کر کہا تو سب ہنسنے لگیں ۔۔مائزہ بولی لو بھئی دو فرینڈز نے تو اپنا پرومس خوب نبھایا اب اگلے مہینے مونا کی شادی ہے اور چار ماہ بعد میری امید ہے تب تک ہم دونوں کنواریاں ہی رہیں گئی ۔۔۔تو سیمی نے خشمگین نظروں سے اسے دیکھا اور بولی یاد رکھو تم دونوں میں سے جس نے بھی وعدہ توڑا تو وہ ہمیشہ کے لیے ہماری زندگی سے نکل جائے گا سیمی کو سیریس ہوتا دیکھ کر شزہ بولی کم آن سیمی کول ڈاؤن ہماری دوستی تو سب کے لیے مثال ہے دیکھو اتنے سال ہم نے وعدہ نبھایا اب کیا مونا ایک ماہ اور مائزہ چار ماہ صبر نہیں کر سکتیں ؟ سیمی نے مائزہ سے سوری کیا اور سب دوست پھر ہنسی مذاق کرنے لگیں ۔۔مونا بولی فرینڈز وعدہ صرف شادی تک کا تھا سیمی تم نے اپنے ہبی کے علاوہ کسی اور سے سیکس کیا تو سیمی بولی تمہیں کامی یاد ہے نا اپنا یونیورسٹی فیلو جس نے ۳ سال میرے پیچھے اپنے جوتے گھسا دئیے دو بار اس کے ساتھ سیکس کر چکی ہوں تو شزہ بولی کمینی بہت تیز نکلی تو ۔۔۔سب زور زور سے ہنسنے لگیں سیمی بولی یار بے چارہ میرے پیچھے بہت خوار ہوا تھا تمہیں تو سب پتا ہے اتنا حق تو بنتا تھا اس کا تو سب کی پھر ہنسی چھوٹ گئی ۔۔۔مونا بولی شزہ جی اب آپ بھی اپنے شکار ڈھونڈنا شروع کردیں ۔۔۔۔میں نےاور مائزہ نے تو آل ریڈی اپنی لسٹ بنا لی ہے کیوں مائزہ اس نے مائزہ کو آنکھ مارتے ہوئے کہا تو سب ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگیں ۔۔۔شزہ نے سب کو لنچ تک رکنے کا بہت کہا لیکن ان پہلے ہی کھانا باہر کھانے کا پلان تھا انہوں نے شزہ کو بھی ساتھ آنے کا کہا لیکن شزہ نے معذرت کر لی ۔۔۔ملازم نے دروازے پہ آکر اسے آواز دی کہ صاحب گھر آگئے ہیں اور آپ کو لنچ کےلیے بلا رہے ہیں ۔۔شزہ ڈائنگ ہال میں پہنچی تو نواز صاحب اسے دیکھ کر مسکرائے شزہ ان بھی مسکراتے ہوئے ان کےساتھ بیٹھ گئی انہوں نے بتایا کہ ان کے ویزے اور ٹکٹس اگلے ہفتے تک اوکے ہوجائیں گی شزہ یہ سن کر بہت ایکسائٹڈ ہوگئی لنچ ختم کرکے نواز صاحب اسٹڈی روم کی طرف چلے گئے اور شزہ بھی ان کے پیچھے جانے لگی اسٹڈی روم میں پہنچ کر نواز صاحب اپنی چئیر پر بیٹھ گئے اور شزہ ان کی گود میں بیٹھ گئی ۔۔۔شزہ کی نرم گانڈ کا لمس پاتے ہی ان کا لن سر اٹھانےلگا ۔۔۔شزہ بڑی شرارتی نظروں سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی اور اپنی گانڈ گول گول ان کے لن پر گھما رہی تھی ۔۔۔۔شزہ نیچے اتری اورنواز صاحب کا گاؤن کھول دیا انڈوئیر نیچے کر کرکے ان کا ہاف اکڑا ہوا لن اپنے منہ لے کر اسے فل کھڑا کرنے لگی ۔۔۔شزہ کے نرم ہونٹ گرم زبان اس کے گرم تھوک نے نواز صاحب کے لن میں جیسے جان ڈال دی ہو اور وہ مستی میں تن کر شزہ کے حلق تک پہنچ گیا ۔۔۔نواز صاحب کرسی سے ٹیک لگائے مزے کی وادیوں کی سیر کرنے میں مصروف تھے ۔۔۔اسی اثنا میں ان کے موبائل فون کی بیل بجی انہوں نےنمبر دیکھا اور پھر شزہ کی طرف مسکراتی ہوئی نظروں سے دیکھا جو ان کی طرف دیکھتے ہوئے لن چوسنے میں مصروف تھی ۔۔۔نواز صاحب نے فون رسیو کرکے کہا ہاں بھئی رفیع کیسے یاد کر لیا آج ۔۔۔شزہ نے جیسے ہی اپنے پاپا کا نام سنا تو اس کی آنکھوں میں شرارت ناچنے لگی ۔۔۔نواز صاحب اس کے پاپا کو کہہ رہے تھے بھئی تمہاری بیٹی تو یہاں مزے کررہی ہے اور ساتھ ہی شزہ کو آنکھ ماری ۔۔۔شزہ نے لن چوسنے کی رفتار اور بڑھا دی ۔۔۔لو بھئی بات کرلو گڑیا سے انہوں نے مسکراتے ہوئے فون شزہ کی طرف بڑھا دیا ۔۔۔شزہ نے لن منہ سے نکالا اسے ہاتھ میں پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے فون پر اپنے پاپا سے باتیں کرنے لگی اور ساتھ ہی ساتھ اپنے ہاتھ سے نواز صاحب کے لن پر سٹروک لگائے جارہی تھی ۔۔۔جی پاپا میں میں بہت خوش ہوں ہم سوئیٹزر لینڈ جا رہے ہیں ہنی مون کے لیے نواز پاپا بھی ساتھ جا رہے ہیں شزہ نے نواز صاحب کو آنکھ مارتے ہوئے کہا ۔۔۔نواز صاحب اٹھے اور شزہ کا ٹراؤز ایک جھٹکے سے اتار دیا پھر اس کی شرٹ اتار کر اسے پورا ننگا کر دیا اور اسے اپنی گود میں بیٹھا لیا ۔۔۔شزہ اب اپنی ماما سے بات کررہی تھی ۔۔۔جی ماما بہت مزہ آرہا ہے یہاں اس نے اپنی نرم گانڈ نواز صاحب کے تنے ہوئے لن پر مسلتے ہوئے کہا ۔۔۔۔نواز صاحب کےلبوں سے مزے کی ایک سسکاری نکلی ۔۔۔پھرکچھ دیرباتیں کرنے کے بعد فون بند کردیا ۔۔۔شزہ دوبارہ نواز صاحب کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گئی اور ان کا لن منہ میں لے کر چوسنےلگی پھر اٹھ کر لن کو اپنی چوت پر سیٹ کیا اور اس پر بیٹھنے لگی لن کی ٹوپی شزہ کی ٹائٹ چوت میں پھنس گئی شزہ نے تھوڑا اور دباؤ ڈالا تو ۳ انچ تک لن شزہ کی چوت میں چلا گیا ۔۔۔شزہ نے مزے کی ایک آہ بھری ۔۔اس نے تھوڑا دباؤ اور ڈالا لیکن شزہ کی ٹائٹ چوت میں نواز صاحب کے موٹے لن نے مزید اندرجانے سے وقتی طور پر انکار کر دیا ۔۔۔شزہ نےلن باہر نکالا اور اپنے منہ میں لے کر اسے اچھی طرح گیلا کرنے لگی اس نے ایک بار پھر لن کو اپنی چوت پر سیٹ کیا اور دباؤ بڑھاتی ہوئی اس بار لن کو آدھا اپنی چوت میں لے جانے میں کامیاب ہوگئی شزہ اپنی گانڈ ہلا ہلا کر چوت میں پھنسے آدھے لن پر ہی آگے پیچھے ہونے لگی اس کے لبوں سے مستی بھری آوازیں نکل رہی تھیں ۔۔۔۔جوان گرم ٹائٹ چوت میں پھنسا ہوا نواز صاحب کا لن ان کو لذت کی انوکھی دنیا کی سیر کروارہا ہے ۔۔۔یہ ان کی شزہ کے ساتھ چوتھی چدائی تھی لیکن ہر بار انہیں شزہ کی چوت پہلے سےبھی زیادہ گرم اور ٹائٹ محسوس ہوتی ۔۔۔۔شزہ نے اپنے ناخن نواز صاحب کے سینے میں گاڑ دئیے اس کے ہونٹوں سے سسکاریوں کا یک نہ رکنے والا سلسلہ جاری تھا وہ فارغ ہونے کے قریب تھی اور ایک اہ اہ آؤچ کی آوازیں نکالتی ہوئی شزہ جھڑنے لگی نواز صاحب کے لن کو جیسے ہی شزہ کی چوت کا رس محسوس ہوا وہ ایک جھٹکا لے کر شزہ کی چوت میں جڑ تک اتر گیا ۔۔۔۔لن کی سواری کا شزہ کا یہ پہلا موقع تھا اس نے پہلی بار اپنی چوت میں نواز صاحب کے طاقتور لن کی پوری طاقت محسوس کی اس نے نیچے جھک کر دیکھا ان کا موٹا لمبا لن اس کی نازک سی چوت میں غائب ہوچکا تھا شزہ ناقابل یقین انداز سے دیکھے جا رہی تھی پھر اس نے اپنی گانڈ اوپر اٹھائی تو اس کے اوپر ہوتے ہی لن بھی ظاہر ہونے لگا وہ اور اوپر ہوگئی یہاں تک کہ صرف لن کی کیپ اس کی چوت میں رہ گئی پھر نیچے ہونا شروع ہوئی اور لن پھر سے ان کی نازک چوت میں غائب ہونے گا ۔۔۔وہ مبہوت ہو کر اس منظر کو دیکھ رہی تھی اور یہ اتنا سیکسی منظر تھا کہ اس کی چوت بے اختیار پانی چھوڑنے لگی شزہ کے لبوں سے سسکاریاں تیز ہونے لگیں اور وہ پوری رفتار سے لن کو اپنی چوت کی گہرائیوں میں اتارنے لگی ۔۔۔۔شزہ مسلسل اوپر نیچے ہونے سے کافی تھکن محسوس کررہی تھی اس نے اپنا سر نواز صاحب کے سینے پر رکھ دیا ۔۔۔اب نواز صاحب نے نیچے سے دھکے لگا رہے تھے شزہ کی گرم ٹائٹ چوت کی گرمی نے جیسے ان کے لن میں کرنٹ دوڑا دیا تھا ان کی رفتار تیز ہوتی جارہی تھی شزہ اپنے دانتوں سے ان کے نپل کاٹنے لگی اور ایک بار پھر جھڑ رہی تھی نواز صاحب نے شزہ کی ملائم گانڈ کو اپنے ہاتھوں میں تھاما اور جھٹکوں کی رفتار کو اور تیز کر دیا ۔۔۔نواز صاحب بھی منزل کے قریب تھے انہوں نے شزہ کے نرم ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لیے اور اس کی گانڈ کو زور سے دباتے ہوئے ایک جھٹکا دیا اور لن سیدھا شزہ کی بچہ دانی سے جا ٹکرایا اور منی کا سیلاب شزہ کی چوت میں رواں ہوگیا وہ مسلسل شزہ کے ہونٹوں کو چوستے جا رہے تھے اور اس کی گانڈ پر ان کی گرفت اور سخت ہوتی جا رہی تھی اور ان کا لن جھٹکے پہ جھٹکا کھا رہا تھا ۔۔۔دو گرم جسموں کی گرمی آپس میں مل کر آتش فشاں بن گئی تھی ایک جوان حسین و جمیل سیکس کے طوفان سے بھرپور بدن دوسرا میچوربدن سیکس کا سمندر اپنے اندر سموئے ہوئے ۔۔۔۔دونوں جسم سیکس کی گرمی سے شرابور ہو رہے تھے ۔۔۔نواز صاحب کا لن ابھی تک شزہ کی چوت میں تھا اور شزہ آنکھیں بند کئے ان کے سینے سےچمٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔نواز صاحب بڑی محبت سے اس کے بالوں کو سہلا رہے تھے ۔۔۔۔دونوں کا دل چاہ رہا تھا کہ وقت یہی پر تھم جائے اور بس وہ اسی طرح ایک دوسرے کے اندر رہتے ہوئے لطف و کیف کی دنیا میں ہمیشہ کے لیے گم ہوجائیں ۔۔۔۔
    شزہ کی ایسے ہی نواز صاحب کے سینے پر سر رکھے ہوئے آنکھ لگ گئی ۔۔۔نواز صاحب اس کے بالوں کو سہلاتے ہوئے کسی سوچ میں گم تھے لن ابھی تک شزہ کی چوت میں تھا ۔۔۔جیسے ہی انہیں محسوس ہوا شزہ سو گئی ہے تو انہوں نے بڑے پیار سے اس کی طرف دیکھا وہ ایک معصوم پری کی طرح دکھ رہی تھی نواز صاحب نے اس کے بالوں کو چوما اور خود بھی کرسی سےٹیک لگا دی ۔۔۔ان کا لن شزہ کی چوت میں آہستہ آہستہ پھر سےسر اٹھا رہا تھا ۔۔۔۔ظاہر ہے اتنی خوبصورت گرم ٹائٹ چوت کے اندر کب تک صبر کرتا ۔۔۔دو ہی منٹ میں ان کا لن شزہ کی گرم چوت کی گرمی پا کر ایک بار پھر ناگ کی طرح پھنکار رہا تھا ۔۔۔نواز صاحب بہت آہستگی سے دھکے لگا رہے تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ شزہ کی نیند خراب ہو ۔۔۔ایک بار شزہ تھوڑا سا کسمائی تو نواز صاحب رک گئے ۔۔۔لن اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ شزہ کی چوت کی گہرائیوں میں اترا ہوا تھا ۔۔۔نواز صاحب کچھ دیر ایسے ہی شزہ کی گرم نرم ملائم چوت کا اپنے لن کومزہ دیتے رہے ۔۔۔۔شزہ نے رخ بدلا اور اپنا دایاں گال نواز صاحب کے سینے پر رکھ دیا وہ گہری نیند میں تھی ۔۔۔۔نواز صاحب تھوڑا سا جھکے اور اس کے بائیں گال کو پیار سے چوم لیا ۔۔۔نواز صاحب کا لن شزہ کی چوت میں پھنکار رہا تھا انہوں نے آہستگی سے دوبارہ دھکے لگانا شروع کیے لیکن لن کی ڈیمانڈ بڑھتی ہی جارہی تھی وہ اس نرم و نازک چوت کی گہرائیوں میں تیز رفتاری سے اترنے کو بےتاب ہورہا تھا ۔۔۔نواز صاحب نے دھکوں کی رفتار کو بڑھا دیا ۔۔۔۔ان کے لیے اب اپنے لن کو کنٹرول کرنا بے حد مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔۔انہوں نے آہستگی سے شزہ کی ملائم گانڈ کو تھاما اور پورا لن شزہ کی چوت میں اتار کر رک گئے ۔۔۔انہوں نے ایک نظر شزہ کی طرف دیکھا جو نیند کی گہری وادیوں میں گم ہوچکی تھی ۔۔۔نواز صاحب نے لن کو تھوڑا باہر نکالا پھر ایک ہلکے جھٹکے سے شزہ کی چوت کی گہرائیوں میں اتار دیا ۔۔۔ان کی رفتار بڑھتی جارہی تھی اور ساتھ ہی ان کو شزہ کا جسم کانپتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔نواز صاحب نے لن اس کی چوت کی گہرائی میں لے جا کر رکھ دیا ۔۔۔شزہ نے نیند میں اپنی مٹھیاں بھینچیں اور اسی وقت اس کی چوت نے پانی چھوڑ دیا ۔۔۔۔گرم گرم پانی کی پھوار محسوس ہوتے ہی نواز صاحب کا لن آپے سے باہر ہوگیا ۔۔۔اس کے جھٹکوں میں تیزی آگئی ۔۔۔شزہ نیند میں ہی نواز صاحب کے لن کے تیز جھٹکوں سے جھول رہی تھی ۔۔۔۔نواز صاحب کی بھی منزل زیادہ دور نہیں تھی ایک کے بعد دوسرا تیزدھکا پھر جیسے تیز دھکوں کی مشین چل پڑی ۔۔۔پچک پچک کی آوازیں اس قدر بلند تھیں کہ نواز صاحب کو لگا کہ شزہ یہ آوازیں سن کر جاگ ہی نہ جائے ۔۔۔۔نواز صاحب نے ایک ہاتھ سے آہستہ سے شزہ کا سر پکڑا اور دوسرے ہاتھ نے اس کی ملائم گانڈ تھام رکھی تھی ۔۔۔ایک ۔۔۔دو ۔۔۔تین ۔۔۔تین زوردار جھٹکوں کے بعد نواز صاحب کا شزہ کی چوت میں منی کی بارش برسانے لگا ۔۔۔۔نواز صاحب کی گرفت نے شزہ کو گرنے نہیں دیا ۔۔۔۔ان کا لن شزہ کی چوت میں منی چھوڑتے ہوئے جھٹکے کھا رہا تھا اور نواز صاحب اس شہوت کا بھرپور مزہ لیتے ہوئے آنکھیں بند کیے شزہ کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہے تھے ۔۔۔جیسے ہی لن کو اپنی منزل مل گئی وہ شانت ہوکر شزہ کی چوت سےداد وصول کرنےلگا ۔۔۔۔۔شزہ کی چوت سے ان کی محبت کا رس نکل کر نواز صاحب کے بالز کو سیراب کرتے ہوئے چئیر سے ہوتا ہے کارپٹ پر گر رہا تھا ۔ ۔۔۔نواز صاحب کا لن اب بھی شزہ کی چوت میں تھا اور وہ اس کے بالوں میں انگلیاں دئیے اس کو سہلا رہے تھے شزہ نے نیند میں اپنی ٹانگیں سیدھی کرنے کی کوشش کی تو اس کی آنکھ کھل گئی اس نے چونک کر نواز صاحب کی طرف دیکھا تو وہ اسے دیکھ کر مسکرا رہے تھے ۔۔۔اوہ میں سو گئی تھی ؟ آپ نے مجھے جگایا کیوں نہیں ؟ شزہ نے بھی مسکراتے ہوئے نواز صاحب سے پوچھا تو انہوں نے اس کے گال چومتے ہوئے کہا میری پیاری سی پری آرام کر رہی تھی میں کیسے اسے ڈسٹرب کرتا ۔۔۔پھر شزہ کو اپنی چوت میں ان کا لن محسوس ہوا تو بولی اور یہ بھی میری چوت میں سورہا تھا تو نواز صاحب ہنس کر بولےیہ سویا ہی کب تھا ۔۔۔شزہ نے لن اپنی چوت سے نکالا تو وہ ان دونوں کے رس سے بھرا ہوا تھا ۔۔۔اسے دیکھ کر شزا بولی دیکھیں تو کتنا گندہ ہو رہا ہے اور یہ کہہ کر اس نے لن اپنی نرم و ملائم اور گرم زبان سے چاٹنا شروع کر دیا ۔۔۔لن چاٹ کر اس نے نواز صاحب کے بالز بھی چاٹ چاٹ کر صاف کردئیے اور لن دوبارہ منہ میں لے لیا ۔۔۔نرم گرم زبان کی گرمی پاتے ہی نواز صاحب کے لن نے پھر تیاری پکڑنی شروع کر دی ۔۔۔لیکن اسی دوران مسز نواز کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا تو نواز صاحب نےشزہ کے منہ سے آہستہ سے لن باہر نکال لیا جو اپنے پورے جوبن پر کھڑا لہرا رہا تھا ۔۔۔ پھر انہوں نے شزہ کو کپڑے پہنائے اور خود بھی گاؤن پہن لیا پھر شزہ کے ہونٹوں کو چوم کر بیڈروم کی طرف بڑھ گئے جبکہ شزہ دوسرے دروازے سے لیونگ روم میں آکر صوفے پر لیٹ گئی ۔۔۔

  4. The Following 15 Users Say Thank You to Aashi92 For This Useful Post:

    85sexy85 (08-01-2017), abba (09-01-2017), abkhan_70 (08-01-2017), farhan9090 (07-01-2017), imranmeo (08-01-2017), Khushi25 (09-01-2017), Leonard (07-01-2017), Lovelymale (09-01-2017), mayach (09-01-2017), mbilal_1 (Today), piyaamoon (07-01-2017), sameer04 (07-01-2017), sexeymoon (09-01-2017), shamshadx (07-01-2017), Woodman (07-01-2017)

  5. #33
    Woodman's Avatar
    Woodman is offline Premium Member
    Join Date
    May 2012
    Posts
    403
    Thanks
    980
    Thanked 2,499 Times in 368 Posts
    Time Online
    6 Days 12 Hours 13 Minutes 31 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 28 Seconds
    Rep Power
    293

    Default

    sex sa y bharpoor story keep cumming.

  6. The Following 2 Users Say Thank You to Woodman For This Useful Post:

    85sexy85 (08-01-2017), Aashi92 (08-01-2017)

  7. #34
    midas1975 is offline Aam log
    Join Date
    Dec 2016
    Location
    italy
    Posts
    3
    Thanks
    5
    Thanked 10 Times in 3 Posts
    Time Online
    1 Day 5 Hours 47 Minutes 22 Seconds
    Avg. Time Online
    49 Minutes
    Rep Power
    0

    Default

    انتہائی خوبصورت اور سیکسی کہانی ہے پڑهتے ہوئے لن کو کنٹرول کرنا ناممکن ہو جاتا ہے.ایسے ہی ہیجانی اور سنسنی خیز کہانی لکهتی رہی.

  8. The Following 3 Users Say Thank You to midas1975 For This Useful Post:

    85sexy85 (08-01-2017), Aashi92 (08-01-2017), rajudandy (09-01-2017)

  9. #35
    Aashi92's Avatar
    Aashi92 is offline Premium Member
    Join Date
    Dec 2016
    Location
    USA
    Posts
    119
    Thanks
    119
    Thanked 503 Times in 113 Posts
    Time Online
    1 Day 14 Hours 20 Minutes 37 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Hours 20 Minutes 22 Seconds
    Rep Power
    14

    Default

    [QUOTE=Woodman;546613]sex sa y bharpoor story keep cumming.[/QUOTE

    Thank You Woodman

  10. The Following User Says Thank You to Aashi92 For This Useful Post:

    85sexy85 (08-01-2017)

  11. #36
    Aashi92's Avatar
    Aashi92 is offline Premium Member
    Join Date
    Dec 2016
    Location
    USA
    Posts
    119
    Thanks
    119
    Thanked 503 Times in 113 Posts
    Time Online
    1 Day 14 Hours 20 Minutes 37 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Hours 20 Minutes 22 Seconds
    Rep Power
    14

    Default

    Quote Originally Posted by midas1975 View Post
    انتہائی خوبصورت اور سیکسی کہانی ہے پڑهتے ہوئے لن کو کنٹرول کرنا ناممکن ہو جاتا ہے.ایسے ہی ہیجانی اور سنسنی خیز کہانی لکهتی رہی.
    Kahani Pasand Karnay k Liye bohat thanks

  12. The Following 2 Users Say Thank You to Aashi92 For This Useful Post:

    85sexy85 (08-01-2017), midas1975 (08-01-2017)

  13. #37
    85sexy85's Avatar
    85sexy85 is offline Crazy Man Utd Fan
    Join Date
    May 2012
    Posts
    538
    Thanks
    2,684
    Thanked 1,675 Times in 488 Posts
    Time Online
    4 Days 16 Hours 27 Minutes 30 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 58 Seconds
    Rep Power
    166

    Default

    Finally I Can Read It Now . Sheeza Is A Clever Girl When She Finds That Her Hubby Is Impotent She Got Her Father In Law And Now She Is Enjoying The Sex Of Her Life. I Am Sure We Will See More Family Members Involvement And Ultimately It Will Be A SEX FAMILY At The End. I Loved The Part When Mr. Nawaz Fucks His Wife In The Ass And Then When Mrs. Nawaz Was Sleeping And Mr. Nawaz Was Fucking Sheeza It Was Too Hot. Thanks For This Hot Story And For Entertaining Us.
    If U Stand For A Reason,Be Prepared To Stand Alone Like A Tree.
    If U Fall On The Ground,Fall As A Seed That Grows Back To Fight Again.

  14. The Following 2 Users Say Thank You to 85sexy85 For This Useful Post:

    Aashi92 (08-01-2017), Mehboob.shah (08-01-2017)

  15. #38
    Mehboob.shah is offline Aam log
    Join Date
    Dec 2015
    Age
    21
    Posts
    10
    Thanks
    1
    Thanked 9 Times in 7 Posts
    Time Online
    5 Hours 12 Minutes 8 Seconds
    Avg. Time Online
    48 Seconds
    Rep Power
    4

    Default

    Very nice keep it up

  16. #39
    Aashi92's Avatar
    Aashi92 is offline Premium Member
    Join Date
    Dec 2016
    Location
    USA
    Posts
    119
    Thanks
    119
    Thanked 503 Times in 113 Posts
    Time Online
    1 Day 14 Hours 20 Minutes 37 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Hours 20 Minutes 22 Seconds
    Rep Power
    14

    Default

    Quote Originally Posted by 85sexy85 View Post
    Finally I Can Read It Now . Sheeza Is A Clever Girl When She Finds That Her Hubby Is Impotent She Got Her Father In Law And Now She Is Enjoying The Sex Of Her Life. I Am Sure We Will See More Family Members Involvement And Ultimately It Will Be A SEX FAMILY At The End. I Loved The Part When Mr. Nawaz Fucks His Wife In The Ass And Then When Mrs. Nawaz Was Sleeping And Mr. Nawaz Was Fucking Sheeza It Was Too Hot. Thanks For This Hot Story And For Entertaining Us.
    i am glad you were able to read my story ...and thank you very much for your kind words ....well surely its going to be a long story ...i hope members wont get bored if you do guys kindly let me know . ...thanxxx

  17. The Following 2 Users Say Thank You to Aashi92 For This Useful Post:

    85sexy85 (09-01-2017), abba (09-01-2017)

  18. #40
    Aashi92's Avatar
    Aashi92 is offline Premium Member
    Join Date
    Dec 2016
    Location
    USA
    Posts
    119
    Thanks
    119
    Thanked 503 Times in 113 Posts
    Time Online
    1 Day 14 Hours 20 Minutes 37 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Hours 20 Minutes 22 Seconds
    Rep Power
    14

    Default

    اتنے میں مسز نواز لیونگ روم میں داخل ہوئیں اور شزہ کو لیٹا دیکھ کر اس کی طرف چلی آئیں اس کے ہونٹوں کو چوم کر بولیں میں فریش ہو کر آتی ہوں شزہ بھی اپنے کمرے میں چلی گئی اور شاور لینے لگی اس کی چوت میں نواز صاحب کی منی بھری ہوئی تھی اس نے اچھی طرح چوت صاف کی اور اپنے آپ کو ٹاول میں لپیٹے لیونگ روم میں آکر لیٹ گئی ۔۔۔مسز نواز اپنے کمرے میں داخل ہوئیں تو نواز صاحب کو بیڈ پر لیٹے ہوئے پایا وہ ان کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھ کر واش روم میں چلی گئیں شاور لینے کے بعد وہ ٹراؤزر اور ٹی شرٹ پہنے باہر آگئیں ۔۔۔۔نواز صاحب کو نیند میں کھویا ہوا پاکر کمرے سے نکل کر انہوں نے دروازہ بند کیا اور لیونگ روم میں آگئیں ۔۔۔شزہ ٹاول لپیٹے صوفے پر لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔مسز نواز نے ایک جھٹکے سے اس کا ٹاول اتارا اور اسے بے تحاشہ چومنے لگیں ۔۔۔۔شزہ بھی ان کے گال ہونٹ اورآنکھیں چوم رہی تھی ۔۔۔۔شزہ کے ہاتھ ان کے ٹراؤزر میں گھسے ہوئے تھے مسز نواز نے اس کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کھڑی ہوئیں اور اپنا ٹراؤزر اور شرٹ اتار کر ننگی ہوگئیں ۔۔۔۔انہوں نے شزہ کو صوفے پر ٹیک لگایا کر بیٹھا دیا اور خود اس کی ٹانگیں کھول کر ان کے درمیان بیٹھ گئیں ۔۔۔۔ان کی زبان نے جیسے ہی شزہ کی چوت کو ٹچ کیا شزہ نے ایک سسکاری لیتے ہوئے ان کا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ پر اپنی چوت میں دبا دیا ۔۔۔۔۔مسز نواز کی زبان شزہ کی نرم ملائم اور نازک چوت کو چاٹنے میں مصروف تھی ۔۔۔شزہ نے سسکاریاں لیتے ہوئے اپنی ٹانگیں ہوا میں اٹھا دیں ۔۔۔مسز نواز نے اس کی ٹانگوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور ساتھ ہی اس کی نازک چوت کا چھوٹا سا دانہ اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگیں ۔۔۔۔شزہ کی سسکاریاں تیز ہونے لگیں ۔۔۔اور جسم جھٹکے کھانے لگا تھوڑی ہی دیر میں اس کی چوت نے پانی چھوڑ دیا ۔۔۔۔مسز نواز بڑے مزے سے اس کی چوت سے منہ لگا کر اس کا جوس پی رہی تھیں اور چُس ۔۔چُس ۔۔چُس ۔۔۔کی آوازیں لیونگ روم کے ماحول کو انتہائی سیکسی بنا رہی تھیں ۔۔۔شزہ کی چوت سے اس کے جوس کے کچھ قطرے پھسل کر اس کی نازک سی گانڈ کے چھوٹے سے سوراخ کو بھگو رہے تھے ۔۔۔مسز نواز نے چوت سے ہٹا کر اپنے لب اس کی گانڈ کے سوراخ سے لگا دئیے اور اس کی گانڈ کے سوراخ کو اس طرح چوسنے لگیں کہ شزہ مزے سے تڑپنے لگی ۔۔۔مسز نواز کے لب سیٹی کی شکل میں شزہ کی نازک گانڈ سے لگے ہوئے تھے وہ بھی لبوں سے اس کی گانڈ کے سوراخ سے چوستی پھر زبان نکال کر اس پر پھیرنے لگتیں ۔۔۔شزہ کے لبوں سے بے اختیار آہ ۔۔۔اففف۔۔۔آؤچ ۔۔۔کی بے ترتیب آہیں نکل رہیں تھیں ۔۔۔بلاشبہ مسز نواز کے انداز سے صاف پتا چل رہاتھا کہ وہ لزبین سیکس میں بلا کی ماہر ہیں ۔۔۔انہو ں نے شزہ کی ٹانگیں نیچے اتاریں اور اس کو ڈوگی سٹائل میں کر دیا انہو ں نے شزہ کی نرم گانڈ پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے اس کی گانڈ کی دونوں نرم پھاڑیوں کو آپس میں ملا دیا اور ان کی درمیان والی لکیر پر پر اپنی زبان پھیرنے لگیں پھر اس کی گانڈ کی پھاڑیوں کو الگ کرتیں اور دوبارہ اس میں اپنی زبان پھیرنے لگتیں جو سیدھی شزہ کی گانڈ کے سوراخ میں جا کر پھنس جاتی ۔۔۔۔شزہ مزے کی شدت سے پاگل ہورہی تھی ۔۔۔لزبین سیکس کے انداز اس کے لیے بالکل نیا تھا ۔۔۔مسز نواز نے اپنے سر کو شزہ کی چوت کے نیچے لے جاتے ہوئے گھما یا اور صوفے کے کنارے پر ٹکاتے ہوئے شزہ کی ٹانگیں سیدھی کر دیں اب شزہ کی چوت مسز نواز کے منہ پر تھی اور اس کی ٹانگیں سیدھی ہو کر مسز نواز مموں کو چھو رہی تھیں ۔۔۔مسز نواز کی زبان شزہ کی نازک چوت میں تھی اور ان ایک ہاتھ شزہ کی گانڈ پر اور دوسرے ہاتھ کی انگلی اس کی گانڈ کے سوراخ کا مساج کر رہی تھی ۔۔۔۔شزہ مستی کے عالم میں اپنی ٹانگیں مسز نواز کے بڑے بڑے مموں پر رگڑ رہی تھی ۔۔۔۔شزہ کی چوت سے پانی نکل کر سیدھا مسز نواز کے منہ میں جا رہا تھا ۔۔۔شزہ ایک بار پھر فارغ ہوچکی تھی ۔۔۔مسز نواز نے منہ کھول کر شزہ کی نازک چوت کواپنے منہ میں بھرلیا اور اس کو چوسنے لگیں ۔۔۔شزہ مستی اور مزے سے اپنا سر صوفے پر پٹخ رہی تھی اور مٹھیاں صوفے کے کشن میں دھنسی ہوئی تھیں ۔۔۔مسز نواز نے اب شزہ کو سیدھا لیٹایا اس کی ایک ٹانگ اٹھائی اپنی ایک ٹانگ صوفے پر رکھی اور ایکس کی شیپ میں آگئیں اب انکی چوت شزہ کی چوت کو رگڑ رہی تھی جیسے ہی مسزنواز کی چوت کا نسبتاً بڑا دانہ شزہ کی چوت کے چھوٹے سے دانے کو مسلتا تو شزہ مزے سے تھرا کر رہ جاتی اب مسز نواز کے لبوں سے بھی سسکاریاں نکل رہی تھیں ۔۔۔شزہ کی چوت کی گرمی محسوس کرتے ہی ان کی چوت گیلی ہوچکی تھی ۔۔۔شزہ کی چوت پہلے ہی پانی پانی ہوچکی تھی اب دونوں گیلی چوتوں کی رگڑ سے کچ کچ کچ کی آوازیں نکل رہی تھیں ۔۔۔شزہ کی چوت کو ایک اور زوردار جھٹکا لگا اور اس کی چوت پھر فارغ ہوگئی ۔۔۔مسز نواز اپنی چوت کو اور تیزی سے شزہ کی جوس سے شرابور چوت پر تیزی سے مسل رہی تھیں اور ایک تیز آہ کے ساتھ ان کی چوت نے بھی پانی چھوڑ دیا وہ نڈھال ہوکر شزہ کے اوپر گریں اور اس کے ہونٹوں کو دیوانگی سے بے تحاشہ چومنےلگیں ۔۔شزہ بھی ان کے گلے میں بانہیں ڈالے ان کو بھرپور جواب دے رہی تھی ۔۔۔۔مسز نواز صوفے پر سیدھی ہو کر بیٹھ گئیں اور شزہ کو اپنی گود میں بٹھا لیا ۔۔۔شزہ نے اپنا چہرہ ان کےبڑے بڑے مموں میں چھپاتے ہوئے ان کا ایک پستان اپنے منہ میں لے کر بچوں کی طرح چوسنے لگی ۔۔۔۔مسز نواز کے نپلز بھی کافی بڑے تھے ۔۔۔شزہ کو بچوں کی طرح ان کے نپلز چوستے دیکھ کر مسز نواز کو اس پر بے حد پیار آرہا تھا ۔۔۔اپنا ایک بازو اس کے گر د حمائل کرتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے اس کے بالوں میں بڑے پیار سے انگلیاں پھیر رہی تھیں ۔۔۔شزہ کبھی ایک ممے کے نپلز چوستی پھر دوسرے پر آجاتی ۔۔۔مسز نواز کے لبوں سے اب مستی بھری سسکاریاں نکل رہی تھیں ۔۔۔شزہ ان کے نپلز پر اپنی زبان پھیرتی پھر ان کو منہ میں لے کر زور سے چوسنے لگتی ۔۔۔شزہ کی گرم جوانی ۔۔۔اوپر سے سیکس کی گرمی ۔۔۔اس پر شزہ کا حسین و جمیل نرم ملائم بدن ان کی گود میں ۔۔۔اس کی گرم زبان ان کے مموں پر ۔۔۔۔مسز نواز مستی کی لہروں پر اپنے آپ کو تیرتا ہوا محسوس کر رہی تھیں ۔۔۔شزہ ان کی گود سے اتری اور ان کو ڈوگی سٹائل میں کرکے خود ان کے پیچھے آگئی ۔۔۔مسز نواز کی گانڈ کے تصور سے بھی زیادہ سیکسی تھی ۔۔۔۔رات کو اس نے اندھیرے میں اسے صرف محسوس کیا تھا اب دن کے اجالے میں دیکھ رہی تھی ۔۔۔نرم ملائم موٹی بالکل روئی جیسی گانڈ جسے دیکھ کر لوگ ایسے ہی آہیں نہیں بھرتے تھے اگر وہ اسے اس حالت میں دیکھ لیں تو شاید ان کے لن اس کے حُسن کی چمک سے ہی مرجھا جائیں ۔۔۔شزہ کی رات کی جو حسرت پوری نہ ہوسکی تھی اب پوری آب و تاب کے ساتھ اس کے سامنے تھی اس نے مسز نواز کی موٹی گانڈ کو چومنا شروع کر دیا اور اپنے نرم ہاتھ جیسے ہی ان کی گانڈ پر رکھتی تو گانڈ کی پھاڑیاں اس طرح ہلتیں جیسے سمندر میں لہریں ۔۔۔۔شزہ نے اپنی زبان ان کی گانڈ کی لکیر میں ڈال دی مسز نواز کی گانڈ کا سوراخ کافی ڈیپ تھا شزہ کی زبان جیسے ہی اس سے ٹکرائی تو مسز نواز کی لبوں سے ایک مستی اور سیکس سے بھرپور سسکاری نکلی ۔۔۔۔مسز نواز کی گانڈ کا سوراخ بہت گرم تھا اور شزہ کی زبان کو اس کی تپش محسوس ہورہی تھی ۔۔۔مسز نواز نے اپنی گانڈ اور باہر کی طرف نکال لی اب شزہ بڑے سیکسی انداز سے ان کی گانڈ چاٹ رہی تھی وہ تھوک کا گولا بنا کر اس کو ان کی گانڈ کے سوراخ میں پھینکتی پھر اپنی زبان سے اسے چاٹ لیتی مسز نواز کی گانڈ مستی سے ہل ہل کر شزہ کی زبان پر گھوم رہی تھی ۔۔۔شزہ تھوڑا نیچے ہوئی اپنی زبان مسز نواز کی چوت پر پھیرنے لگی ۔۔۔۔مسز نواز کے لبوں سے اففففف۔۔۔۔اہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔اوووو۔۔۔۔کی لطف بھری آوازیں نکلنے لگیں ۔۔۔شزہ نے بھی اپنا سر صوفے سے ٹکایا اور اپنا چہر ہ ان کی چوت کے نیچے لے جاکر ان کی چوت کا موٹا سا دانہ اپنے منہ میں لے لیا ۔۔۔۔مسز نواز مستی سے اپنی چوت شزہ کے منہ پر دبانے لگیں ۔۔۔۔شزہ نے اپنا ایک ہاتھ ان کی گانڈ پر رکھتے ہوئے اپنے دوسرے ہاتھ کی انگلی ان کی گانڈ میں ڈال دی جو باآسانی ان کی گانڈ میں اتر گئی ۔۔۔۔شزہ جیسے ہی مسز نواز کی چوت کا دانہ اپنے منہ میں لے کر چوستی مسز نواز اپنی گانڈ کے سوراخ کو زور سے بھینچ لیتیں ۔۔۔۔شزہ کو اپنی پہلی چدائی یاد آگئی جب نواز صاحب نے یہی طریقہ اس کے ساتھ اپنایا تھا ۔۔۔شزہ اپنی پہلی چدائی کا سوچ کر بہت زیادہ گرم ہوگئی اور مسز نواز کی چوت کو زور زور سے چومنے چاٹنے لگی اور ان کی چوت کے دانے پر ہلکا سے کاٹ بھی لیتی ۔۔۔مسز نواز کو اپنا سارا خون اپنی چوت میں جمع ہوتا محسوس ہوا اور زوردار جھٹکے سے ان کی چوت نے شزہ کے سارے چہرے پر پانی کی بارش کر دی ۔۔۔۔مسز نواز کا جسم مسلسل جھٹکے کھا رہا تھا اور ان کی چوت سے پانی نکل نکل کر شزہ کے منہ اس کے چہرے اس کے مموں پر گر رہا تھا ۔۔۔شزہ جتنا جوس پی سکتی تھی اس نے پی لیا شزہ کے نازک لب مسز نواز کی بڑی اور کھلی چوت کا مقابلہ نہیں کرپائے اور ان کی چوت کا رس اس کی گردن سے ہوتا ہوا اس کے ممے بھگونے لگا ۔۔۔۔مسز نواز نڈھال ہو کر صوفے پر پیٹ کے بل گر گئیں شزہ ان کے اوپر لیٹ کر اپنے ممے ان کی کمر اور چوت ان کی روئی جیسی نرم موٹی گانڈ پر رگڑنے لگی ۔۔۔ساتھ ساتھ مسز نواز کے گال بھی چومے جا رہی تھی ۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد مسز نواز اٹھیں شزہ کو اپنی گود میں بیٹھا کر اس کے ہونٹوں پر لگا ان کی چوت کا رس پینے لگیں اور اپنی زبان نکال کر شزہ کے منہ میں دے دی شزہ بڑے مزے سے ان کی زبان چوس رہی تھی ۔۔۔۔پھر مسز نواز نے جھکتے ہوئے شزہ کے گول مٹول مموں کو چومنا چاٹنا شروع کر دیا ۔۔۔۔شزہ کے مموں پر گرا ہوا ان کی چوت کا جوس انہوں نے چاٹ چاٹ کر صاف کردیا اور اپنی زبان پھرشزہ کے منہ میں دے دی جسے شزہ دوبارہ مزے لے لے کر چوسنے لگی ۔۔۔۔مسز احمد نے شزہ کو صوفے پر لٹایا اور اس کے اوپر آتے ہوئے اس کے ہونٹ چوم کر بولیں کیوں گڑیا مزہ آیا ؟ تو شزہ نے اپنی بانہیں ان کے گلے میں ڈالتے ہوئے ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی بہت بہت مزہ آیا ماما یو آر سو لولی ۔۔۔۔مسز نواز نے ہنس کر اس کے ہونٹ چومے اور بولیں چلو میری جان اب اٹھ کر نہا لیتے ہیں ۔۔۔انہوں نے اپنا ٹراؤزر شرٹ اور شزہ کا ٹاؤل ہاتھ میں پکڑا اور شزہ کو ساتھ لیے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چلی گئیں ۔۔۔نواز صاحب گہری نیند سور ہے تھے دونوں نے مسکرا کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور واش روم میں جا کر شاور لینے لگیں ۔۔۔شاور لینے کے بعد شزہ ٹاؤل لپیٹے اپنے کمرے میں آگئی جبکہ مسز نواز کپڑے پہن کر لیونگ روم میں آکر ٹی وی آن کرکے صوفے پر لیٹ گئیں ۔۔۔
    اگلے دن شزہ کی مام پاپا بھائی اور بھابھی آگئے گھر میں جیسے رونق سی لگ گئی ۔۔۔سب لوگ لیونگ روم میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے نواز صاحب اور شزہ کے پاپا کسی بات پر قہقے لگا رہے تھے ۔۔۔فرحان بھی بہت خوش دیکھائی دے رہا تھا اس کے ساتھ اس کا دوست ارسلان بھی تھا ارسلان فرحان کا ہی ہم عمر چوبیس پچیس سال کا بہت ہینڈسم نوجوان تھا ۔۔۔ارسلان کی فیملی اور شزہ کے ماما پاپا بھی بہت اچھی طرح جانتے تھے ۔۔۔سب نے مل کر لنچ کیا اور پھر شام کو شزہ اپنی ماما پاپا کے ساتھ گھر آگئی رفیع صاحب چاہتے تھے کہ ہنی مون جانے سے پہلے شزہ کچھ دن ان کے پاس رہ لے جانے سے پہلے شزہ موقع پا کر نواز صاحب کو ان کے اسٹڈی روم میں لے گئی اور ان کے سینے پر سر رکھ کر اداس لہجے میں بولی آئی ول مس یو سو مچ جان ۔۔۔نواز صاحب نے اس کا سر اٹھایا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے انہوں نے اس کی آنکھیں چوم کر کہا میری گڑیا دیکھو چار دن ہی کی تو بات ہے پھر ہم سوئٹزر لینڈ میں ہونگے اور وہاں خوب مزے کریں گے یہ سن کر شزہ دیوانہ وار ان کے ہونٹوں کو چومنے لگی نواز صاحب نے اسے گود میں اٹھایا اور دیوار کے ساتھ لگا کر اس کا پورا ساتھ دینے لگے ۔۔۔۔
    جہاز کچھ ہی دیر میں ٹیک آف کرنے والا تھا فلائٹ کی پہلی منزل استنبول ائیرپورٹ تھی جہاں چار گھنٹے کے لے اوور کے بعد فلائٹ نے سوئٹززلینڈ کے شہر جنیوا میں لینڈ کرنا تھا ۔۔۔۔شزہ،نوازصاحب ،ارسلان اور فرحان جہاز کی بزنس کلاس میں اپنی سیٹوں پر بیٹھے ہوئے تھے شزہ نواز صاحب کے ساتھ والی سیٹ پر تھی جبکہ ان کی آگے والی سیٹ پر فرحان اور ارسلان تھے ۔۔۔شزہ نے جینز اور ہائی نک شرٹ پہنی ہوئی تھی ہلکے میک اپ اور جیولری میں شزہ کا حُسن قیامت ڈھا رہا تھا ۔۔۔نواز صاحب تھری پیس سوٹ پہنے ہوئے تھے ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں فلائٹ کیپٹن نے جہاز ٹیک آف ہونے کی اناؤنسمنٹ کی اور سب اپنے سیٹ بیلٹس باندھنے لگے ۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں جہاز فضاؤں میں گم ہوچکا تھا ۔۔۔۔شزہ نے سامنے سکرین پر ایک مووی پلے کی اور اپنا سر نواز صاحب کے بازو پر رکھ کر مووی دیکھنے لگی ۔۔۔نواز صاحب نے مسکرا کر شزہ کی طرف دیکھا اور خود بھی مووی دیکھنے لگے ۔۔۔تین گھنٹے کی پرواز کے بعد جہاز استنبول ائیر پورٹ پر لینڈ ہوگیا اور جنیوا جانے والے مسافر اپنی فلائٹ کے متعلقہ ٹرمینل کی طرف چلے گئے ۔۔۔ائیر پورٹ پر کافی رش تھا ۔۔۔نوازصاحب بھی باقی سب کو لے کر ٹرمینل پر پہنچ گئے اور ویٹنگ روم میں آرام کرنے لگے ۔۔۔فرحان اور ارسلان ائیر پورٹ پر گھومنے لگے ۔۔۔نواز صاحب نے شزہ سے پوچھا کہ اسے بھوک تو نہیں لگی تو ا س نے کہا کہ وہ صرف کافی پئے گی نواز صاحب نے کافی اور اسنیکس وغیرہ کا آرڈر دیا کافی پینے کے دونوں بھی ٹرمینل پر چہل قدمی کرنے لگے ۔۔۔شزہ نے نواز صاحب کا ہاتھ تھام رکھا تھا ۔۔۔اسی طرح چار گھنٹے گزر گئے اور فلائٹ کا وقت ہوگیا ۔۔۔بورڈنگ وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد سب اپنی سیٹوں پر جا کر بیٹھ گئے ۔۔یہ ایک طویل فلائٹ تھی ۔۔۔فلائٹ ٹیک آف ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی ائر ہوسٹسز کھانا سرو کرنے لگیں ۔۔۔کھانا کھانے کے بعد شزہ دوبارہ نواز صاحب کے بازو پر سر رکھ کر لیٹ گئی ۔۔۔نواز صاحب نے اس کی سیٹ کو تھوڑا سا پیچھے کر دیا جس سے وہ آرام دہ پوزیشن میں آگئی ۔۔۔نواز صاحب نے ایک میگزین اٹھایا اور اسے پڑھنے میں مصروف ہوگئے ۔۔۔رات کافی ہوچکی تھی جہاز کی لائٹس آف کر دی گئیں تاکہ مسافر آرام سے سو سکیں ۔۔۔شزہ نواز صاحب کے بازو کے ساتھ لگی ان کی شرٹ کے بٹنوں سے کھیلنے میں مصروف تھی نواز صاحب نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا انہوں نے ائر لائن کی طرف سے دئیے گئے کمبل ایک خوداپنی ٹانگوں سے لیے کر سینے تک اوڑھ لیا اور دوسرا شزہ کو اوڑھا دیا ۔۔پھر انہوں نے اپنا ایک بازو اس کے گرد پھیلا دیا ۔۔۔۔شزہ کا ہاتھ ان کی شرٹ سے پھسلتا ہوا ان کی ٹانگوں کے درمیان آکر رک گیا ۔۔۔نواز صاحب نے نے بھی اپنا بازو اس کے سر سے ہٹایا اور ان کا ہاتھ بھی رینگتا ہوا شزہ کی چوت پہ آکر رک گیا ۔۔۔نواز صاحب نے ہاتھ بڑھا کر سیٹ کے عین اوپر جلتا ہوا نائٹ بلب آف کردیا اب ان کی سیٹ مکمل اندھیرے میں تھی ۔۔۔اگلی سیٹ پر بیٹھے فرحان اور ارسلان پہلے ہی اپنا بلب آف کر چکے تھے اور تقریباً ساری بزنس کلاس سونے میں مصروف تھی ۔۔۔۔شزہ نے آہستگی سے نواز صاحب کی پیٹ کی زپ کھولی اور ان کے سوئے ہوئے لن کو انڈوئیر کی سائیڈ سے باہر نکال لیا ۔۔۔نواز صاحب نے بھی شزہ کی جینز کا بٹن کھول دیا شزہ نے اپنی گانڈ اٹھاتےہوئے اپنی جینز کو ٹانگوں تک اتار دیا ۔۔۔اب نواز صاحب کا ہاتھ آزادی سے اس کی پینٹی کے اوپر سے اس کی نرم چوت کا مساج کر رہا تھا ۔۔۔شزہ کے نرم وملائم ہاتھ کا لمس پاتے ہی نواز صاحب کا لن بھی بیدار ہونے لگا تھا ۔۔۔۔شزہ نے اپنی پینٹی بھی نیچے کر دی ۔۔۔۔اب نواز صاحب کی انگلیاں شزہ کی چوت سے کھیل رہی تھیں اور شزہ کا ہاتھ نواز صاحب کے لن سے جو اب اپنی پوری اٹھان کے ساتھ بمشکل شزہ کی نازک مٹھی میں سمانے کی کوشش کررہا تھا ۔۔۔۔شزہ نے نواز صاحب کے کمبل سے ان کا چہرہ ڈھک دیا اور خود بھی اپنا چہرہ ان کے کمبل میں چھپا دیا ۔۔۔۔ہونٹوں سے ہونٹ ٹکرائے اور ٹانگوں کے درمیان دونوں کے ہاتھ رفتار پکڑنے لگے ۔۔۔نواز صاحب شزہ کے نرم ہونٹ چوس رہے تھے انہوں نے اپنی زبان شزہ کے منہ میں دے دی جسے شزہ نے تھوڑی دیر چوسا پھر اپنی زبان ان کے منہ میں ڈال دی جسے نواز صاحب امرت سمجھ کر چوسنے لگے ۔۔۔شزہ کی چوت پوری طرح گیلی ہوچکی تھی نواز صاحب نے ایک انگلی اس کی چوت میں داخل کی اور انگوٹھے سے اس کی چوت کے دانے کا مساج کرنے لگے ۔۔۔۔شرہ کی گرفت ان کے لن پر سخت ہوئی وہ اور تیزی سے ان کا لن اوپر نیچے کرنےلگی ۔۔۔۔نواز صاحب نے شزہ کی چوت سے انگلی نکالی اور اس کے منہ میں دے دی ۔۔۔۔شزہ نے مزے سے اپنی چوت کا جوس چوسنا شروع کردیا ۔۔۔نواز صاحب نے جب دیکھا ان کی انگلی شزہ کے تھوک سے اچھی طرح تر ہوچکی ہے تو انہوں نے اسے شزہ کے منہ سے نکال کر دوبارہ چوت میں ڈال دیا ۔۔۔۔شزہ نے نواز صاحب کے لن سے ہاتھ اٹھایا اور اپنی انگلیاں نواز صاحب کے منہ میں دے دیں انہوں نے شزہ کی انگلیاں اپنے تھوک سے اچھی طرح گیلی کر دیں شزہ نے نیچے ہاتھ لے جا کر لن دوبارہ پکڑ لیا ۔۔۔۔شزہ کی لبوں سے مستی بھری آہ نکلی جسے نواز صاحب نے فوراً اس کے ہونٹ اپنے لبوں میں لے کر روک دیا ۔۔۔اسی دوران نواز صاحب کے کانوں کو کچھ لذت آمیز آوزیں سنائی دیں ۔۔۔انہوں نے اندازہ لگا کر مڑ کر دیکھا تو ان سے دو سیٹیں دور ایک کپل اسی کھیل میں مصروف تھا انہوں نے غور سے دیکھا تو وہ کوئی انگریز جوڑا تھا لڑکی نے لڑکے کا لن منہ میں لیا ہوا تھا انہوں نے کمبل اوڑھنے کا تکلف بھی نہیں کیا تھا ۔۔۔۔نواز صاحب اس منظر کو دیکھ کر اور گرم ہوگئے انہوں نے شزہ کے کان میں سرگوشی کرکے اسی پیچھے دیکھنے کے لیے کہا شزہ کی نظر جیسے ہی اس جوڑے پر پڑی وہ حیران ہوگئی ۔۔۔لڑکی بڑی دلجمعی سے لڑکے کا لن چوس رہی تھی ۔۔۔لڑکا سیٹ سے ٹیک لگائے اس کا پورا مزہ لے رہا تھا ۔۔۔شزہ کافی دیر تک یہ نظارہ دیکھتے رہی تو نواز صاحب نے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑا اور اس کے ہونٹوں پر کس کرنے لگے ۔۔۔شزہ کو یہ منظر آپے سے باہر کرنے کےلیے کافی تھا ۔۔۔اس کی چوت اور گرم ہوگئی نواز صاحب نے دونوں کی سیٹوں کے درمیان لگے ہوئے ہینڈل کو فولڈ کیا تو ن کے درمیان یہ رکاوٹ بھی دور ہوگئی ۔۔۔نواز صاحب نے اپنی ٹانگیں شزہ کی سیٹ کی طرف موڑ دیں اور کھسک کر اس کی سیٹ پر آگئے ۔۔۔شزہ نے اپنی گانڈ اٹھائی اور نواز صاحب کی گود میں بیٹھ گئی ۔۔۔کمبل اوپر لے کر اس نے اپنےسر کا پچھلا حصہ نواز صاحب کے سینے پر رکھ دیا ۔۔۔نواز صاحب کا لن شزہ کی نرم ملائم گانڈ میں دبا ہوا تھا ۔۔۔شزہ اپنی گانڈ کو ان کے لن پر اور زیادہ دبا رہی تھی ۔۔۔۔نواز صاحب کا لن نرم و ملائم گانڈ کی گرمی پاتے ہی اس کے سوراخ کی تلاش میں نکل پڑا ۔۔۔۔شزہ اپنی گانڈ کو ان کے لن پر مسل رہی تھی ۔۔۔نواز صاحب نے اپنے لن کو پکڑا اور شزہ کی گانڈ کو اٹھاتے ہوئے اس کی چوت پر سیٹ کرنےلگے شزہ تھوڑا پیچھے ہوئی اور پچک کی آواز کے ساتھ ہی لن شزہ کی چوت میں اتر گیا ۔۔۔مستی ایک تیز لہر دونوں گرم جسموں میں دوڑ گئی ۔۔۔اس پوزیشن میں پورا لن چوت میں جانا ممکن نہیں تھا اس لیے شزہ آدھے لن کو اپنی چوت میں لیے آگے پیچھے ہونے لگی ۔۔۔نیچے سے نواز صاحب بھی آہستگی کے ساتھ دھکے لگا رہے تھے ۔۔۔شزہ نے پیچھے مڑکر دیکھا تو لڑکی اپنی سیٹ پر سمٹی ہوئی تھی اور لڑکے کا لن اس کی چوت کی چودائی میں مصروف تھا ۔۔۔شزہ کو اس منظر نے اور گرم کر دیا اور وہ تیزی سے لن کو اپنی چوت میں کھینچنے لگی ۔۔۔۔اس کی دہکتی ہوئی چوت مزید گرمی برداشت نہ کرسکی اور انگڑائی نما جھٹکے کے ساتھ اس کی چوت فارغ ہوگئی ۔۔۔نواز صاحب کے دھکوں میں بھی تیزی آگئی لن کو منزل کے قریب آتا محسوس کرکے شزہ نے اپنی چوت کو زور سے بھینچ لیا اور نواز صاحب کا لن جھٹکے لیتا ہوا اپنا پانی اس کی چوت میں چھوڑنے لگا ۔۔۔منی کا ایک سیلاب تھا جو شزہ کی چوت میں بہہ رہا تھا ۔۔۔۔نواز صاحب اب بھی دھکے لگائے جارہے تھے جس نے شزہ کی چوت کو ایک بار پھر فارغ ہونے پر مجبور کر دیا ۔۔۔۔جسموں کی گرمی نکل جانے کے بعد دونوں اپنے آپ کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کررہے تھے ۔۔۔شزہ ان کی گود سے اتر کر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی ۔۔۔نواز صاحب نے سامنے سیٹ کی پاکٹ سے ٹشوز نکالے اور اپنے لن کو صاف کرنے لگے پھر شزہ کی چوت کو اچھی طرح صاف کیا ۔۔۔اپنی پینٹ کی زپ اوپر کر کے اٹھے اور واش روم میں جا کر ٹشوز پھینک دئیے ۔۔۔واپس آکر اپنی سیٹ پر لیٹ گئے شیزہ نے اپنا سر ان کے سینے پر رکھا اور کمبل اوڑھ کر لیٹ گئی ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی ۔۔۔نواز صاحب بھی اس کے بال سہلاتے ہوئے سونے کی تیاری کرنے لگے ۔۔۔انہوں نے ایک نظر پیچھے دیکھا تو وہ جوڑا بھی ایک دوسرے کی بانہوں میں لیٹا سو رہا تھا ۔۔۔نواز صاحب کی آنکھ کھلی تو جہاز میں ہلکا ہلکا اجالا ہونا شروع ہوگیا تھا انہوں نے ٹائم دیکھا تو فلائٹ لینڈ ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا ۔۔۔۔شزہ بے خبر ان کے سینے پر سر رکھے سو رہی تھی ۔۔۔نواز صاحب کو واش روم جانے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔انہوں نے آہستگی سے شزہ کا سر اٹھایا اور اس کی سیٹ سے لگا دیا ۔۔۔خود واش روم چلے گئے فارغ ہونے کے بعد واپس اپنی سیٹ پر آکر لیٹ گئے ۔۔۔ایک گھنٹے بعد جہاز لینڈ ہونے کی اناؤنسمنٹ ہونے لگی ۔۔۔نواز صاحب نے شزہ کو اٹھایا اس نے کمبل کے نیچے سے ہی اپنی پینٹی اور جینز اوپر کی اور واش روم جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی فارغ ہونے کے بعد اس نے سیٹ پر بیٹھ کر بیل بجائی اور ائیر ہوسٹس سے دو جوس منگوا لیئے ۔۔۔کچھ ہی دیر میں جہاز جنیوا ایئر پورٹ پر لینڈ ہورہا تھا اور شزہ کی زندگی کے سب سے خوبصورت سفر کا آغاز بھی ہونے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔







  19. The Following 13 Users Say Thank You to Aashi92 For This Useful Post:

    85sexy85 (08-01-2017), abba (09-01-2017), abkhan_70 (09-01-2017), Aliraza255 (08-01-2017), Khushi25 (09-01-2017), Lovelymale (09-01-2017), mbilal_1 (Today), Mirza09518 (09-01-2017), piyaamoon (09-01-2017), Rana Tanha (08-01-2017), ruldguld123 (09-01-2017), sameer04 (08-01-2017), sexeymoon (09-01-2017)

Page 4 of 10 FirstFirst 12345678 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •