Page 1 of 4 1234 LastLast
Results 1 to 10 of 34

Thread: ...بھابھی کی مشکل آسان کی مفت میں

  1. #1
    Sexeria's Avatar
    Sexeria is offline Minister
    Join Date
    Oct 2016
    Location
    Lahore
    Age
    25
    Posts
    590
    Thanks
    1,477
    Thanked 3,164 Times in 507 Posts
    Time Online
    4 Days 16 Hours 57 Minutes 50 Seconds
    Avg. Time Online
    17 Minutes 16 Seconds
    Rep Power
    1008

    Redarrow ...بھابھی کی مشکل آسان کی مفت میں

    دوستوں جو کہانی میں آج لکھنے جا رہا ہوں اس میں سیکس کا تڑکا ضرور ہوگا لیکن اس کہانی کا اصل مقصد کچھ اہم چیزوں سے پردہ ہٹانا ہے جو کے بوہت سے گھروں کو اجاڑ رہے ہیں اور بیوفائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے یہ کہانی خاص طور پے لڑکیوں کے لیے لکھی گئی ہے کیوں کے کچھ چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جنکا پتا ہم سب کو ہوتا ہے لیکن پتا نہیں کیوں وقت آنے پے ہم بھول جاتے ہیں خیر کچھ ایسا ہی واقعہ میری بھابھی کے ساتھ بھی پیش آیا لیکن کچھ حقیقی باتوں کے ساتھ ساتھ اس میں تھوڑا چوت مسالا ، ممے کا ہاضمے دار تڑکا اور گانڈ کا دم بھی دیا گیا ہے جو کے امید ہے سبق آموز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک منورنجن بھی ضرور ہو گا. آپ لوگوں سے بس گزارش اتنی سی ہے کے ایک دفا پڑھ کے اس کہانی کی روح سمجھ لیں اور اسے اپنی زندگی کا جز بنا لیں چاہے آپ لڑکے ہو یا لڑکی کیوں کے دونوں کے لیے یکساں موزوں ہے .

    خیر بات ہو رہی تھی واقعیہ کی. تو دیویو اور سجنو ہونا یوں ہوا کے میری خالہ کا ایک بیٹا تھا حسن جو کے نام کی طرح حسین بھی بوہت تھا اور مال دولت کی بھی ریل پیل تھی. مجھ سے تو وہ 5 سال بڑا تھا لیکن ہمارے درمیان ایک بوہت ہی دوستانی رویہ ہمیشہ رہا ہے اور ہم مذاق مذاق میں ایک دوسرے کی فرنچ کس بھی کر لیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ لوڑے ناپنے کا بھی مقابلہ لگا لیا کرتے تھے کیوں کے گہرے دوست ایسی چیزیں اکثر کیا کرتے ہیں. وہ کیا ہے نہ کے جہاں بھی گہری دوستی ہوتی ہے وہاں پھدی، گانڈ، ممے اور لوڑے کا ذکر تو سمجھو لازمی ہوتا ہے اور پھر یہاں تک ہی نہیں بلکے شغل بھی لگ جاتے ہیں کے جب تیری بیوی اے گی تو کیا ہو گا میں کیا کروں گا اور تو کیا کرے گا. حسن اکثر مجھ سے کہا کرتا تھا کے بیٹا میں تو تیرے سے 5 سال بڑا ہوں سو اگر کل کو تیری بیوی شادی کے بعد مجھ سے ملنے آی تو پیار دینے کے بہانے میںنے اسکی برا سٹریپ کو ہاتھ لگا دینا ہے کسی کو شک بھی نہیں پرانا اور میری موجیں وکھری لگی رہنی ہیں جواب میں میں اسے کہتا کے بیٹا جب تو اپنی بیوی کو سہاگ رات کو چودنے لگا ہو گا نہ تو تیری بیوی رونے لگ جائے گی پھر تو پوچھے گا کے جانو رو کیوں رہی ہو تو تیری بیوی بولے گی کے آج میری امی کی بددعا پوری ہو گے. تو حیران ہو کے پوچھے گا کے کونسی بددعا؟ تو تیری بیوی بولے گی کے میری ماں نے ایک دن غصّے مین کہا تھا کے جا تینو سور یین. ہاہاہاہ خیر بتانے کا مقصد یہ تھا کے کافی مذاق چلتا رہتا تھا ہمارے بیچ.

    پھر ہوا یوں کے ایک دن کافی انتظار کے بعد اسکی شادی ہو گے ارم کے ساتھ. ارم نے لاہور یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر کیا ہوا تھا اور شکل و صورت کے لحاظ سے بھی بوہت ہی اعلیٰ تھی اسکی عمر اس وقت کوئی 24 سال کی ہو گی جب اسکی شادی میرے کزن حسن کے ساتھ ہوئی اور تب حسن کی عمر 30 سال تھی یعنی ارم حسن سے کافی چھوٹی تھی اور سچ پوچھو تو ایک پری کی طرح لگتی تھی سب کو. خیر بارات کا فنکشن تھا اور ہر طرف ڈھول دھماکے پٹاخے اور رونق میلہ کہیں نازک انکھلی کلیاں اپنے حسن کے تابڑ توڑ حملے مردوں پے کر رہی تھیں تو کہیں مرد بھوکے شیر بنے لڑکیوں کونہار رہے تھے اور انکے سینے کا گوشت کھانے کو ترس رہے تھے کہیں نوجوان لڑکے اپنی اپنی بچیاں مل رہے تھے تو کہیں بچیاں لڑکوں کو دیکھ کے آپس میں کانا پھوسی کر رہی تھی اور میں بیچارہ اس سب سے تنگ کہیں کونے میں چپ کر کے یہ سب دیکھی جا رہا تھا کے میری نظر حسن پی پڑی جو کافی بیزار سا تھا دلہن کے ساتھ بیٹھے تو میں اسکے پاس چلا گیا اور پوچھا ہاں بھی کیا چل رہا ہے؟ وہ آنکھ کے اشارے سے لوڑے کی طرف دیکھ کے بولا یار کب فنکشن ختم ہونے ہیں؟ اور کب اس لالچی لن کو اپنی سہیلی سے ملنا نصیب ہونا؟ میں ہنس پڑا اور بولا یار جہاں اتنے سال صبر کر لیے وہاں کچھ گھنٹے اور کر لے بھائی بعد میں تیری ہی ہونی ہے کچھ وقت ہم غریبوں کو بھی دے کے دیکھ سکیں تیری حسین ٹھوکو کو یار. حسن ہنس پڑا . میں اب اسٹیج پے بیٹھا دودھ پلائی کا انتظار کر رہا تھا کیوں کے سب سے زیادہ مزہ مجھے اسی فنکشن میں آتا ہے جب نوجوان لڑکیاں جھک کے اپنے دودھ تھوڑے سے عیاں کر کے دولہے سے نقلی دودھ پینے کا کہتی ہیں. ہاے سچ پوچھو تو چس آ جاتی ہے نوخیز کلیوں کے ممے دیکھ کے کیوں کے اسٹیج پے بیٹھ کے ممے صاف نظر آتے ہیں. او ہو ایک بات تو بتانا بھول ہی گیا میں کے ارم کسی لگ رہی تھی؟ میں بھی نہ . خیر جناب ارم نے ڈارک ریڈ کلر کا کام والا سوٹ پہنا ہوا تھا جو کے آگے سے مموں کی لکیر کے بلکل اوپر تھا ور پیچھے سے بیک لیس تھا مطلب پیچھے گردن کا گھیرا کافی کھلا تھا اور اسکی نازک نازک سی پسلیاں اور دودھیا جسم صاف نظر آتا تھا. جب بھی وہ کسی بڑے کی بات سننے یا اپنی ٹانگ سیٹ کرنے کے لیے نیچے جھکتی اسکی لکیر اور ممے صاف نظر آنے لگ جاتے تھوڑے تھوڑے سے جسکو دیکھنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کے اس سوٹ کے نیچے برا نہیں پہنی تھی اسنے کیوں کے برا نظر نہیں آ رہی تھی اور ممے بھی بھرپور جوبن میں تھے اور مزے کا نظارہ دے رہے تھے.

    آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کے کیا کیسا لڑکا ہے کے شادی والے دن بھی اپنی بھابھی کو تاڑ رہا تھا؟ ارے جناب کیا کریں؟ یہ جو لن ہے نہ لن، انتہائی لن لینی کا واقع ہوا ہے یہ بہن چود تو کبھی کبھی اپنے پٹ کے ساتھ رگڑ کے بھی ہوشیاری میں آ جاتا ہے یہ کسی دوسرے کا کیا سگا ہو گا؟ اس ماں کے لوڑے کو کوئی تمیز نہیں ہوتی کے کون ماں ہے کوئی بہن ؟ اس بہن چود کا ایک ہی کام ہوتا ہے کے جہاں بھی ہلکی سی چوت کی خوشبو آی فورن دھی یوا اٹھ کے سلام کرتا ہے. میرے ساتھ بھی ایسا ہی تھا لاکھ سمجھے خود کوکے یار بہن سماں ہے ارم تو نہ دکھوں اسکی طرف لیکن مجال ہے جو لوڑے نے سانس لینے دی ہو؟ پھر لوڑے کے ہاتھوں مجبور ہو کے مجھے چسکا آنے لگ گیا اسکو دیکھ دیکھ کے. یار کیا بتاؤں وہ کوئی حور تھی یا جادوگرنی لیکن جو بھی تھی کمال تھی. ہر پل مسکراتا چہرہ نازک نازک بھرے بھرے ہونٹ سفید دانت گھنی پلکیں اور شرم و حیا سے نیچے جھکی ہوئی آنکھیں ایک قیامت کا سماں پیدا کر رہی تھی اور میرا جیسا حسن پرست شخص تو ایک جھٹکے کی مار تھا خوبصورتی کی . خیر پھر بارات روانہ ہوئی اور شادی بھی ہو گئی پھر وقت چلتا رہا اور ایک سال ہو گیا اور ایک چاند سی بیٹی ہو گئی انکی جسکا نام انہوں نے نیہا رکھ دیا. چوں کے میری فطرت کافی مذاقیہ قسم کی ہے تو میں کبھی کبھی بھابھی کے ساتھ شغل لگا لیا کرتا تھا لیکن کوئی گندا خیال کبھی بھی نہیں آیا تھا ہمارے بیچ. بھابھی کی مجھ سے بنتی بھی کافی تھی کیوں کے وہ بھی کافی جگتیں لگایا کرتی تھی اور کبھی کبھی تو ہم کافی گندی جگتیں بھی لگا لیا کرتے تھے ڈبل معنیٰ والی لیکن چلتا تھا کبھی غلط نیت نہ تھی . پہلے پہل تو سب کچھ ٹھیک چلتا رہا ان دونوں کے بیچ لیکن پھر ووہی شروع ہو گئے ہر گھر کے قومی مسلے. کبھی لڑائی کبھی روٹھنا کبھی منانا کبھی یہ کبھی وہ. پھر ایک دن تو حد ہی ہو گئی کے حسن نے تھپڑ دے مارا ارم کو اور اسکا ہونٹ پھٹ گیا اور وہ ناراض ہو کے اپنے گھر چلی گئی اور پھر کوئی مہینے بعد حسن اسکو منا کے لے آیا لیکن 4 مہینوں بعد پھر ووہی کام اور پھر تو تو میں میں سے بات بڑھتی بڑھتی مکوں تک پوھنچ گئی اور حسن نے کافی ٹکا کے پھینٹی لگائی ارم کی. مجھے بوہت دکھ تھا اس بات کا کیوں کے ارم بوہت ہی اچھی لڑکی تھی اور پڑھا لکھا ہونے کی وجہ سے امید نہیں تھی کے کوئی چول بات پی لڑائی ہوئی ہو گی. میں حسن سے تو بات نہیں کر سکتا تھا اس بارے میں کیوں کے کوئی بھی پسند نہیں کرتا اپنی پرسنل زندگی میں کسی کی شمولیت کو.

    خیر کافی سوچنے کے بعد مینے ارم کو وٹس ایپ پے مسیج کیا کے یار سن کے کافی دکھ ہوا اس بارے میں. وہ بولی کے چھوڑو اسے میرے نصیب ہی شاید ایسے ہیں یا پتا نہیں ہر لڑکی کی قسمت میں دھکے ہی لکھی ھوتے ہیں خیر اپنا اپنا نصیب. تم اپنی سناؤ؟ میں بولا یار مجھے سمجھ نہیں آ رہی کے ایسا کیوں ہو رہا ہی تم دونوں کی تو آپس میں کافی بنتی تھی اور بات چیت بھی ٹھیک تھی تو وہ بولی زین صاحب کچھ باتیں بوہت گہری ہیں کبھی مل کے ضرور بتاؤں گی. میں بولا مجھے انتظار رہے گا گر میں ہیلپ کر سکا تو ضرور کروں گا. پھر میں بولا کے نیہا کیسی ہے بوہت دل کر رہا تھا اس سے ملنے کو ارم بولی کے آ جاؤ مل لو مینے کونسا منا کیا ہے؟ میں بولا یار حسن کیا سوچے گا کے میں غیر موجودگی میں تم سے اسکے خلاف باتیں کرتا ہوں؟ وہ ہنس پڑی اور بولی زین تم کبھی بھی کسی کی سوچ کو تبدیل نہیں کر سکتے ہو نہ کسی کی فطرت کو سو آرام سے اپنی زندگی جیو اور چل کرو اور کل سب گھر والے میلاد پی جا رہے ہیں لیکن نیہا کی طبیعت نہیں ٹھیک تو میں گھر پی ہی ہوں تم آ جانا میرا بھی دل لگا رہے گا اور نیہا بھی خوش ہو جائے گی. میں بولا ٹھیک ہے میں کل دوپہر تک لاہور آ جاؤں گا پھر ضرور ملوں گا آپ سے .

    اگلے دن میں اسکے گھر چلا گیا دروازہ اسی نے ہی کھولا تھا اور ہاتھ ملا کے بولی اندر آ جا کوئی بھی نہیں ہے میں ہنس کے ایک آنکھ اوپر اٹھا کے بولا اسے میں آفر سمجھوں یا وارننگ؟ وہ بھی ہنس کے بولی دیکھ کتنا خوش نصیب ہے نہ کے لڑکی خود اندر بلا رہی ہے واہ اور آنکھ مار کے ہنس کے بولی اب آبھی جاؤ نہ. میں بھی ہنس کے اندر چلا گیا اندر جب میں نیہا کو اٹھا کے پیار کر رہا تھا تو ارم نے میرے پیٹ پی تھپڑ مار کے بولی اسکا کچھ کرو باہر آ کے لمبا ہی ہوتا جا رہا ہے (اسکا اشارہ میرے تھوڑے سے باہر آئے پیٹ کی طرف تھا) میں جان بوجھ کے نیچے پیٹ اور لوڑے کی طرف دیکھ کے بولا کے کسکا؟ جب اسے بات سمجھ آیی تو اونچا اونچا ہنس پڑی اور بولی تم بھی نہیں تحفہ ہی ہو. وہ ہنستے ہوۓ بلکل ایک ننھی سی بچی لگ رہی تھی میں بولا یار اسی طرح ہنستی رہا کرو بفت اچھی لگتی ہو. ارم کا موں بن گیا اور بولی جسکو اچھی لگنی چاہیے اسکو تو میں آجکل زہر لگ رہی ہوں اور آنکھوں میں ہلکا ہلکا پانی سا آ گیا میں بولا رونا نہیں رونا نہیں تم بہادر لڑکی ہو میرے کہنے کی دیر ہی تھی کے وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگ گئی اور کھڑی کھڑی سہارا تلاش کرنے لگ گئی تو میںنے اسے ہلکا سا پنے کندھے سے لگا لیا اور وہ میرے کندھے کے اوپر رونے لگ گئی مینے جان بوجھ کے چپ کروانے کے لیے اسکو کہا کے یار اب بس کرو میری ١٥٠٠ والی شرٹ کا ستیا ناس کر رہی ہو اپنے آنسو سے. وہ ہنس پڑی اور صوفہ پے بیٹھ گئی میں بھی ساتھ ہی بیٹھ گیا نیہا اب سو گئی تھی تو اسے ساتھ پڑے بیڈ پے لٹا دیا اور بولا اچھا بتاؤ کیا ہوا؟ وہ کچھ تذبذب کا شکار لگ رہی تھی تو میں اسکا ہاتھ پکڑ کے بولا کے یقین کرو میرا جو کچھ بھی ہو گا ہم دونوں کے بیچ ہو گا ور میں جہاں تک ہو سکا تمہاری مدد ضرور کروں گا. اسنے بھی اپنا ایک ہاتھ میرے ہاتھ پی رکھ دیا جو کے اشارہ تھا کے اسے میری بات پے یقین ہے. میںنے ہاتھ چھوڑ کے کہا اچھا بتاؤ کیا ہوا؟ وہ بولی کے یار پتا نہیں کیا ہو گیا ہے حسن کو عجیب سا وحشی ہو گیا ہے اور مجھے شق ہوا کے وہ کسی اور لڑکی سے بھی بات کرتے ہے تو میں اس سے پوچھ بیٹھی اور اسنے انکار کر دیا پھر ایک دن اسکو کال آ رہی تھی تو مینے اٹھا لی تو وہ کوئی لڑکی تھی میں ابھی بات کر ہی رہی تھی کے حسن آ گیا اور مجھے مارنے لگ گیا مجھے بھی غصّہ آ گیا تو بولی کے دکھا اپنی مردانگی اور مار جتنا مار سکتا ہے تو اسنے پاس پڑے وائپر سے مجھے مارا اور رو پڑی اور میری طرف پیٹھ کر کے پیچھے سے اپنی قمیض اٹھائی کندھے تک اور کہا دیکھو یہ نیل میرے. میں زخم پی لن فوکس کرتا جب پیچھے سے ہلکی سی گانڈ کی لکیر نظر آ رہی ہو اور شفاف بنا بالوں والی گانڈ پی ہلکا ہلکا سا کالا انڈرویر بھی نظر آ رہا ہو اور اوپر سے سفید کلر والی برا کا ہک اور سٹریپ بھی نظر آ رہی ہوں؟ میں دیکھ کے بولا کے ہاں زخم تو کافی گہرا ہے وہ بولی ہاتھ لگا کے دیکھو کتنا سوجا ہوا ہے میرے ہاتھ لگانے کی دیر ہی تھی کے لوڑے راجہ نے بھی انگڑائی لے کے ماحول کا نظارہ لیا اور ٹٹے شریف بھی حرکت میں آ گئے بوہت سمجھایا کے بہن چود میں یہاں اسکا دکھ بانٹنے ایا ہوں لیکن گانڈ کی لکیر ہو اور نازک کومل جسم کا لمس اور میرا لوڑا بیٹھ جائے؟ لو جی یہ تو نا ممکن سی بات ہے. مرے اولمپکس میں گولڈ مڈل جیتنے کے امکان اس سے زیادہ ہیں کے حسین لڑکی کی گانڈ دیکھ کے میرا لوڑا بیٹھ جائے. آخر رہا نہ میں ٹھرکی کا ٹھرکی.

    میں بولا ٹھیک ہے اور اسنے قمیض نیچے کر دی اتنے میں نیہا بھی اٹھ گئی اور ارم نے گود میں لٹا کے اپنی قمیض تھوڑی اوپر کی اور اپنے برا کی نپل سے ذرا سے اوپر ایک کپڑے کو پکڑا اور اسے ہلکا سا کھینچا تو نپل والی جگہ سے انکا چھوٹا سا پنک رنگ کا نپل باہر آ گیا اور نیہا نے اسے لپک کے موں میں لے لیا اور چوسنا سٹارٹ ہو گئی جب کے میں حیران ہو کے نپل دیکھی جا رہا تھا اور سوچ رہا تھا کے بہن چود یہ کیا سسٹم ہے کے ارم نے پھٹا ہوا برا پہنا ہوا ہے کیوں کے ممے والی جگہ سے برا کا کپڑا نیچے لٹکا ہوا تھا اور مما باہر تھا. ارم شاید بھانپ گئی اس بات کو اور بولی کے یہ اسپیشل ہوتا ہے دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے (کیوں کے بھی نیہا کا ہم عمر ہی تھا تو اس عمر میں لڑکے لڑکے ایک دوسرے سے ایسی بات کر لیتے ہیں شاید مچوریٹی کی وجہ سے). میں کچھ شرمندہ سا ہو گیا اسکے موں سے یہ سن کے لیکن دل میں شدید خواہش ابھری کے کاش میں نیہا کی جگہ لیتا ہوتا اور ایسے زور زور سے مست انداز میں تمہارے نپلے چوستا کے تمہیں اپنا دودھ بھول جاتا اور چھٹی کا دودھ یاد آ جاتا.

    پھر وہ خود ہی بولی کے شروع میں زندگی بوہت حسین تھی اور سب ٹھیک تھا حسن بھی بوہت ٹائم دیتے تھے مجھے اور روز مجھے کچھ نہ کچھ گفٹ یا کھانے کی چیز لا کے دیتے تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ سب تبدیل ہوتا گیا اور اب یہ نوبت آ گئی ہے. میں نے بلا جھجھک اس سے پوچھا کے سیکس لائف کسی تھی؟ پہلے تو وہ کچھ حیران ہوئی اور عجیب نظروں سے مجھے ایسے گھورا شاید میںنے کہ دیا کے باجی باہر بارش ہو رہی ہے تو اپنی پھدی ادھار دینا میںنے چھتری کا کام لینا ہے، لیکن میں کافی سیریس تھا تو شاید وہ سمجھی کے میں اچھے انداز میں پوچھ رہا ہوں گا تو بولی کافی ٹھیک تھی. میں بولا "تھی"؟ وہ بولی دفا کرو . میں بولا دیکھو میں کافی بکس پڑھ چکا ہوں سیکس کے بڑے میں اور انسانی رویہ کے بارے میں اور کچھ سائیکالوجی بھی پڑھ چکا ہوں تو شاید میں تمہاری مدد کر سکوں اگر تم کھل کے بتا دو تو. وہ کچھ سوچ کے بولی کے یار کیا بتاؤں؟ پہلے پہل سب ٹھیک تھا ہم کافی ایکٹو تھے سیکس میں اور جب بھی ٹائم ملتا تھا رومانس کر لیا کرتے تھے لیکن آہستہ آہستہ گھر کے کاموں میں مصروف ہوتی گئی اور رومانس کم ہوتا گیا. میں سن کے بولا کے یار کچھ باتیں ہیں جو میں کہنا چاہوں گا تمہیں جو مجے لگتا ہے کے پاکستانی لڑکیوں میں پائی جاتی ہیں جنکا علاج ہونا چاہیے. وہ بولی اچھا فلاسفر صاحب بتائیں پھر! میں بولا
    پہلی بات تو یہ ہے ہماری دیسی لڑکیاں ویسے تو ساتھ والے تندور پے روٹی لگوانے بھی جانا ہو تو سج دھج کے جاتی ہیں لیکن جب بات آتی ہے شوہر کی تو معاملا کچھ یوں ہو جاتا ہے " جب کبھی میاں نے رومانس کے لیے بیوی کو پاس بلایا تو جناب یہ حال ہوتا ہے کے بیوی کے بالوں سے سوکھے دھنیے کی خوشبو ، بغلوں سے بناس پتی گھی اور پسینے کی ملی جلی دماغ پھاڑ بدبو، بوبز میں سے ادرک، پیاز، کلونجی، اچار اور پسینے کے ساتھ ساتھ دھویں کی خوشبو اور نیچے چوت کے پاس سے پیشاب کی خوشبو آ رہی ہوتی ہے. اب میاں یہاں لن کرے؟ آخر اس نے رومانس کرنا ہے کوئی دیسی چکن جلفریزی نہیں ٹیسٹ کرنی. سارا دن میاں سجی دھجی سوہنی سوہنی کڑیاں دیکھ کے جب آنکھوں کی آگ بھجانے کے لیے بیوی کے جسم کا راستہ اپناتا ہے تو وہاں تو راستہ کچھ ہوتا نہیں بلکے کھنڈر ہوتا ہے کبھی کبھی تو جھووں کے بال بھی پسینے کی وجہ سے ایسے مڑے ہوتے ہیں جیسے غریب کی گانڈ میں مہنگائی کا لوڑا !!
    دوسرا مجال ہے جو کبھی لڑکی نے کھل کے بتایا ہو اپنے شوھر کو کے مجھے کیا پسند ہے کیا نہیں کب سیکس ہونا چاہیے کب موڈ نہیں ہیں سیکس میں کیا کیا پسند ہے اور کیا کیا نہیں. کب لڑکی کا دل کر رہا ہوتا ہے کے اسکی چوت کی پیاس بجھائی جائے لیکن قسم ہے جو کبھی لڑکی بتا دے کبھی. یار تم لوگ بتا دیا کرو کھل کے بتایا کرو نہ کیوں کے سیکس پی تمہارا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا مردوں کا. اور تو اور اگر غلطی سے موڈ بن جائے اور سیکس ہو بھی جائے تو مجال ہے لڑکی کو کے آگے سے کوئی رسپانس دے جائے سالا یہاں بندہ روشنی میں بیوی چود رہا ہوتا ہے اور وہاں لڑکی کبھی آنکھوں پی ہاتھ رکھ لیتی ہے کبھی شرما کے موں سائیڈ پی کر لیتی ہے کبھی جالے دیکھنے لگ جاتی ہے تو کبھی فضول باتیں کرنے لگ جاتی ہے . او باجی جب لن پھدی میں لے لیا اور اسکی منی چوت کی گہرائیوں میں ہضم کر لی تو شرم کیسی؟ کیوں نہیں کھل کے سیکس کا مزہ لیتی؟
    تیسرا یہ کے باہر کی لڑکیاں جب بھی سیکس کروانا چاہتی ہیں تو کہتی ہیں کے جانو آج نیچے کچھ ہو رہا ہے یا آج کچھ مزہ کرنے کا موڈ ہے لیکن پاکستان میں بھلا کیسے لڑکیاں سیکس کی آفر کرتی ہیں؟ "وہ جی پرسوں سے بالوں میں تیل لگایا ہوا ہے اور آج منے نے بھی کپڑوں پے پیشاب کر دیا ہے تو نہانا تو ہے ہی کل تو کیوں نہ آج کر لیں ؟؟ لودسو ہن بندہ کرے تے کرے کی؟ مطلب جب نہانے کے قابل ہو جانا ہے تو تب سیکس کی آفر کرنی ہے مطلب بندہ ناک بند کر کے سیکس کرے؟ سیکس کرنا ہے یا جنگ؟؟ اور پھر فرنچ کس کرتے وقت جناب موں میں سے دودھ دہی سالن لسی اور پتا نہیں کہاں کہاں کی خوشبو آ رہی ہوتی ہے بندہ پوچھے کے کس کرنے کا مطلب ہوتا ہے سیکس کا سواد آنا نہ کے کھانے کا.

    میری باتیں سن کے ارم دور خلا میں سوچ رہی تھی جیسے میں ہر لڑکی کی نہیں بلکے اسی کی کہانی سنا رہا ہوں. وہ سر ہلا کے بولی فلاسفر صاحب لگتا کافی گہرا تجزیہ کیا ہوا ہے آپ نے سیکس کے بارے میں لیکن کچھ چیزیں لڑکے بھی غلط کرتے ہیں.

    جاری ہے................ دوستوں آپ لوگوں کے تھینکس اور کمنٹس میرے لیے آکسیجن کا کام کرتے ہیں یقین مانو نئی روح پڑ جاتی ہے مجھ میں. شکریہ خوش رھیں.

  2. The Following 28 Users Say Thank You to Sexeria For This Useful Post:

    85sexy85 (06-01-2017), abba (04-01-2017), abkhan_70 (04-01-2017), Admin (04-01-2017), aloneboy86 (05-01-2017), anjumshahzad (10-01-2017), arman724 (04-01-2017), asiminf (04-01-2017), chqasim (04-01-2017), Danish ch (04-01-2017), darkhorse (04-01-2017), ghulammustafamemon (15-01-2017), imran imra (10-01-2017), irfanbehalvi (04-05-2017), katita (28-01-2017), Khushi25 (15-01-2017), mayach (04-01-2017), mbilal_1 (09-01-2017), panjabikhan (06-05-2017), ruldguld123 (05-05-2017), saamrocky (04-01-2017), sameer04 (07-01-2017), saqi870 (04-01-2017), sexeymoon (04-01-2017), suhail502 (04-01-2017), WickedJoker (28-01-2017), Woodman (07-01-2017), ZEESHAN001 (12-07-2017)

  3. #2
    Join Date
    Jan 2008
    Location
    In Your Heart
    Posts
    3,485
    Thanks
    2,287
    Thanked 10,340 Times in 1,793 Posts
    Time Online
    1 Week 2 Days 23 Hours 2 Minutes 15 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 41 Seconds
    Rep Power
    3180

    Default

    zaberdast start lia hai. keep it up

  4. The Following 7 Users Say Thank You to Admin For This Useful Post:

    85sexy85 (06-01-2017), abba (04-01-2017), abkhan_70 (04-01-2017), Danish ch (04-01-2017), ruldguld123 (05-05-2017), Sexeria (05-01-2017), suhail502 (04-01-2017)

  5. #3
    CrazyCupid's Avatar
    CrazyCupid is offline Premium Member
    Join Date
    Nov 2009
    Location
    Lahore
    Posts
    385
    Thanks
    1,422
    Thanked 1,626 Times in 337 Posts
    Time Online
    4 Days 5 Hours 32 Minutes 18 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 50 Seconds
    Rep Power
    712

    Default

    حقیقت سے قریب تر اور بہت اچھا لکھ رہے ہو دوست۔ اگلی اپڈیٹ کا انتظار رہے گا۔

  6. The Following 8 Users Say Thank You to CrazyCupid For This Useful Post:

    85sexy85 (06-01-2017), abba (04-01-2017), abkhan_70 (04-01-2017), asiminf (04-01-2017), ruldguld123 (05-05-2017), Sexeria (05-01-2017), suhail502 (04-01-2017), WickedJoker (28-01-2017)

  7. #4
    saamrocky's Avatar
    saamrocky is offline Premium Member
    Join Date
    Feb 2013
    Location
    Pakistan
    Age
    28
    Posts
    78
    Thanks
    112
    Thanked 92 Times in 47 Posts
    Time Online
    4 Days 7 Hours 7 Minutes 59 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 33 Seconds
    Rep Power
    13

    Default

    kamal ka start hai update ka intazar rahe ga

  8. The Following 6 Users Say Thank You to saamrocky For This Useful Post:

    85sexy85 (06-01-2017), abba (04-01-2017), abkhan_70 (04-01-2017), ruldguld123 (05-05-2017), Sexeria (05-01-2017), suhail502 (04-01-2017)

  9. #5
    abba's Avatar
    abba is offline Premium Member
    Join Date
    Apr 2009
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    33
    Posts
    932
    Thanks
    15,109
    Thanked 2,432 Times in 790 Posts
    Time Online
    1 Week 17 Hours 57 Minutes 14 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 12 Seconds
    Rep Power
    175

    Default

    Bot he kamal ka start liye ha
    zabardast

  10. The Following 6 Users Say Thank You to abba For This Useful Post:

    85sexy85 (06-01-2017), abkhan_70 (04-01-2017), anjumshahzad (09-06-2017), ruldguld123 (05-05-2017), Sexeria (05-01-2017), suhail502 (04-01-2017)

  11. #6
    suhail502's Avatar
    suhail502 is offline Premium Member
    Join Date
    Nov 2008
    Location
    Mainchannu
    Age
    30
    Posts
    2,445
    Thanks
    17,260
    Thanked 9,527 Times in 2,277 Posts
    Time Online
    1 Week 4 Days 4 Hours 38 Minutes 33 Seconds
    Avg. Time Online
    7 Minutes 31 Seconds
    Rep Power
    1105

    Default

    امید کرتا ہوں کے فارم کی اچھی کولیکشن میں ایک اور اچھا آزفہ ۔ آغاز تو کافی مست ہے۔ ٹیکسٹ اپڈیٹ کا شدت سے انتظار رہی گا۔

  12. The Following 4 Users Say Thank You to suhail502 For This Useful Post:

    85sexy85 (06-01-2017), abkhan_70 (04-01-2017), ruldguld123 (05-05-2017), Sexeria (05-01-2017)

  13. #7
    saqi870 is offline Premium Member
    Join Date
    Jan 2012
    Posts
    87
    Thanks
    193
    Thanked 163 Times in 70 Posts
    Time Online
    5 Days 19 Hours 57 Minutes 12 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 56 Seconds
    Rep Power
    15

    Default

    Kahani to bohot shandar hai.lkn talafaz py thora dehan dain.baqi kahani lajawab hai.parh k maza aya.please keep it up

  14. The Following 3 Users Say Thank You to saqi870 For This Useful Post:

    85sexy85 (06-01-2017), ruldguld123 (05-05-2017), Sexeria (05-01-2017)

  15. #8
    darkhorse's Avatar
    darkhorse is offline Premium Member
    Join Date
    Sep 2012
    Posts
    59
    Thanks
    217
    Thanked 274 Times in 43 Posts
    Time Online
    4 Days 10 Hours 34 Minutes 48 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 24 Seconds
    Rep Power
    12

    Default

    کمال کر دیا بھائی ... بہت ہی شاندار آغاز ہے . اپ ڈیٹ کا انتظار رہے گا

  16. The Following 4 Users Say Thank You to darkhorse For This Useful Post:

    85sexy85 (06-01-2017), ruldguld123 (05-05-2017), Sexeria (05-01-2017), WickedJoker (28-01-2017)

  17. #9
    chqasim is offline Aam log
    Join Date
    Nov 2011
    Age
    28
    Posts
    8
    Thanks
    115
    Thanked 26 Times in 8 Posts
    Time Online
    4 Days 3 Hours 27 Minutes 30 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 47 Seconds
    Rep Power
    8

    Default

    bohat aaalla

  18. The Following 3 Users Say Thank You to chqasim For This Useful Post:

    85sexy85 (06-01-2017), ruldguld123 (05-05-2017), Sexeria (05-01-2017)

  19. #10
    Sexeria's Avatar
    Sexeria is offline Minister
    Join Date
    Oct 2016
    Location
    Lahore
    Age
    25
    Posts
    590
    Thanks
    1,477
    Thanked 3,164 Times in 507 Posts
    Time Online
    4 Days 16 Hours 57 Minutes 50 Seconds
    Avg. Time Online
    17 Minutes 16 Seconds
    Rep Power
    1008

    Arrow پارٹ 2/3

    پارٹ 2

    میں بولا ہاں بلکل میں مانتا ہوں کے سارا دوش لڑکیوں کا ہی نہیں ہوتا تو ارم بولی کے اب میں تمہیں بتاتی ہوں لڑکیوں کے کچھ دکھ درد کچھ صبر اور کچھ تلخ حقیقتیں. وو بھی یوں ہی ہیں زین !!!

    پہلی بات تو یہ ہے کے چلو مان لیا ہم سیکس کرواتے وقت سبزی مندی یا غلہ منڈی بنی ہوتی ہیں یا ہم پسینے میں نہائی ہوتی ہیں لیکن ایک بات بتاؤ یہ سب کس لیے ہے؟ کیا یہ سب اپنے شوھر اور اپنے گھرانے کی خوشی کے لیے نہیں کرتی ہیں کے ہمارے شوھر اور بچے اچھا سکون اور آرام پا سکیں؟ کیا ہمارا دل نہیں کرتا کے ہم بھی کبھی اپنی آنکھوں میں کبھی اپنی چوت میں سرمہ لگایں یا اپنی گانڈ آرام آرام سے کرسی پے ٹکایئں؟ لیکن نہیں ہم پھر بھی اپنے گھرانے کے لیے قربانی دیتی ہیں.

    دوسری بات یہ ہے کے چلو یہ بھی مان لیا لڑکے بوہت ایکٹو ھوتے ہیں سیکس میں بانسبت لڑکیوں کے لیکن ایک بات تو بتاؤ کیا کوئی لڑکا نارمل سوچے گا اپنی بیوی کے موں سے یہ سن کے کے جانو آج میری گانڈ میں کھجلی ہو رہی ہے ذرا کھجاو نا اپنے لوڑے سے یا جانو پتا نہیں کیوں چوت سے پانی بہ رہا ہے شاید لیک ہو رہی ہے تو کوئی چوت بند ڈالو نہ. یا میں یوں کہوں کے شوھر گھر آئے اور میں اپنی گانڈ اسکے لوڑے کے ساتھ رگڑنا شروع کر دوں یا آتے جاتے چھپکے سے اسکا لوڑا مٹھی میں قابو کر لوں اور ھونٹوں پی دندی کاٹ جاؤں یا پھر یوں ہو کے میرا شوھر آفس بیٹھا ہو اور میں اسے فون کر کے کہوں کے جانو میری پھدی بوہت یاد کر رہی تھی تمہیں مینے اسکے ھونٹوں پے انگلی رکھ کے چپ ہونے کا بھی کہا ہے لیکن پتا نہیں کیوں آنسو نکل رہے ہیں اس میں سے تم آ جاؤ نہ (بھابھی کی اتنی سیکس اجاگر کرنے والی باتیں سن کے میرا لوڑا سائیں جھومنے لگ پڑا تھا لیکن میں ٹانگوں میں دبا کے بیٹھا تھا)
    بھابھی بولی تو کیا تم مرد لوگ فورن یہ نہیں سوچو گے کے بہن چود ایسی باتیں کر رہی ہے ضرور جوانی میں گشتی رہی ہو گی مادر چود لڑکی ہے یہ کسی پھدی میں لن لینے کی باتیں کرتی ہے ضرور یونیورسٹی میں لوڑے کا ناشتہ ٹٹوں کا ڈنر اور منی کا لنچ کرتی رہی ہو گی. (بات تو بھابھی کی بلکل ٹھیک تھی کیوں کے واقعی ہم مرد ایسی ہی سوچیں گے اگر لڑکیاں کھل کے سیکس کی باتیں کرنا شروع ہو جائیں تو). میں بات کاٹتے ہوۓ بولا کے بھابھی ایسا ضروری نہیں ہے کے ہر مرد ایسا ہی سوچے آخر سیل تو شوھر نے ہی کھولی ہو گے نہ تو اسے پتا تو ہو گا کے بیوی کنواری ہے. بھابھی نے طنزیہ نگاہوں سے میری آنکھوں میں دیکھ کے کہا کے واقعی لڑکا نہیں سوچے گا؟ ہاہاہا جانے دو زین وہ پہلی فرصت میں یہ ہی سوچے گا کے چلو پھدی نہ سہی لیکن ممے اور گانڈ ضرور مروائی ہو گی اس لڑکی نے. (مرے پاس جواب نہ تھا ).

    تیسری بات زین صاحب یہ ہے کے ہم بیچاری لڑکیوں کے پاس صرف رات کا ہی ٹائم ہوتا ہے اپنے دل کی باتیں اپنے محبوب (شوہر) سے کرنے کے لیے کیوں کے سارا دن دنیاوی کاموں میں گزر جاتا ہے سو آدھی رات کا وقت ہی بچتا ہے ہمارے پاس لیکن کیسا ستم ہے نہ کے رات کے وقت مرد حضرات سیکس کرتے ہیں اور سیکس کے بعد فورن سو جاتے ہیں لیکن ہم بیچاری لڑکیاں اپنے دل کی بات، اپنے جذبات، دماغ کے خیالات کو الفاظ کی زبان نہیں دے سکتے اور افسردہ نگاہوں سے اپنے غم جان سوئے ہوۓ محبوب کو دیکھ رہی ہوتی ہیں کے کاش وہ آدھ گھنٹہ ہی جاگ کے ہمارے سینے کے راز سن سکتا لیکن نہیں مرد تو سو جاتے ہیں اور ہم دل کی بات دل تک ہی قید کر لیتے ہیں اور تشنگی کو اپنی ذات کا حصّہ بنا لیتے ہیں کاش کوئی مرد صرف غائبانہ نظروں سے یہ ہی دیکھ لے کے ہم بیچاری لڑکیاں کیسے نیند سے بوجھل اور جذبات میں گوندھی ہوئی آنکھوں سے انکا چہرہ تک رہی ہوتی ہیں کے شاید جاگ کے کچھ پل آنکھوں کے راستے، جذبات کے واسطے میٹھی باتیں ہی کر لے اور پھر تم جیسے مرد شکوہ کرتے ہیں کے لڑکیاں اپنے دل کی بات نہیں بتاتی. کیسا ستم ہے نہ یہ کے سہیں بھی ہم ہی اور الزام بھی ہم ہی اپنے سر لے لیں.

    چوتھی بات زین میں یہ جو عورت ذات ہوتی ہے عورت ذات! یہ بوہت خالص مٹی کی گوندھی ہوئی ہوتی ہے جس کو گوندھا صبر کے پانی سے جاتا ہے یہ جب برداشت کرنے پے آ جائے نہ تو پھر جان بھی چپ چاپ دے دیتی ہے. ہر لڑکی کے سیکس کے حوالے سے بوہت سے خواب ھوتے ہیں اور شادی سے پہلے رات کی تنہائی میں اکیلے بیڈ پے تکیے کو سینے کے ساتھ بھیچ کے وہ ان خوابوں کے بارے میں بوہت سوچتی ہے اور دعائیں مانگتی ہے کے کوئی جادو ہو جائے اور میرے ہونے والے شوھر کو یہ باتیں خود ہی پتا لگ جائیں اور وہ میرے دماغ سے بالاتر چود دے مجھے اور اپنی بانہوں میں لے کے قطرہ قطرہ پگھلائے کبھی جذبات کے زور سے تو کبھی باتوں کی گرمی سے کبھی سانسوں کے طاقت سے تو کبھی جسم کی آزمائش سے . یقین مانو ہر لڑکی کا خواب ہوتا ہے کے لڑکا اسکو اتنی شدت سے چودے کے لڑکی کا انگ انگ محبت کی گواہی دے لڑکی کا دل ہوتا ہے کے لڑکا باہر والوں کی نظر میں جتنا بھی شریف ہو لیکن بیوی کے پاس جاتے ہی وہ حرامی شیطان بن جائے جو بیوی کو لاڈلی کتیا سمجھے اور اچھا مالک بن کے اپنی بیوی کو ایک نوکرانی سمجھے اور یہ سوچ کے چدائی کرے کے آج گانڈ اور پھدی کا سوراخ ایک ساتھ ملا ڈان گا لڑکی کو اس درندگی کے ساتھ چودے کے لڑکی کے ہوش اڑ جائیں تو تب زین صاحب لڑکی خوش ہوتی ہے لیکن اگر وہ یہ بات شوھر کو بتا دے تو مسلہ خراب ہو جاتا ہے جناب تم سمجھ رہے ہو نہ. میں کچھ بولنے ہی لگا تھا کے بھابھی نے آنکھوں سے اشارہ میرے لوڑے کی طرف کر کے کہا کے کچھ زیادہ ہی سمجھ گئے ہو. جب میںنے نیچے دیکھا تو تب مجھے احساس ہوا کے کڑی یوا میرا لوڑا کھڑا ہو کے میری پینٹ کی جیب میں سے ہوتا ہوا ایک سائیڈ پے کھڑا تھا اور صاف پتا چل رہا تھا کیوں کے ابھار صاف ظاہر تھا. میں بولا کے یار تم تفصیل ہی کچھ اس طرح بیان کر رہی تھی کے اندر کا لاوا پکنے لگ گیا. ارم ہنس پڑی اور بولی کے ابھی تو بتانا شروع کیا ہے جانی جب پورا افسانہ سنا دیا تو جل کے راکھ ہو جو گے.

    میں بولا ارے اگر آگ آپ جیسی ہو تو یہ پروانہ ہر لمحہ جلنے کو تیار ہے بس آگ کی نگاہے کرم چاہیے. ارم ہنس پڑی اور بولی کے زین صاحب شاعری بھی کرتے ہیں میں بولا گہری حقیقت بیان کرتا ہوں لوگ شاعر کہ دیتے ہیں. پھر ارم بولی کے اچھا یار میری ہیلپ تو کردو اب کے کیا کیا جائے اس حالت میں؟ میں بولا کے یار کچھ چیزیں ہیں جو تمہاری مدد کر سکتی ہیں بلکے ہر لڑکی کو یہ جان لینا چاہیے وہ بولی بتاؤ.
    پہلی بات تو یہ ہے کے مرد بنیادی طور پی سیکس کا بھوکا ہوتا ہے کیوں کے عام بھوک کی طرح سیکس کی بھی بھوک ہوتی ہے جسکو مٹانا بوہت ضروری ہوتا ہے مرد کے لیے اگر آپ کسی بھی بڑے مصنف کی باتیں دیکھ لیں تو سیکس کو باقاعدہ ایک بنیادی بھوک کا درجہ دیا گیا ہے سو لڑکیوں کو چاہیے کے گھر کے کام اپنی جگہ لیکن مرد کو بھی پروپر ٹائم دینا چاہیے اور اسکے بیڈ اور جذبات کو خوبصورت بنایا جائے کیوں کے جب بھوک گھر سے نہیں مٹ پاتی تو ہر انسان باہر موں مارتا ہے اور اسی وجہ سے مرد بیوفائی کرتے ہیں . سو کوشش کرو کے رات کو کچھ اچھی باتیں کرو سیکس سے پہلے اور کبھی بھی لڑائی اور غصہ والی بات نہ کرو ورنہ سیکس لائف خراب ہو جائے گی.

    دوسری بات یہ ہے کے پرفیوم یا باڈی سپرے کا استمعال ضرور کیا کرو بیڈ پی جانے سے پہلے کیوں کے سیکس کا اور خوشبو کا بوہت گہرا اور پیچیدہ تعلق ہوتا ہے جہاں لوڑا پھدی کا راستہ کھولتا ہے وہاں خوشبو رومانس کا راستہ کھولتی ہے سو کوشش کرو کے موں دھو کے یا خوشبو لگا کے پیار بھری باتیں کرو سیکس سے پہلے تا کے تم دونوں اچھے طریقے سے سیکس کا مزہ لے سکو اور ایک اچھی زندگی گزار سکو.

    تیسرا یہ ہے کے آدھی رات کا وقت بوہت ہی خالص ہوتا ہے جذبات کے اظہار کے لیے کیوں کےآدھی رات سے پہلے مرد کو سیکس کی بھوک سوار ہوتی ہے اور اسکے دماغ پے سیکس کا بھوت سوار ہوتا ہے سو وہ کسی اور بات پے توجہ نہیں دیتا اور کوشش کرتا ہے کے جلد از جلد لوڑے راجہ کو پھدی کا دیدار ہو اور پھر چھپا چھپ منی کی برسات ہو تو لڑکیوں کو چاہیے کے جو بھی بات منوانی ہو وہ سیکس کے بعد ہی کی جائے کیوں کے جب سیکس کر لو تو بعد میں کوئی لالچ نہیں بچتا اور سارے جذبات اور باتیں بلکل شفاف اور درست ہوتی ہیں سو سیکس کے بعد کھل کے دل کی باتیں کی جائیں اور ہاں ایک بات اور بھی ہے کے سیکس اور پھدی ایک بوہت نایاب تحفہ ہے تم لڑکیوں کو چاہیے کے اسکی قدر کرواؤ کیوں کے جو چیز جتنی نخروں سے ملے اتنی ہی قدر ہوتی ہے سو کوشش کرو کے اتنی آرام سے پھدی نہ دو بلکے ہلکا ہلکا ترساؤ اپنی چوت کی جھلک دکھانے کو اور مرد کو مجبور کرو کے وہ سیکس کو ایک تحفہ سمجھ کے قبول کرے نہ کے اپنی ملکیت. سو اس طرح کیا کرو کے سیکس کے بار اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر کے اسے اپنی چاہتوں اپنی باتوں اپنے الفاظ اور لہجے کا یقین دلاواور کھل کے سیکس سے لے کے گھر کی باتوں تک سب ڈسکس کرو اور اسکا رسپانس بھی لو اس وقت مرد صرف اور صرف تمہارا غلام ہوتا ہے ارے تم لڑکیاں کو سیکس استمعال کرنا نہی آتا دیکھو کے تاریخ بھری پڑی ہے اس پھدی کے کارناموں سے کے کیسے دنیا کے بڑے بڑے فاتح عظیم ایک چوت کی گہری میں جان دے بیٹھے اور کیسے اپنا سب کچھ اس پھدی پے لٹا دیا کیوں کے ان لڑکیوں کو پھدی کے زور پے بادشاہوں کو اپنا رام کرنا آتا تھا اور انکا استمعال ترپ کے پتے کی طرح کیا گیا اور جیت لڑکیوں کو ہوئی میں نہیں کہ رہا کے تم مرد کو قابو کرنے کے لیے اپنی دہکتی چوت کا استمعال کرو بلکے اسکا استمعال دونوں میاں بیوی کے باہمی مفاد کے لیے کرو . سمجھی کیا؟

    ارم کو میری بات لگتا بوہت ہی بھا گئی تھی اور بڑے چہکنے والے انداز میں بولی کے یار قسم سے تم تو بوہت بڑی آئٹم ہو یار مطلب بوہت باریک بینی سے مشاہدہ کیا ہے تم نے اس سیکس کا. مطلب تم نے سیکس کو سیکس کے لحاظ سے نہیں بلکے ایک ہتھیار اور ضرورت کے لحاظ سے بیان کیا ہے جو کے مجھے بوہت بھایا ہے اور بلکل سہی عکاسی کی ہے تم نے مرد اور عورت کے درمیان ضرورتوں اور فاصلوں کی. یار دل کر رہا ہے کے میں تمہیں چوم لوں کیا میں تمہیں ایک کس کر سکتی ہوں؟ "لو بھلا اندھا کیا مانگے، دو آنکھیں!!" مجھے اور کیا چاہیے تھا میں بولا ہان لے لو لیکن یاد رکھنا ادھار ایک جنگ ہے اور فورن واپس دینا چاہیے وہ کھلکھلا کے ہنس پڑی میری اس شرارتی جملہ پی اور بولی کی ٹھیک ہے گال پے ایک کس کروں گی میں بولا ٹھیک ہے وہ آگے بڑھ کے مرے گال پے کس کرنے آئی اور جیسے ہی کوئی ایک انچ کا فاصلہ رہ گیا میری گال اور اسکے ھونٹوں کے بیچ مینے فورن چالاکی سے اپنا مو اسکی طرف موڑ لیا کے آنن فانن میرے ہونٹ اور اسکے ہونٹ مل گئے اور مینے تیزی سے اسکے ہونٹ چوم لیے یہ سب اتنی تیزی سے ہوا کے ایک لمحہ کو اسکی سمجھ نا آئی اور پھر تیزی سے اسنے موں پیچھے کر لیا ور میرے لوڑے پی ایک تھپڑ مارا اور بولی کمینہ ہے تو اور ہنسنے لگ گئی یہاں میرا بھی ہنسی سے برا حال ہو رہا تھا وہ بولی چل میرا ادھار واپس کر میں بولا آ کے لے لو وہ بولی کے بس اوپر اوپر سے ہی اوکے اور خبردار جو میرے نازک ہونٹ (میری شوھر کی امانت) کو چھوا تو میں بولا ہاں ہاں امانت دار بیگم صاحب پہلے ادھار واپس کرو پھر دیکھتے ہیں وہ میرے قریب آئی لیکن تھوڑا جھجھک رہی تھی تو مینے ہی آگے بڑھ کے اپنے ہونٹ اسکے نازک گلابی ھونٹوں پی رکھ دے اور اسکا نچلا ہونٹ جو کے مکھن کی طرح نرم اور ملائی کی طرح نازک تھا کو اپنے دو بھرے ہوۓ ھونٹوں میں ملا لیا اور ایک لمبی سی کس کر دی جب کس کو کوئی دس سیکنڈ گزر گئے تو ارم نے کس کو توڑنا چاہا لیکن میںنے اسکے ہونٹ دانتوں میں دبا دیا اور زبان سے ہلکا ہلکا رگڑتا رہا پہلے تو وہ مزاحمت دکھاتی رہی لیکن مینے فورن ایک ہاتھ اسکی گانڈ کے اوپر رکھ دی اور دوسرے ہاتھ سے اسکی چوتڑ کی ایک حصہ اپنے ہاتھ میں قابو کر لی اور اسکو مسلنے لگا ارم پہلے تو مجھے پیچھے دھکیلتی رہی اور شدید مزاحمت دکھاتی رہی لیکن مجھے وہ پہلے ہی چور سوئچ بتا چکی تھی باتوں باتوں کے ہر لڑکی تھوڑا درد چاہتی ہے تو مینے نہ چھوڑا اور ہر دھکا جو وہ مجھے مارتی میں اتنی ہی شدت سے اسکے ہونٹ چوستا رہا اور دونوں ہاتھوں سے چوتڑوں کو بھرتا رہا پھر آہستہ آہستہ اسکی مزاحمت میرے وجود کے آگے دم توڑتی گی اور وہ قطرہ قطرہ کر کے پگھلنے لگ گئی میرے ہاتھوں میں بلکل صحرا کی ریت کی طرح جو پکڑنے میں تو بوہت گرم ہوتی ہے لیکن ریزہ ریزہ کر کے ہاتھوں سے پھسلتی رہتی ہے اور پھر ہاتھ نہیں جلاتی بلکے راحت ملتی ہے ٹھیک اسی طرح بھابھی بھی اب میرے فرنچ کیسس کا بھرپور جواب دے رہی تھی اور اب وہ بھی اپنا سارا جسم میرے جسم کے ساتھ بھینچ رہی تھی اور اسکا چوڑا ابھرا ہوا مغرور سینا میرے سینے کے ساتھ یوں جرا ہوا تھا کے کے جیسے پسلیوں کے راستے میرے جسم میں داخل ہو جائے گا اور بھابھی کی انگ انگ میرے جسم کے ساتھ یوں پیوست ہو چکا تھا کے یک جان دو قالب کی مثال مجھے سمجھ لگنا شروع ہوو گئی تھی میری سانس پھول رہی تھی کیوں کے میں سیکس کا اتنا عادی نہیں تھا اور بھابھی کا کافی ایکسپیرینس ہو چکا تھا اور ساتھ مجھے یہ بھی ادراک ہو رہ تھا کے بھابھی اپنی باتوں سے بھی کئی درجے زیادہ گرم ہے اور اسکی ذات میں چھپا ایک سیکس کا یہ حصّہ سب کی نظروں سے اوجھل تھا لیکن تھا اسکی شخصیت کا حصہ ہی جو شاید انتظار کر رہا تھا کے کب کوئی منصف آئے اور اسکے اس حصّہ کو معاشرے کی زنجیروں سے آزاد کروائے.

    میرا لوڑا فل سخت ہو کے پیٹ کی طرف بڑھ رہا تھا اور بھابھی کو اس چیز کا بخوبی اندازہ ہو چکا تھا کے میرا لوڑا جاگ کے اسکی پھدی کو سلامی پیش کر رہا ہے سر وہ بھی حرامی ٹائپ کی لڑکی تھی سو وہ پہلے تھوڑا پیچھے ہوئی اور مرے لوڑے کو جیسی ہی تھوڑی جگہ ملی وہ اٹھ کے دھنی کے ساتھ لگ گیا اور بھابھی پھر دوبارہ میرے پیٹ کے ساتھ لگ گئی اور ساتھ ساتھ میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کے میرے ہونٹ کو اپنے نازک ھونٹوں کا نشئی بنا رہی تھی اور ساتھ ساتھ میرے لوڑے کو ہم دونوں کے جسموں کے بیچ بھیکچ کے وہ اپنا پیٹ جان بوجھ کے دایئں بایئں کر رہی تھی اور میرا لوڑا اس رگڑ کی وجہ سے پھٹ جانے کے قریب تھا اور مینے زندگی میں کبھی اپنی لوڑا اتنا سخت اور جاندار محسوس نہیں کیا تھا جتنا اس وقت کر رہا تھا شاید بھابھی کے سیکس سے بھرپور رومانوی جسم کا قصور تھا یا میرے دل کا کوئی حصّہ شروع سے ہی بھابھی کی محبّت میں قید تھا اور آج محبوب کو پا کے بوہت خوش تھا اور میرا لوڑا خوشی سے سر جھوم رہا تھا میں بھی کونسا پیچھے ہٹنے والا تھا ؟ میں بھی اپنی دونو مٹھیوں میں بہبھی کے چوتڑ کو بھینچ رہا تھا اور لمبی والی انگلی سے ارم کی گانڈ کے چھید کو سہلا رہا تھا اور جب بھی میں اپنی دونوں لمبی انگلیاں اسکے گانڈ کے چھید کے بیچ میں لگا کے سائیڈ پی گھساتا تو وہ اتنی گرم ہو جاتی کے اسکی سانسیں طوفانی ھوا کی طرح تیز ہو جاتی اور وہ کھا جانے والے انداز میں میرے ہونٹ چوستی اور اسکے دلکے بے ترتیب دھڑکنیں مجھے اپنے دل پے محسوس ہو رہی تھی میں چھوٹنے کے قریب تھا لیکن بڑی مشکل سے سب کچھ کنٹرول کیا ہوا تھا پھر میں مزید برداشت نہ کر سکا اور ارم کا ہاتھ پکڑ کے لوڑے پی رکھ دیا اور ارم نے بنا کچھ رسپانس دیت اپنی مٹھی میں میرا لوڑا جکڑ لیا اور پنٹ کے اوپر سے ہی اپنے ناخنوں اور انگلیوں کے کومبنشن بنا کے مٹھ لگا رہی تھی میں جذبات اور شہوت کی بلندیوں پی تھا اور اس لمحے مجھے اپنے کزن حسن سے بلا کا حسد محسوس ہوا کے کیسا عظیم مال اسکی ملکیت تھا کاش ایسا پوپٹ مال میرا ہوتا .

    ابھی ہم جاری ہی تھے کے نیہا جاگ گئی اور رونا شروع ہو گئی مجھے اس لمحے نیہا ایک عذاب لگی اور بھابھی نے کس کو توڑا اور بیڈ پے جھک کے اسکو چپ کروانے لگی مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھ اور میںنے لوڑا پنٹ سے باہر نکال کے بھابھی کے پیچھے گیا اور اپنا لوڑا انکے گانڈ کے چھید پے رکھ دیا اور کیوں کے وہ حکی ہوئی تھی تو لوڑا نلکل گند کے سوراخ کے اوپر ہی تھا اور میں اپنا لوڑا انکی بنڈ پے رگڑنے لگا لیکن بھابھی کو کرنٹ لگا اور وہ سیدھی کھڑی ہوگی اور نیہا کو اٹھا کے اپنے سنے سے لگا لیا اور لوری سنا کے چپ کروانے لگی اور واپس سوفی پی بیٹھ گئی اور ساتھ ہی میرا لوڑا ہاتھ میں لے لیا اور اسکی مٹھ مارنے لگ گئی وہ بڑے ردھم کے ساتھ مٹھ مار رہی تھی کبھی میرا لوڑا اس طرح پکڑتی کے صرف انگوٹھا اور پہلی انگلی میری ٹوپی پی ہوتی اور باقی تین انگلیوں سے خارش والے انداز میں ٹوپی کے نیچے والے ماس کو گدگدی کرتی اور میری جان نکال دیتی اور کبھی اپنی مٹھی کو سخت کر کے میرا لوڑا پورا ہاتھ میں لیتی اور اسکو اوپر سے نیچے تک مٹھ لگاتی مین گرم ہو رہا تھ اور مجھے قوی امید تھی کے اس وقت اگر تھرمامیٹر لگا دیا جاتا تو شاید وہ ویسے ہی پھٹ جاتا پھر مینے اپنا موں ارم کے مموں پی ٹکا دیا اور کپڑوں کے اوپر سے ہی اسکے مموں کو موں میں لینے لگ گیا ارم نے اپنا ہاتھ موں کے اس لے گئی اور لیسلی تھوک لگا کے میری ٹکا کے مٹھ مارنے لگ گئی میں اب برداشت نہ کر سکتا تھا اور ہر مٹھ کے ساتھ میرا سارا جسم اوپر کو اٹھ جاتا اور پچک پچک کی آواز کے ساتھ سارا کمرہ گونج رہا تھا اب مجھے پتا تھا کے کسی بھی لمحے میں فریگ ہونے والا ہوں اور جیسے ہی مجھے ادراک ہوا میںنے لوڑا تیزی سے ارم کے ہاتھ سے چھڑوایا اور اسکو ٹوپی سے گھٹ کے پکڑ لیا اور وہ کے ارم کے سامنے کھڑا ہو گیا اور جیسے ہی مینے لوڑے کی ٹوپی آزاد کی تو ایک تیز دھار نکلی منی کی اور سیدھا ارم کی گردن پی پڑی ارم جھٹکا کھا کے پیچھے ہوئی تو ساری منی گردن سے ہوتے ہوۓ اسکے مموں کے اندر چلی گئی اور پھر باقی دھاریں اسکے ممے اور گواد میں گر گئی یہ سب اتنا آنن فانن ہوا تھا کے بھابھی سمبھل نہ سکی اور میری منی انکے جسم کو تر کر گئی اور میں نڈھال ہو کے صوفہ پے گر گیا......................

    کہانی کا آخری حصہ آپ کو اگلی قسط میں بتاؤں گا جس میں بھابھی کی درد بھری رومانوی شاندار چدائی اور اسکے بعد کی باتیں بتاؤں گا. دل کھول کے تھنکس اور کمنٹس دو میرے جگرو. خوش رہو!!!!

  20. The Following 23 Users Say Thank You to Sexeria For This Useful Post:

    85sexy85 (06-01-2017), abba (05-01-2017), abkhan_70 (05-01-2017), Admin (05-01-2017), aloneboy86 (05-01-2017), arman724 (05-01-2017), farhan9090 (06-01-2017), imran imra (10-01-2017), katita (28-01-2017), Khushi25 (15-01-2017), landhiusman (28-01-2017), mayach (06-01-2017), mbilal_1 (09-01-2017), Mirza09518 (09-01-2017), ps62 (10-01-2017), ruldguld123 (05-01-2017), saamrocky (05-01-2017), sameer04 (07-01-2017), saqi870 (05-01-2017), sexeymoon (06-01-2017), WickedJoker (28-01-2017), Woodman (07-01-2017), ZEESHAN001 (12-07-2017)

Page 1 of 4 1234 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •