Page 3 of 3 FirstFirst 123
Results 21 to 28 of 28

Thread: ...بھابھی کی مشکل آسان کی مفت میں

  1. #21
    Join Date
    Oct 2016
    Location
    Lahore
    Age
    25
    Posts
    407
    Thanks
    934
    Thanked 1,963 Times in 392 Posts
    Time Online
    3 Days 16 Hours 30 Minutes 37 Seconds
    Avg. Time Online
    44 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    938

    Arrow آخری حصہ

    دوستو آپ لوگوں کے کہنے اور فرمائش پے ایک بوہت لمبی اپ ڈیٹ اور آخری قسط دے دی ہے سو اب میرا کام ختم اور تھنکس اور کومنٹس کی صورت میں آپ کا کام شروع. خوش رہو.
    آخری حصہ

    اسکی اتنی گرم باتیں سن کے میرے ذہن پے بھوت سوار ہو چکا تھا اور میں اپنے آپ میں نہیں تھا اور نہ ہی مجھ سے قابو ہو رہا تھا بھابھی بھی پیچھے مڑ کے مجھے گندی گندی بہکتی اور بہکاتی نظروں سے ہونٹ کو دانتوں میں کچلتے ہوۓ دیکھ رہی تھی میں نے اسکے بالوں کا گچھا اپنی ہاتھوں میں اس طرح بھینچا کے اسکی آنکھیں ابل کے باہر آ گئی اور ایک خوفناک چیخ نکلی لیکن مزے کی بات یہ تھی کے ارم کی جتنی زیادہ چیخیں نکلتی اتنا ہی جنوں مجھ میں بڑھ جاتا اور میں تیز تیز گھسے مارنے لگ گیا اور ساتھ ہی ایک ہاتھ سے لے جا کے اسکے مموں کے نپل کے عین اوپر تھپڑ مارتا اور کبھی اسکی نرم گوشت سے بھرپور چوتڑوں پے تھپڑ مارتا کبھی میں اسکی چوتڑ کو اپنی مٹھی میں اس طرح بھینچتا کے میری انگلیوں کے نشان اسکی گانڈ پے ثبت ہو جاتے اور وہ کراہ اٹھتی میں نے پھر اسکی ٹانگیں آپس میں اس طرح ملا دی کے ھوا کا بھی بیچ میں سے گزرنا مشکل تھا اور اور لوڑا اندر ہی ساکن رکھا ہوا تھا میں نے لوڑا اسکی دھنی تک پوھنچا دیا اور وہاں ہی ساکن ہو کے ایک ہاتھ سے اسکی چوتڑوں کے پٹ علیحدہ کے اور دوسرے ہاتھ کو اپنے موں میں لے کے اچھی طرح تھوک لگائی اور انگوٹھا اسکی گند کے چھید کے عین اوپر رکھ دیا اور اپنا انگوٹھا اسکی گانڈ میں گھسنے کی کوشش کرنے لگ گیا لیکن انگوٹھا اندر جا نہیں پا رہا تھا کیوں کے ایک تو اسکی ٹانگیں آپس میں ملی ہوئی تھی اور دوسرا مینے اسکی کمر کو بل دے کے پیچھے کی طرف بالوں کی مدد سے کھینچا ہوا تھا اسلئے گانڈ کا سوراخ بوہت سختی سے بھینچا ہوا تھا میں نے اب انگوٹھا اسکی گند میں زور لگا کے اندر کیا تو بھابھی بولی کے زین اس طرح نہیں جائے گا کیوں کے میری گانڈ کنواری ہے اور دوسرا مجھے گانڈ مروانا پسند بھی نہیں ہے کیوں کے عورت کو بوہت درد ہوتی ہے اور تیسرا...... ابھی وہ بول بھی نہ پائی تھی کے اسکی رخسار پی میرا تماچہ لال نشان چھوڑ گیا تھا اسکی آواز گلے میں ہی گھٹ کے رہ گئی تھی اور وہ حیران آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہی تھی لیکن میں حوس کا پجاری بن چکا تھا اور اس پجاری کی جذبات سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا بس اسکو ایک جذبے سے ہی سروکار ہوتا ہے اور وہ جذبہ ہے شہوت کا جذبہ اور میرے سر پے چڑھ کے بول رہا تھا.

    میں بولا کے ارم میں نے تمہیں سمجھایا تھا کے آج کے دن تم میری نوکرانی ہو ایک کتیا ہو سمجھ نہیں آئی تمہیں ؟ اور تم کیا ہاں؟ جو میں چاہوں گا ووہی ہو گا آئی بھیجے میں بات یا گانڈ کے راستے سمجھاؤں ؟ سالی بھوسڑی کے نہ ہو تو . میری موں سے گالی سن کے بھابھی کا موں ایسا ہو گیا جیسے چھوٹنے کے بعد لوڑے کا ہوتا ہے ہاہاہا لیکن مجھے پرواہ نہ تھی پھر میں نے دوبارہ اسکو دھکا دیا بیڈ پے اور لوڑا سارا باہر نکالا اور ٹوپی تک اندر رہنے دیا بس اور انگوٹھا کا ایک پور اسکی گانڈ میں ڈالدیا اور پھر ایک ہی جھٹکے سے انگوٹھا اور لن گانڈ اور پھدی میں گھسا دے ایک دلخراش چیخ تھی لیکن اس چیخ میں درد کے علاوہ مزے کا بھی عنصر تھا جو کے میں سات پردوں میں ہونے کے باوجود سمجھ گیا تھا اور پھر میں نے رحم کھاتے ہوۓ گانڈ پے تھوک پھینکی اور انگوٹھے سے گانڈ چودنے لگ گیا اور لوڑے راجہ اپنی سہیلی سے مل رہے تھیا لیکن اس طرح ،مجھے کوئی خاص مزہ نہیں آ رہا تھا کیوں کے لوڑا ٹھیک سے اندر نہیں جا پا رہا تھا اتو میں نے ارم کو کہا کے کتیا بن جا پہلے تو وہ نہ سمجھی لیں جب اسکی گانڈ پے تھپڑ پڑا اتو فورن گھوڑی بن گئی اور اپنی گانڈ کا نظرانہ میری آنکھوں کو پیش کیا میں نے وہیں سے لوڑا پھدی پے ٹکایا اور چودنے لگ گیا اور ایک ہاتھ نیچے سے لے جا کے اسکا دانا سہلا رہا تھا میں بوہت سپیڈ سے چود رہا تھا بھابھی کو اور میرے ٹٹے جب بھی بھابھی کی گانڈ سے ٹکراتے تو عجیب سیکسی سا شور پیدا ہو رہا تھا بھابھی کی پھدی ابھی بھی کافی ٹائٹ تھی اور میرا لوڑا پھنس پھنس کے جا رہا تھا .

    بھابھی کی پھدی کی دیواریں میرے لوڑے سے گھس گھس کے پانی چھوڑ رہی تھی میرا لوڑا کافی موٹا تھا اس لیے بھابھی کی پھدی میں جا کے اس طرح فٹ ایا تھا کے میرا لوڑے کی جلد اور بھابھی کی پھدی کی دیوار بلکل چپکی پڑی تھی آپس میں اور جب بھی میرا لوڑا پھدی سے باہر آتا تو اس ے بھابھی کی پھدی کا سفید مادہ لگا ہوتا تھا میں چوں کے لمبی چدائی کے ارادہ بنا کے آیا تھا سو میں پھدی پے زیادہ فوکس نہیں کر رہا تھا اور مقصد بھابھی کی ٹھکائی تھی ہر جھٹکے کے بعد بھابھی کی سسکاری نکل رہی تھی اور اب اسنے اپنا سر نیچے گرا لیا تھا مطلب گردن کے ساتھ لٹک رہا تھا اور وہ مزے میں آ کے اپنا سر جھوم رہی تھی اب وہ خود بھی آگے پیچھے ہو کے میرا لوڑا پھدی میں لے رہی تھی اور اسکی پھدی سے نکلتا پانی اس بات کا ثبوت تھا کے کتیا گرم ہو رہی تھی اور میں یہی چاہتا تھا کے کیوں کے جب لڑکی گرم ہو تو وہ سیکس کے ہاتھوں اتنی مجبور ہوتی ہے کے کچھ بھی کرنے کو راضی ہو جاتی ہے اور میرا شوق تو لڑکی کی گانڈ مارنا ہی تھا میں جب بھی زیادہ قوت سے گھسا مارتا تو بھابھی کے ممے ھوا میں لہرانے لگ جاتے میں نے پیچھے سے دوبارہ بال پکارے اور کھینچ کی بھابھی کا موں پیچھے کی طرف کیا اور اپنی تین انگلیاں اسکے موں مے ڈال کے بولا کے اسکو لوڑا سمجھ کے چوسو پھر بھابھی میری انگلیوں کو اپنے نرم ھونٹوں اور گرم زبان سے پہلے تو اچھی طرح چوما پھر ایک ایک کر کے تینو انگلیاں موں میں لی اور پھر بڑے آرام سے میری انگلیاں چوسنے لگ گئی دوستو وہ کیا مزہ تھا میں آج تک نہیں بھول پایا ایک ظالم نوجوان گرم حسینہ کے لرزتے ہونٹ جب میری انگلیوں کو اپنا دیوانہ بنا رہے تھے میں مزے میں پاگل تھا پھر میں نے لوڑا باہر نکالا اور اسکا سیدھا لٹایا اور اور اسکے مموں کو موں مے لے کے زور سے چونسا تو ایک کھٹاس والا دودھ میرے میں میں آ گیا اور میں نے اسکو نگلے بغیر سارا دودھ ارم کے موں میں انڈیل دیا اور کہا کے لو اپنی ہی ماں بن جاؤ پھر تین چار دفا ایسا ہی کیا مینے اور پھر اسکے بازو اوپر سر کے طرف لے گیا اور اسکے موں کے اوپر ہاتھ رکھ کے اسکو زور لگا کے نیچے کی طرف دھکیلا اور پھر دیوانہ وآر زبان کی مدد سے اسکے پیٹ کو چومنے لگ گیا میں اسکے پیٹ کا کچھ حصّہ موں میں لے کے زور سے چوستا تو اسکے اس حصّہ پے نشان پر جاتے لال رنگ کے میں پھر آہستہ آہستہ اسکے پیٹ سے نیچے دھنی کے پاس آ گیا اور جب میں دھنی کے قریب پوھنچ کے اسکی دھنی میں زبان دہلی اور چومنے لگ گیا تو ارم آہ آہ کرنے لگ گئی اور اسکا پیٹ جھٹکے لینے لگ گیا اور وہ مچلنے لگ گئی پھر میں نے دھنی کے اطراف مطلب کولہے کی ہڈی والی جگہ سے ہوتا ہوا دھنی تک آتا اور پھر دوبارہ دھنی تک آ جاتا وہ اپنا سر ادھر ادھر جھٹک رہی تھی اور بار بار سر اٹھا کے میری طرف دیکھنا چاہتی لیکن میں اسے سر نہیں اٹھانے دے رہا تھا بلکے انگوٹھا اسکے موں میں ڈالا ہوا تھا تا کے اسکی آواز نہ نکل سکے میں ایک ہاتھ اوپر لے جا کے اسکے ممے سہلا رہا تھ اور نیچے سے اسکی دھنی اور پھدی سے ذرا اوپر والا حصہ چومی جا رہا تھا ارم سے اب یہ برداشت نہ ہو رہا تھا اور وہ اپنا سر نا ناہ والے انداز میں کئے جا رہی تھی اور مجھے روکنے کا کہ رہی تھی

    دوستو لڑکیاں تو جانتی ہی ہوں گی لیکن آپ کو بھی بتاتا چلوں کے اگر بچی گرم کرنی ہو تو ایک دھنی اور پھدی سے ذرا اوپر والے حصّہ کو ہر جگہ سے اس طرح چومو کے زبان جسم سے علیحدہ نہ ہو لیکن ہونٹ ہوں جائیں اور اسی طرح جب چومو گے تو لڑکی مچلنے لگ جائے گی اور پھدی پانی و پانی ہو جائے گی آپ اسکو آزما بھی سکتے ہیں بس سیدھا بیڈ پی لیٹ جائیں اور اپنے ہاتھ کو پنجہ بنا کے اپنی دھنی کے اطراف پے خارش کرنے والے انداز میں ناخون سے ہلکا ہلکا کر کے دیکھیں پھر دیکھیں کے کچھ ہی سیکنڈز میں آپ کے رونگٹے کیسے کھڑے ھوتے ہیں اور چند اور سیکنڈز میں آپ کا لوڑا ٹینٹ بن جائے گا لڑکیوں سے گزارش ہے کے اس مثال کو آزمانے سے پہلے سوچ لیں کہیں پھر آپ یہ سوچ کے نہ پریشان ہوتی رھیں کے خارش کرنے سے پتا نہیں ہاتھ کیوں گیلا ہو رہا ہے ہن کرن ای نا لگ پیو جے کہانی پڑھ لو جناب پہلے.


    میں اب ایک انگلی اسکی پھدی میں ڈال رہا تھا اور اوپر سے پیٹ چومی جارہا تھا ارم بولی خدا کا واسطہ بس کرو مجھے پیشاب آ رہا ہے اب مزید برداشت نہیں کر سکتی لیکن میں باز نا ایا تو وہ میرے بال کھینچنے لگ گئی اور مجھے اپنے جسم سے ہٹانے لگ گئی لیکن میں بھلا قابو آتا تھا ؟ میں بھی اتنا ہی اور تیز ہو گیا وہ جھنجھلا رہی تھی اور ترلے کر رہی تھی اپنی ٹانگیں وہ پہلے ہی بھینچ چکی تھی اور میرا ہر نیا چما اسکے پیٹ اور جذبات کے اندر تبدیلی لا رہا تھا میں نے ایک ہاتھ سے سر کو بیڈ پے لگا دیا اور کام جاری رکھا کچھ پل بعد مجھے اسکا جسم سکڑتا ہوا محسوس ہوا اور اسکی پھدی عجیب ہو رہی تھی اور بوہت زیادہ بھیچ گئی تھی کیوں کے وہ پیشاب روکنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن پگلی کو یہ نہیں پتا تھا کے جتنا پھدی کو بھینچے گی اتنا ہی انگلی اڑ کے جائے گی اور اتنا ہی مزہ آئے گا پھر کچھ دیر بعد اسکی گھٹی ووہی آواز نیلی ز ز ز ز ز ز زیننن ممم نہ کرووووواوو اور سات ہی اسکی پھدی سے گولڈن رنگ کا پیشاب کا فورا ابل پڑا اور سارا بستر بھگو دیا میں چومنا جاری رکھا پھر جب پیشاب روکا تو وہ بولی اب ٹھنڈ ہے؟ میں کہ بھی رہی تھی کے نہ کرو میں بولا جانو پریشان کیوں ہو رہی ہو؟؟ میں اسے اپنی بانہوں میں اٹھا کے واشروم میں لے گیا اور پہلے خود کموڈ پی بیٹھا اور پھر اسکو اپنی گود میں بیٹھا کے اسکا موں اپنی طرف کر لیا اور بولا کے کھل کے پیشاب کرو اب جانو میرا لوڑا اسکی پھدی سے ٹکرا رہا تھا وہ بوہت خوش ہوئی اور میرے ھونٹوں کو اپنے ھونٹوں سے ملنے کی سعادت بخشی یار وہ بوہت اچھا چومتی تھی اتنی نرمی اور شدت تھی اسکے چومنے میں کے کیا بتائوں میں ٹھہرا جٹ بندہ اور وہ نوخیز کلی اور جب مکھنی ہونٹ میرے بھرے بھرے ھونٹوں کو اپنے اندر جکڑتے تو مجے سب کچھ ایک خواب سا لگتا میں بھی اسکے ہونٹ چومتا رہا اور کبھی اپنی زبان اسکے میں میں ڈال دیتا اور اسکی زبان سے رگڑتا اتو کبھی اسکی زبان کو چوستا اور کبھی نیچے جا کے اسکی گردن اور کان کی لو کو اپنے موں میں لے لیتا تو کابھپیچے والی گردن سے اسکے بال تھوڑے سے ہٹا کے اسکے کان کے پیچھے والا حصہ نازکی سے چومتا تو اسکی روح سرشار ہو جاتی اس طرح کرنے سے اور وہ ایک معصوم درخت کی ٹہنی کی طرح میری بانہوں میں جھول جاتی.

    پھر وہ بولی زین مجھے پیشاب آ رہا ہے کیا کروں؟ میں بولا کر دو جانو میں نے کونہ ٹول ٹیکسلگانا ہے ؟ وہ بولی تمھارے لوڑے کے اوپر ہی؟؟ میں بولا ہاں نہ . تو وہ بوہت خوش ہوئی اور مجھے اپنے آپ سے لپٹا کے اور اپنی چھاتیاں میرے سینے میں پیوست کر کے پیشاب کرنے لگ گئی اور اسکا پیشاب پہلے میرے لوڑے سے ٹکراتا اور پھر نیچے کموڈ میں گر جاتا پھر جب وہ فارغ ہو گئی تو مینے پاس پڑا شاور اٹھا کے اسکی چوت کو اپنے ہاتھوں سے دھونا سٹارٹ کیا تو وہ بولی ارے نہیں بابا میں کر لوں گی تو میں ہنس کے بولا آج مجھے کر لینے دو نا تو وہ مسکرا کے بولی کے ٹھیک ہے کر لو تم پھر میں اسکی پھدی کو اچھی طرح دھو دیا اور کبھی شاور کا پانی تیز کر دیتا تو کبھی ہلکا کر دیتا جسکی وجہ سے پانی کبھی زور سے تو کبھی ہلکا کر کے اسکی پھدی سے ٹکراتا اور وہ مزے میں اپنے ممے اپنے ہی ہاتھوں میں لے کے مسلنے لگ گئی اور پھر میرا ہاتھ پکڑ کے مجھے کموڈ سے اٹھایا ور پانی سے میرا موتر والا لوڑا دھونے لگ گئی اور بڑے گدگدی والے انداز میں مٹھ لگاتی گئی پھر وہ چوکڑی مار کے فرش پے بیٹھ گئی اور میرا لوڑے کو ٹوپی سے لے کے ٹٹوں تک چومتی رہی اور ساتھ ہی ایک انگلی سے میری گانڈ کا چھید چھونے لگ گئی میں مزے میں تھا اور اسکا سر کے بالوں کو سہلا رہا تھا.

    پھر اسنے میری ٹوپی کو موں میں لے لیا اور اپنی زبان میرے کی ٹوپی پی گھمانے لگ گئی اور پیشاب والی موری کو زبان سے چھیڑنے لگ گئی اور ساتھ ساتھ پیچھے والی باقی لوڑے کو مٹھی میں لے کے مٹھ مرنے لگ گئی اور پھر آہستہ آہستہ کر کے میرا لوڑا اپنے موں میں لیتی رہی اور جب آدھ لوڑا اندر چلا گیا تو وہ سارا لوڑا موں سے باہر نکلتی اور پھر اپنے ھونٹوں کو گول کر کے اتنا چھوٹا کر لیتی کے ایک انگلی بمشکل اندر جا سکتی تھی اور پھر میرا لوڑا اسی تنگ موں میں لیتی کے اسکی گال کی دیواریں اور زبان میرے لوڑے کو قید کر لیتی اور انتہائی جان لیوا مزہ آتا مجھے یار وہ کمال کی چوپے باز تھی اور مزہ دینے والی لڑکی تھی میں مزے میں گم آنکھیں بند کر کے اسکے چوپوں کا مزہ لے رہا تھا پھر وہ سارا لوڑا موں میں لینے کی کوشش کرتی لیکن اندر نہ جا پتا اور اسکی رالیں بہنا شروع ہو جاتی پھر وہ لوڑا چھوڑ کے مرے ٹٹے موں میں بھر لیتی اور اسکی لولی پاپ کی طرح چوستی رہتی اور ہاتھ سے مٹھ مرنے کی کوشش کرتی میں کچھ دیر تو مزہ لیتا رہا لیکن پھر ڈر لگا کے کہیں یہ سالی سالی چوپے لگاتے لگاتے میرے لوڑے میں پھونک ہی نہ بھر دے اور ٹٹوں کا پٹاخہ پھٹ جائے. بندے کا کوئی پتا لگدا اے؟ ہاہاہا . اور پھر اسکو فرش پے لٹا دیا اور خود اسکو اوپر آ گیا اور میرا لوڑا اسکے موں کے اوپر تھا اور اسکی پھدی میرے موں کے نیچے اور میں نے پہلے تو اسکی پھدی کی لکیر پی اپنی زبان پھیری اور کبھی دانا تو کبھی پھدی کی لکیر کو چومتا رہا اور پھر میں نے اسکے پھدی کے ہونٹ سائیڈ پی کے اور اپنی زبان کو اندر کی طرف ڈال دیا اور تیز تیز زبان اسکی پھدی کے چاروں کونوں میں مورٹین کی طرح پھیلا دی اور اپنے ہونٹ اسکی پھدی کے ملا لیے اور اسکے پھدی کے ھونٹوں کے ساتھ فرنچ کسنگ کرنے لگ گیا اور ساتھ ہی انگلی سے اسکا دانا مسلنے لگ گیا اور نیچے سے زبان اسکی پھدی کے گہرایوں کو ماپنے کے لیے اندر باہر کرنے لگ گیا اور ہر بار جب زبان اسکی پھدی کے اندر جاتی تو ارم اپنی پھدی کو گھوٹ لیتی جیسے میری زبان نے اسکی پھدی جان سے مار دی ہو اور اسی جرم کی پاداش میں وہ اسے قید کرنا چاہتی ہو .

    ادھر ارم بھی فل فارم میں تھی اور میرے لوڑے راجہ کو اپنی زبان سے اپنے موں کا راستہ دکھا رہی تھی اور ساتھ ساتھ ایک انگلی میری گانڈ میں تھوک لگا کے ہلکا ہلکا پش کر رہی تھی جسکا عجیب مزہ آ رہا تھا مجھے میں نے اب ایک انگلی بھی پھدی میں ڈال دی اور اندر باہر کرنے لگ گیا اور ساتھ اپنی زبان کو ارم کی گانڈ سے بھی روشناس کروا دیا اور اسکی پنک گانڈ کو اپنے زبان سے آہستہ آہستہ سہلانے لگ گیا ارم کی گانڈ کا چھید بوہت ہی چھوٹا سا تھا بلکل بھونڈ کے ٹٹے کی طرح مجھے شق ہوا کے ارم کو تو سارا سال قبض رہتی ہو گی اتنی چھوٹی بنڈ سے تو پھوسی بڑی مشکل سے نکلتی ہو گی ٹٹی کہاں سے نکلتی ہو گی بیچاری؟ اب میرا فرض تھا کے اپنی بھابھی کو اس قبض سے چھٹکارا دلاتا اور انسان کے کام آنا انسان کا فرض ہے یارو. بھابھی بولی زین گانڈ پے بوہت مزہ آ رہا ہے پلیز گانڈ کو چاٹی جاؤ نہ میں بولا ہاں ہاں بلکل یارا کیوں نہیں آخر اس گانڈ کے بھی افسانے ہزار ہیں ارم بولی کی اچھاااا مینے تو ابھی تک نہیں پرہے اس گانڈ کے افسانے؟ یں بولا یار ابھی لکھوں گا نہ ٹینشن نہ لو تو ارم ہنس پڑی اور میری گانڈ کو چاٹنے لگ گئی میں اب سپیڈ تیز کر چکا تھا اور دانے کو ھونٹوں کے بیچ لے کے اسکو دانتوں میں جکڑ چکا تھا اور اپنی زبان سے اسکی شامت لا رہا تھا اور ساتھ ساتھ دو انگلیاں اسکی پھسی میں ڈال کے چود رہا تھا اور دوسرے ہاتھ کی ایک انگلی اسکی بنڈ میں ڈال کے اندر باہر کر رہا تھا ارم کچھ پل میں ہانپنے لگ گئی اور اسکی سانس پھول رہی تھی اب وہ میری گانڈ چاٹنا بند کر چکی تھی اور سر فرش پے رکھ کے آنکھیں بند کر کے اس سہانے پل کا مزہ لے رہی تھی کچھ پلوں بعد اسکا جسم اکڑنا شروع ہو گیا اور اسکی ٹانگیں کانپنا لگ گئی اور ساتھ ساتھ اسکے ہاتھوں کے ناخون مجھے اپنی چوتڑوں کے اندر کھوبتے ہوۓ محسوس ہو رہے تھے .

    میں اسی طرح لگا رہا اور کچھ پلوں بعد اسکی پھدی سے معمول سے ذرا ہٹ کے زیادہ پانی نکل آیا تم میں روک گیا ارم سر اٹھا کے بولی پلیز روکو نا میں فارغ ہونے کے قریب ہوں واسطہ ہے تمہیں میں بولا کے گانڈ مارنے دو گی؟ وہ بولی زین جاری کرو نہ اور ساتھ ساتھ میں زبان ڈالتا اور ساتھ پوچھتا گانڈ؟؟؟ گانڈ؟؟ گانڈ؟ وہ بولی ٹھیک ہے پلیز روکو نہیں اور میں دوبارہ شروع ہو گیا کچھ پل بعد اسکی پھدی منی کا آتش فشاں پہاڑ بن گئی اور ڈھیر سارا گاڑھا سفید مادہ اسکی پھدی سے پریشر سے نکل کے فرش پے بکھر گیا لیکن میں روکا پھر بھی نہیں اور کام جاری رکھا وہ تڑپ رہی تھی بلکل اسی طرح جس طرح بن پانی کے مچھلی تڑپتی ہے (ویسے یہ کچھ زیادہ نہیں ہو گیا؟ہاہاہا خیر ) پھر کچھ دیر بعد ہی اسکی آنکھیں گھوم کے پیچھے کی طرف چلی گئی اور ٹانگیں قابو میں نا آ رہی تھی اور وہ دوسری بار فارغ ہو گئی تھی اور میں اسکی پھدی پے تھپڑ مرنے لگ گیا اور وہ پچھلی بار سے بھی زیادہ فارغ ہو گئی اور میرے ہاتھ کو اپنی ٹانگوں میں بھیچ لیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگ گئی اور بولی کے زین کیا جادو کیا ہے میں آج تک اس طرح نہیں فارغ ہوئی ور دیوانہ وآر چومنے لگ گئی پھر ہم کھڑے ہو گئے اور وہ بولی کے اب ریسٹ کرو تھوڑا میں تھوڑا کھانا بنا لوں رات کے لیے اور کپڑے پہننے لگی تو میں بولی کے کیوں اس جسم کی توہین کر رہی ہو یار رہنے دو نہ اسکو کپڑوں میں نہ قید کرو یہ کپڑے اس جسم کے قابل نہیں ہیں وہ بچوں کی طرح ہنسنے لگ گئی اور بولی کے مکھن لگانا کوئی تم سے سیکھے کمینہ نہ ہو تو اور ننگی ہی باہر جانے لگی تو میں بولا " حیران ہوں کے آندھی ہو، طوفان ہویا میرا گمان ہو پر جو بھی ہے قسم ہے کمال کی لاجواب ہو تم " وہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا کے ہنسنے لگ گئی اور بولی کے کاش میرا شوھر بھی تمھارے جیسا ہو جائے تو مزہ آ جائے یار.

    پھر وہ چلی گئی اور میں پیچھے پیچھے چلتا اسکی گانڈ کا اکہتر بہتر دیکھتا رہا وہ بولی کیا دیکھ رہے ہو؟ میں بولی کے یار تمہاری گانڈ کی مستانی چال کو دیکھ رہا ہوں وہ سر جھٹک کے کچن میں چلی گئی اور میں بھی پیچھے پیچھے چلتا کچن میں جا کے سلیب پے جا کے بیٹھ گیا اور اسکے خوبصورت جسم کو کام کرتے دیکھتا رہا وہ بار بار مجھے دیکھتی اور ہنس پڑتی میں بولا یار کاش تم کچھ سال بعد پیدا ہو جاتی اور میری شادی تم سے ہو جاتی تو کتنا اچھا ہو جاتا نہ؟ وہ بولی کے شادی والا کام اب کر تو لیا ہے اور کیا چاہیے؟ میں بولا کے یار میں ایسا جسم روز چودنا چاہتا ہوں ایک دفا سے دل نہیں بھرے گا میرا وہ بولی اچھا اب اموشنل نہ کرو اور بتاؤ رات میں کیا کھاؤ گے؟ میں بولا تمہاری گانڈ شوربے والی کے ساتھ پھدی والے چاول اور تمھارے مموں کا ٹھنڈا رائتہ اور تمھارے ھونٹوں کی چٹنی. کیا بنا پاؤ گی؟ وہ میرے پاس آ گئی اور قریب ہو کے میرے ماتھے پے کس کر کے بولی کے یار اب مجھے دکھی نہ کرو کے مجھے بھی دکھ ہونے لگ پڑے کے میری شادی غلط بندے سے ہو گئی سو ان لمحوں کو انجوئے کرو یار ٹھیک ہے؟ میں اسکو بانہوں میں بھر کے بولا کے ووہی تو تم کرنے نہیں دے رہی وہ بولی کے مینے روکا تو نہیں ہیں تمہیں.میں بولا کے خود ہی کہا تھا کے کھانا بنا لوں تو وہ بولی کے ہاں یہ تو نہیں کہا تھا کے نہ کے تم مجھے چھو نہیں سکتے آنکھ مار کے بولی وہ. میں اسکی حرکت پے خوش ہوا اور وہ کرے ہو کے سالن بنانے لگ گئی اور میں اسکی گانڈ سے جڑ کے اسکے پیچھے کھڑا ہو گیا اور پیچھے سے اسکے کندھے چومنے لگ گیا اور ساتھ ساتھ اسکی گردن سے بال سارے ایک سائیڈ پے کے ائر اسکی گردن کو آہستہ آہستہ چومتا رہا میرا لوڑا کھڑا ہو رہا تھا اور اسکی گانڈ سے ٹچ ہو رہا تھا (کیا کیا کرتے ہیں ہم ایک پھدے کی خاطر ہاہاہا) پھر میں اسکے ممے کو کو پکڑ لیے تو میرا لوڑا کھڑا ہو گیا اور اسکی گانڈ کو چھیڑنے لگ گیا تو اسنے پیچھے سے کھانا پکاتے ہوۓ ہی میرا لوڑا ہاتھ میں لے لیا اور آہستہ آہستہ اسکو اپنی گانڈ پی رگڑنے لگ گئی اور میری ٹوپی اپنی گانڈ کے چھید پے لگا کے خود ہی آہستہ آہستہ پیچھے آتی لیکن لوڑا مڑ جاتا تھا اندر نہیں جا پاتا تھا میں بھی جوش میں آ کے اسکی گانڈ میں ڈالنے کی کوشش کرنے لگ گیا اور وہاں سے ہی جھٹکا لگانے لگ گیا لیکن لوڑا نہیں جا رہا تھا.

    اور مجھے جوش آ رہا تھا ور میں زور زور سے دھکے مار رہا تھا لوڑا بنڈ کے اندر تھوڑا سا اندر جاتا تو ارم درد کی اوجہ سے تھوڑا آگے کو ہو جاتی اور لوڑا پھر باہر آ جاتا ارم بولی کے یار درد ہوتی ہے نہ کرو بنڈ میں میں نے اسکی نہ سنی اور اسکو سلیب پے جھکا دیا اور ایک ہاتھ سے اسکی گردن کو اس طرح پکڑا جس طرح چور کو پکڑتے ہیں اور اسکی گردن کو پکڑ کے سلیب کے ساتھ لگا دیا اور لوڑا گانڈ کے اوپر ٹکا کے جھٹکا مارا تو لوڑا صرف آدھی ٹوپی تک گیا اور دوسرے جھٹکے سے لوڑا صرف ٹوپی تک اندر گیا لیکن ارم کی درد سے برا حال تھا اور اسکی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے اور آنکھیں اسنے بھینچی ہوئی تھی اور گانڈ کو بھی ٹائٹ کر رہی تھی خود مجھے بھی درد ہو رہی تھی تو میں نے وہاں قریب پڑا ہی کشمیر آئل اٹھا لیا اور اسکو اپنے لوڑے اور اسکی گانڈ کے اوپر لگا دیا وہ ہررن ہو کے کسمیر آئل کون لگاتا ہے بھائی؟ تم نے میری پھدی ہے کوئی تندور نہیں ہے گانڈو!! میں ہنس پڑا اور بولا کے یار میں اتنا گرم ہوں کیا پتا تماری بھٹی میں جا کے لوڑا فرائی ہی ہو جائے پھر تم رج کے کھانا. ہاہاہ اور لوڑا جھٹکا مار کے اندر کر دیا لوڑا 2 انچ اندر چلا گیا لیکن ارم آئی آئی آئی اوئے اوئے سی سیس سی کر کے روننے لگ گئی میں نہ روکا اور لوڑا پھر زور سے جھٹکا مارا تو لوڑا 4 انچ اندر چلا گیا لیکن خود مجھے بھی درد ہو رہی تھی کیوں کے گانڈ بوھت زیادہ ہی ٹائٹ تھی اور دوسرا بلکل کنواری تھی اور تیسرا ارم کا رو رو کے برا حال ہو رہا تھا اور پھر میں نے کچھ پل سوچا اور گانڈ کا زور لگا کے لوڑا گانڈ میں کر دیا پورے 6 انچ اسکی گانڈ میں چلے گئے اور وہ مجھے گالیاں نکال رہی تھی. مادر چود زین باہر نکال کتی کے بچے درد ہو رہی ہے باہر نکال اسکو میں کہ رہی ہوں میں نے تیری گانڈ مار لینی ہے باہر نکال اور ساتھ روتی اور ساتھ ساتھ پھر کہتی کنجر انسان باہر نکال یہ میری گانڈ ہے لاہور کا لاری اڈا نہیں کے کوئی بھی چیز اندر آ جائے باہر نکال.

    لیکن گالیاں سن کے مجھے مزہ آ رہا تھا اسکی بےبسی پے اور میں اور زور سے جھٹکے مارتا رہا اب کچھ درد مجھے بھی کم ہو رہی تھی اور کچھ گزارا ارم نے بھی کر لیا تھا پھر میں نے پاس پڑا کھیرا اٹھا لیا ور اسے کہا کو اسکو اچھی طرح چوسے اسکی سوالیہ نظروں سے دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو کے اسکا میں نے اچار ڈالنا ہے لیکن پھر اچھی طرح چوستی رہی اور جب اچھی طرح چوس لیا تو میں نے اسکے موں سے لے لیا اور اسکی پھدی کے اپر رکھا تو اسکو کرنٹ لگا اور بولی کے تم پاگل تو نہیں ہو گئی؟ یا کھیرا تم میری پھدی میں دینا چاہتے ہو؟ میں سر ہلا دیا تو وہ بولی سائز دیکھا اسکا تمنے لوڑے جتنا موٹا ہائی ور میں نہیں لے سکتی سوری میں بولی کے چلو شاباش ٹانگیں کھولو تھوڑی سی اور پھر اسکی نہ سنتے ہوے میں نے کھیرا اسکی پھدی میں ڈالا جو کے کچھ حیل و حجت کے بعد آدھ اسکی پھدی میں چلا گیا لیکن ارم خام خوا چلا رہی تھی جیسے کھیرا نہ ہو کوئی شاہین مزائل ہو اور اسکی پھدی فل کھل گئی تھی اور پیچھے سے میں نے گانڈ پے حملہ کیا ہوا تھا اور ساتھ ساتھ کھیرا بھی کام دکھا رہا تھا اور دونوں سوراخ بند کے ہوئے تھے میں ہاتھ سے کھیرا اسکا پھدی میں آگے پیچھے کرتا رہا اور لوڑا گانڈ میں آگے پیچھے کرتا رہا ارم چیخ رہی تھی اور واسطے دے رہی تھی لیکن میں نے کھیرا پورا اسکی پھدی میں دے دیا جسکی وجہ سے ارم بیہوش سی ہو گئی لیکن میں نہی رکا اور چدائی جاری رکھی کچھ دیر بعد اسکو ہوش ایا اور اور کچھ مزہ بھی لیکن مزہ بھی درد والا تھا وہ خوش تو نہ تھی لیکن بہرحال حصہ ضرور لے رہی تھی .

    جب میں تھک گیا تو اسکو فرش پے لٹا دیا اور اسکی ٹانگوں کو فولڈ کر کے اسکے سر سے ملا دیا اور اس طرح کرنے سے اسکی پھدی اور گانڈ کھل کے میرے سامنے آ گئی اور دونوں میرے نشانے پی تھی میں نے اب کھیرا اسکی گانڈ میں گھسانا چاہا تو وہ چیخ پڑی اور بولی سلے مجھے صدقے کا مال سمجھا ہوا ہے گانڈو نہ ہو تو خبیث آدمی میں آگے برداشت کر گئی تو اسکی مطلب یہ نہیں کے تم میری بنڈ ہی پھاڑ دو. میں بولا جانو ابھی کہاں پھٹی ہے ؟ ارم بولی کےسیانے کہتے ہیں کے دودھ اور گانڈ کے پھٹنے کی آواز نہیں آتی لوڑے. میں بولا ہاں تو وہ یہ بھی کہتے ہیں کے سانپ اور بنڈ جہاں دیکھو مار دو!! تو اب مارنی پڑے گی اور کھیرا اسکی گانڈ میں ڈال دیا کافی ہیو حجت کو بعد جس میں 5 منٹ کی مشقت اور ارم کی چیخیں اور گالیاں بی شامل تھی اور وہاں ٹیپ لگا کے کھیرا گانڈ میں رہنے دیا اور اب چاہے گانڈ کا بھی زور لگا لیتی تو پھر بھی گانڈ سے کھیرا باہر نہیں آ سکتا تھا ٹیپ کی وجہ سے اور میں نے پھر اپنا ہتھیار ہاتھ میں لے کے اسے اصل دشمن کی پہچان کروائی اور پھدی مارنے کا فیصلہ کر لیا ور لوڑا پھدی کے اندر ڈال دیا لیکن ساتھ ہی میں نے پیٹ پے بھی وزن بڑھا دیا تا کے پیٹ نیچے ہو جائے اور گانڈ اور پھدی ٹائٹ ہو جائے اور ساتھ ہی لوڑا پھدی میں ڈال کے ٹھکائی سٹارٹ کر دی ارم درد سے سر کبھی یہاں جھٹکتی تو کبھی وہاں لیکن کھیرا گانڈ میں ہونے کی وجہ سے گانڈ پھدی کی طرف تھوڑا اوپر آئے ہوئی تھی اور لوڑا گھس گھس کے پھدی میں جا رہا تھا اور ارم سے سانس لیا نہ جا رہا تھ اور وہ ٹانگیں مارتے اپنا بدن زمین پے گھسیٹ رہی تھی جسکی مجھے پرواہ نہیں تھی کے جب تک لوڑا اندر تھا تب تک باہر کی کوئی بھی طاقت اسکو پھدی مارنے سے نہیں روک سکتی تھی میں اب جان بوجھ کے ارم کی ناک بند کر دیتا اور ہاتھ اسکے موں پے رکھ دیتا اور اسکا سانس بند ہو جاتا اور جب اسکی آنکھیں ابل کے باہر آ جاتی اور موں لال ہو جاتا تو مین ناک خھول دیتا اور جیسے ہی لمبا سانس لے کے وہ بولنے لگتی میں دوبارہ ناک اور موں بند کر دیتا پھر اسی طرح کرتا رہ اور اسکی پھدی میں ہی فارغ ہو گیا اور اکے جسم پے ڈھے گیا اور پھر اٹھ کے چمچا اٹھایا اور اسکی پھدی میں ڈال کے منی باہر نکالی اسکو تھوڑا سا اٹھا کے ایئر چمچ اسکے ھونٹوں سے لگا کے بولا کے یخنی پی لو جانو وہ نفرت سے موں سکیڑ کی بولی کے نہیں میں نہیں پینی. مجھے غصّہ آیا اور میں نے ایک اسکے نپل کو انگلیوں میں لے کے مسل دیا اور ناک بند کر دیا جسکی وجہ سے اسکو موں کھولنا پڑا اور جیسے ہی اسنے موں کھولا میں نے چمچ اسکے موں میں انڈیل دیا اور ناک کو ایک سیکنڈ کے لیے کھولا اور منی گھڑپ کر کے اندر چلی گئی اور معدے کی دیواریں ترو تازہ ہو گئی وہ نفرت سے ابکائی لیتی رہی لیکن الٹی نہیں ہوئی.

    پھر میں اسکے پیٹ پے بیٹھ کے جیسے ہی کھیرا نکالا تو اس بیچاری کا پد نکل گیا زور سے اور ساتھ ہی ٹٹی کی کچھ چھینٹیں اڑ کے فرش پے بکھر گئی اور میں جھوم کے بھنگڑا ڈالنے والے انداز میں بولا او بلے بلے قبض کھل گئی او شاوا شاوا لے بھائی سوہنیے ہاتھ سٹ فر لیکن ہاتھ کی بجائے اس حرام کی پلی نے کھنگار کمر پے پھینک دی اور مجھے پیٹ سے اٹھانے کی ناکام کوشش کرنے لگ گئی بھلا اسے کون کون سمجھاتا کے یہ میں تھا کوئی لوڑا نہیں کے صرف سوچنے سے ہی اٹھ جاتا پھر میں نے اسکی گانڈ جو کے اب گینڈا بن چکی تھی اسکو دیکھا تو وہ کوئی ڈھائی انچ تک کھل چکی تھی اور پھٹ کے فلاور بن گئی تھی میں نے اسے اٹھایا تو اسکی پھدی سے باقی ماندہ منی بہ کے اسکی ٹانگوں کو سیراب کر گئی اور وہ بیچاری سے ہلا نہیں جا رہا تھا لڑکھڑاتی ہوئی بیڈ پے پوھنچی تو میں بولا کے جانو کچھ تو بولو نہ تو وہ بولی تیرے پے کالے ریچھ چوروں سالے کمینے آدمی مجھ پے اتنا ظلم کیا ہے اسکا حساب کون دے گا؟ میں ہنس پڑا اور بولا جانو تم نے ہی تو کہا تھا کے فورسڈ سیکس کروانا چاہتی ہو تو وہ بولی سیکس کہا تھا لنگارہ لاہنے کو نہیں کہا تھا تم نے پھدی اور گانڈ کی بےقدری کر کے رکھ دی اور بولی ویسے باتیں جتنی مرضی کر لو لیکن مزہ تو آیا تھا ہلکا ہلکا سا کیوں کے پہلی دفا تھا لیکن نیکسٹ ٹائم کوشش کروں گی کے اسکا مزہ لے سکوں ٹھیک سے گانڈ کا بھی اور سہانی من موہنی پھدی کا بھی. میں اکڑ کے بولا کے ارے واہ تو پھر اگلی دفا کب آؤں؟ وہ بولا دفا ہو پورے پاکستان کو گانڈ دے دوں گی لیکن تجھے نہیں سالے میری گانڈ پھاڑ کے رکھ دی اور ہمت دیکھو کے پھر مارنے کی سوچ رہا ہے واہ جی واہ بلے او چالاک سجنا؟؟

    پھر بولی کے یار حسن کو گانڈ پے کیسے منواؤں؟ میں بولا کے یار سمپل سی بات ہے کے جب سیکس کر رہے ہو تو سیکس کے دوران اسکا ہاتھ اپنی گانڈ پی رکھ دینا یا جان بوجھ کے سوتے ہوے کی ایکٹنگ کرنا بند باہر کو نکال کے اور اس گانڈ کا موں حسن کی طرف ہو بلکے اس طرح کرنا کے ایک ٹانگ سینے سے لگا لینا اور سر آگے کو کر لینا اس طرح گانڈ پیچھے کو نکل جائے گی اور حسن بھی گانڈ کو ٹچ کر لے گا اور سیکس کرواتے ہوۓ جان بوجھ کے اسکا لوڑا گانڈ سے رگڑتی رہنا اور گانڈ کا راستہ دکھا دینا اس طرح تو لازمی ہو جائے گا. اسکے علاوہ ایک اور طریقے سے بھی کیا جا سکتا ہےکے جان بوجھ کے میںسس/ماہواری کے دوران حسن کو گرم کر دینا اور جب سیکس کی بات ہو تو کہ دینا کے سیکس کا مزہ اور طریقے سے بھی لیا جا سکتا ہے اور گانڈ مروا لینا وہ مجھے چوم کے کے بولی کے ہاں یہ ٹھیک ہے اور بولی کے کیتا تے ظلم ای اے لیکن فر وی شکریہ جناب عالی. میں بولا کے اگر کبھی ہیلپ چاہیے ہو تو بلا معاوضہ لے لینا مشورہ وہ ہنس کے بولی کے کتھوں بلا معاوضہ؟ پیسے تو تم نے پورے کر لیے ہیں اور ہنس پڑی اسکے بعد میں گھر آ گیا اور ارم اور حسن کی بھی صلح ہو گئی اور اطلاعات سے پتا چلا ہے کے ارم اور حسن اب بوندا باری کے لوسم ہیں بونڈا بانڈی کھیل لیا کرتے ہیں ہاہاہا اور جناب کبھی کبھی نوازش کرم اس بندہ نہ چیز کی طرف بھی ہو جاتی ہے لیکن صرف کھڑے کھڑے مٹھ کی حد تک یا بس چمی چاٹے تک یا حد ہو گئی تو ممے ہاتھ میں پکڑ لیے یا بوھت ہی ہو گیا تو گھسا لگا لیا یا کبھی اسپیشل ہو گیا تو چوپا لگوا لیا. بس اسی طرح چل رہی ہے میری زندگی
    ختم شد

  2. The Following 10 Users Say Thank You to Sexeria For This Useful Post:

    85sexy85 (10-01-2017), abba (10-01-2017), abkhan_70 (23-01-2017), darkhorse (10-01-2017), imran imra (12-01-2017), Lovelymale (10-01-2017), mbilal_1 (13-01-2017), piyaamoon (10-01-2017), sameer04 (10-01-2017), WickedJoker (28-01-2017)

  3. #22
    abba's Avatar
    abba is online now Premium Member
    Join Date
    Apr 2009
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    33
    Posts
    899
    Thanks
    14,637
    Thanked 2,376 Times in 776 Posts
    Time Online
    1 Week 3 Hours 30 Minutes 3 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    170

    Default

    Janab bot zabardast shandar alla
    Ah uf uf bot he hot update
    next ka intazar ray ga thanks g

  4. The Following 2 Users Say Thank You to abba For This Useful Post:

    85sexy85 (10-01-2017), Sexeria (10-01-2017)

  5. #23
    85sexy85's Avatar
    85sexy85 is offline Crazy Man Utd Fan
    Join Date
    May 2012
    Posts
    608
    Thanks
    3,301
    Thanked 1,902 Times in 558 Posts
    Time Online
    5 Days 19 Hours
    Avg. Time Online
    4 Minutes 48 Seconds
    Rep Power
    173

    Default

    Itni Achi Kahani Likhne Pe 21 Ki Salaami Kasam Se Maza Aa Gaya Parh Ke. Thank You Sexeria Bhai Hum Sub Ko Entertain Karne Ke Liye.
    If U Stand For A Reason,Be Prepared To Stand Alone Like A Tree.
    If U Fall On The Ground,Fall As A Seed That Grows Back To Fight Again.

  6. The Following 2 Users Say Thank You to 85sexy85 For This Useful Post:

    Sexeria (11-01-2017), WickedJoker (28-01-2017)

  7. #24
    sameer04's Avatar
    sameer04 is offline Awara hoon
    Join Date
    Apr 2011
    Location
    Karachi
    Posts
    3,186
    Thanks
    28,455
    Thanked 27,501 Times in 3,048 Posts
    Time Online
    1 Week 1 Day 10 Hours 32 Minutes 19 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 29 Seconds
    Rep Power
    1426

    Default

    Sexeria bhai bohat hi sex se bharpur kahani likhe hai app ne. or torture sex parh ke maza aa gaya janab... thanks for writing..

  8. The Following User Says Thank You to sameer04 For This Useful Post:

    Sexeria (11-01-2017)

  9. #25
    lund4phuddies's Avatar
    lund4phuddies is offline Premium Member
    Join Date
    Sep 2009
    Location
    In Pussies
    Posts
    2,355
    Thanks
    1,605
    Thanked 8,479 Times in 2,194 Posts
    Time Online
    2 Weeks 11 Hours 20 Minutes 12 Seconds
    Avg. Time Online
    11 Minutes 8 Seconds
    Rep Power
    1847

    Default

    Bohut Khoob

    Sachi Baat Toh Yeh Hy Ke....

    Apki Story Main Sex To Enjoy Nhi Kiya... Sorry To Say.. Lekin...

    Comedy Ne Hansty Hansty Pet Main Bal Daal Diye...

    Aur Ik Comedy To Na HotY howy Bhi Comedy Ho Gayee Jb Ap Apni Bhabhi Ko Doggy Style Main Chod Rahay Thay Ap Ka Lorda Us Ki Choot Main Tha Aur Tattay Us Ki Gand Se Takraty Thay

    Dunya Ka Pehla Mard Dekha Jis Ke Tattay Lund Ke Nichay Nahi Lund Ke Uper Thay. hahahaahha

    Mulahiza Ho...


    میں نے ارم کو کہا کے کتیا بن جا پہلے تو وہ نہ سمجھی لیں جب اسکی گانڈ پے تھپڑ پڑا اتو فورن گھوڑی بن گئی اور اپنی گانڈ کا نظرانہ میری آنکھوں کو پیش کیا میں نے وہیں سے لوڑا پھدی پے ٹکایا اور چودنے لگ گیا اور ایک ہاتھ نیچے سے لے جا کے اسکا دانا سہلا رہا تھا میں بوہت سپیڈ سے چود رہا تھا بھابھی کو اور میرے ٹٹے جب بھی بھابھی کی گانڈ سے ٹکراتے تو عجیب سیکسی سا شور پیدا ہو رہا تھا بھابھی کی پھدی ابھی بھی کافی ٹائٹ تھی اور میرا لوڑا پھنس پھنس کے جا رہا تھا .

  10. The Following 2 Users Say Thank You to lund4phuddies For This Useful Post:

    Sexeria (11-01-2017), WickedJoker (28-01-2017)

  11. #26
    Join Date
    Oct 2016
    Location
    Lahore
    Age
    25
    Posts
    407
    Thanks
    934
    Thanked 1,963 Times in 392 Posts
    Time Online
    3 Days 16 Hours 30 Minutes 37 Seconds
    Avg. Time Online
    44 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    938

    Default

    Quote Originally Posted by lund4phuddies View Post
    Bohut Khoob

    Sachi Baat Toh Yeh Hy Ke....

    Apki Story Main Sex To Enjoy Nhi Kiya... Sorry To Say.. Lekin...

    Comedy Ne Hansty Hansty Pet Main Bal Daal Diye...

    Aur Ik Comedy To Na HotY howy Bhi Comedy Ho Gayee Jb Ap Apni Bhabhi Ko Doggy Style Main Chod Rahay Thay Ap Ka Lorda Us Ki Choot Main Tha Aur Tattay Us Ki Gand Se Takraty Thay

    Dunya Ka Pehla Mard Dekha Jis Ke Tattay Lund Ke Nichay Nahi Lund Ke Uper Thay. hahahaahha

    Mulahiza Ho...

    [/SIZE][/FONT][/RIGHT]

    ہاہاہاہا چلیں آج یہ تو پتا چلا کے کوئی ہماری کہانیاں بھی اتنی باریک بینی سے پڑھتا ہے. ہاہاہاہا یار لکھنا پیٹ تھا لکھ گانڈ دیا. خیر مزہ آنی چائی د باقی لفظوں میں کیا پڑا ہے. خوش رہو

  12. The Following 2 Users Say Thank You to Sexeria For This Useful Post:

    asiminf (23-01-2017), WickedJoker (28-01-2017)

  13. #27
    farhan403 is offline Premium Member
    Join Date
    Oct 2015
    Location
    attock
    Posts
    75
    Thanks
    127
    Thanked 133 Times in 61 Posts
    Time Online
    2 Days 15 Hours 54 Minutes 48 Seconds
    Avg. Time Online
    7 Minutes 32 Seconds
    Rep Power
    10

    Default

    Bohat aala zaber10t

  14. The Following User Says Thank You to farhan403 For This Useful Post:

    Sexeria (23-01-2017)

  15. #28
    WickedJoker is offline Aam log
    Join Date
    Jan 2017
    Age
    27
    Posts
    10
    Thanks
    315
    Thanked 10 Times in 7 Posts
    Time Online
    1 Hour 28 Minutes 5 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 45 Seconds
    Rep Power
    3

    Default

    Hahahahaha Yaar Kamal ki kahani thi sex bhi enjoy kia aur aap ki shugli baatain bhi. hahahaha bohat level ki kahani thi yaar. aur bhi likho na isi trah ki funny wali kahaniyan.
    Hats off janaab. UMAAAAHHHHHH

  16. The Following 2 Users Say Thank You to WickedJoker For This Useful Post:

    asiminf (31-01-2017), Sexeria (28-01-2017)

Page 3 of 3 FirstFirst 123

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •